جونہیں کرنا چاہیے

جونہیں کرنا چاہیے

کہتے ہیں کہ بھٹو مر حوم کو پا کستان کو جو ہر ی طا قت بنانے کی سعی میں سزا ملی اور جنرل ضیا الحق کا جہا ز فضا میں اسی لیے اڑا دیا گیا کہ وہ پاکستان کو جو ہر ی طا قت کا اہل بنا دیا تھا ، تاہم اس کی سزا انہیں آئین شکن فوجی آمر پر ویز مشرف کی صورت میں دی گئی اب کیا ہو رہا ہے اس بار ے میں یہ کہاجا رہا ہے کہ جس طر ح ایک خاندا ن کو احتساب کی لپیٹ میں لیا جا رہا ہے اس سے پاکستان کو اقتصادی قوت بنا نے کا جر م سرزد ہو رہا ہے ، کیو ں کہ سی پیک منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان ایک اقتصادی قوت کے طورپر ابھرے گا جبکہ پا کستان پہلے ہی سے جو ہر ی طا قت ہے جس کے نتیجے میں پاکستان دنیا کا ایک اہم ترین ملک بن جا ئے گا ، کہ اس خاندان کے پانا ما لیکس کے کر دار کے بارے میں تحقیقات سے بڑھ کر معاملہ گزشتہ پچیس تیس سال کے معاملا ت تک پہنچا دیا گیا ہے اور خاندان کے فوت ہو جانے والے افراد کا بھی احتساب یا حساب مانگا جا نے لگا ہے۔ جس کسی نے اس امر کا اظہا ر کیا ہے ، اس بارے میں کہاں تک بات کوسچ قر ار دیا جا سکتا ہے یہ تبصرہ کر نے والے ہی بتا سکیں گے البتہ کچھ کچھ درست بھی محسو س ہو رہا ہے کہ جب سے نو ا زشریف برسراقتدار آئے ہیں اور سی پیک منصوبے کی شروعات ہو ئی تب سے ان کی حکومت کو باندھے رکھنے کا بھی عمل جاری ساری ہے ۔ جے آئی ٹی میں اپنی پیشی کے دوران حسین نو از نے ایک فکر انگیز بات کہی ہے جس کے بارے میں کہاجا سکتا ہے کہ اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ انہو ں نے ڈیڑھ سطری بیان میں پا کستان کی تاریخ بیان کر دی ہے ان کا کہنا ہے کہ ہما رے ساتھ حسین شہید سہر وردی کے دور سے ایسا ہی ہو تا چلا آرہا ہے ۔ مرحوم لیا قت علی خان کے دور میں گوادر کو حاصل کر نے کی سعی ہو ئی ، وہ دنیا سے ہی فارغ کردیئے گئے ، فیر وزخان نو ن کے دور میںگوادر کی خرید ار ی کا معاہد ہ تکمیل کو پہنچا تو ان کی حکومت رخصت کر دی گئی۔ اس ملک میں بندو ق کی نو ک پر وزیر اعظم مقر ر کیے جا تے رہے اور بندوق کی نو ک پر ہی ہٹائے جاتے رہے ہیں چودھری محمد علی سابق وزیراعظم کاکہنا ہے کہ گورنر غلا م محمد نے محمد علی بوگرہ کو طلب کیا وہ بھی وہا ں مو جود تھے اور غلا م محمد بار بار اصرار کر رہے تھے کہ محمد علی بوگرہ وزارت اعظمیٰ سنبھالیں مگر محمد علی بوگر ہ کا مو قف تھا کہ منتخب اسمبلی تو ڑ دی گئی ہے اوروہ اب پارلیمنٹ کے رکن نہیں رہے پھر کیسے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں کہ اسی اصر ا رکے دوران کمر ے کے عقب میں راہد اری میں کچھ ہل چل ہوئی تو انہو ں نے پر دہ اٹھاکر دیکھا کہ ایوب خان دو مسلح جو انو ں کے ساتھ بندو ق تانے کھڑ ے ہیں ۔ محمدعلی بوگرہ کی نظر پڑی تو انہو ں نے نیم شکستہ دل سے ہاں کر دی ۔پا کستان میں سول حکومت کی تاریخ کا مطالعہ کیا جا ئے تو اس کو کا م کرنے ہی نہیں دیاجا تا یا تو وقت سے پہلے رخصت ہو جا تی یا جا م ہو کر رہ جا تی گویا پا کستان میں جو نہیں ہونا چاہیے وہ ہو تا ہے جو ہونا چاہیے وہ نہیں ہو تا ، قومو ں کے عروج کا ایک ہی را ز ہے کہ جو قوم جتنی تعلیمیا فتہ ہو گی وہ اتنی بلند ی پر فائز ہو گی ۔ پا کستان میں شرح خواند گی کیا ہے اس بارے میں اعدا د وشما ر بھی شرما تے ہیں پا کستان کی ہر سول حکومت اور غیر سول حکومتیں ادعا تو یہ کر تی رہی ہیں کہ وہ تعلیم پر سب سے زیا دہ توجہ دے رہی ہیں اور بجٹ میںقابل ذکر رقم رکھی گئی ہے ۔گزشتہ دنو ں جو بجٹ پیش ہو ئے اس میں بھی یہ دعویٰ دہرا یا گیا ہے مگر آبادی کے تنا سب سے جا ئزہ لیاجائے تو اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات بنتی ہے۔ سرکا ری اسکولو ں کے اعدا د تو شرمنا ک حد تک گرے ہو ئے ہیں نجی اسکو لوں کی لو ٹ ما رنے تو عوام کے لیے تعلیم کے دروازے بند کررکھے ہیں ، حکومت بھی اس لوٹ کھسوٹ پر گونگی اوربہر ی ہے ۔ بھارت کے ایک ممتا ز عالم دین مولانا قلب صادق نے ایک عالمی سیمینار میں انکشا ف کیا کہ وہ ایک مرتبہ بھو ٹان تشریف لے گئے اور جن مت کے پیرو کا ر کے ہو ٹل میںقیا م کیا ، وہا ں انہو ں نے ہو ٹل کے مالک سے استفسار کیا کہ جن مت کے لو گ سو فی صد تعلیم یا فتہ ہیں اور دولت مند بھی ہیں یہ کیسے ممکن ہو ا تو جن مت کے پیر و کا ر نے جو ا ب دیا کہ ہم لو گ وہ کرتے ہیںجو کرنا چاہیے اور وہ نہیںکرتے جو نہیںکر نا چاہیے ۔چنا نچہ ہما ری قوم کو جتنے اسکول چاہیے تھے اتنے ہی قائم کر ڈالے ، چنا نچہ آج ہما ری قوم دنیا میں سب سے زیادہ تعلیم یا فتہ تسلیم کی جا تی ہے اور ترقی یا فتہ بھی کیو ں کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن ہی نہیں ۔ جن مت سے بھی زیا دہ سبق آموز واقعہ یہ ہے کہ جب 1948ء میں اسرائیل کا وجود قائم ہو ا تو یہودیو ں کا ایک انتہا پسند طبقہ صیہو نیوں کا ایک وفد اپنے چیف راہب کے پاس لاکھو ں ڈالر لے کر پہنچا اور درخواست کی کہ اسرائیل میں ایک ایسی عظیم یہو دی عبادت گا ہ بنا دی جائے جس کی مثال نہ تو مسلمانو ں کے پا س ہو نہ عیسائیوں کے پا س،کیو ں کہ وہ اپنے '' یا ہو'' (خدا ) کا شکر یہ ادا کرنا چاہتے ہیں ، جس پر چیف راہب نے تاریخی جوا ب دیا کہ اگر وہ ہیر ے تراش کر بھی عبادت گا ہ بنا دیں تو اس میں عبادت کرنے سے یا ہو کو کوئی فرق نہیں پڑتا جیسا کہ کچے گارے کی عبادت گا ہ سے فرق نہیں پڑتا ، جو دولت تم اس مقصد کے لیے لا ئے ہو وہ مجھے دے دو یہ رقم ایک عظیم مقصد کے لیے محفو ظ کرلی جائے گی جسے وہ قوم کی جہا لت اور غربت ختم کر نے پر صرف کر یں گے ۔ یہ ایک راہب کا وژن تھا آج اس کی قوم کس مقام پرکھڑی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ دولت صیہو نیوں کے قبضے میں ہے ۔تعلیم میں بھی سب سے آگے اور سو سال نہیں کئی سو سال آگے ہیں ۔قومیں اکھاڑ پچھا ڑ سے نہیں بنا کر تیں ، آئن اسٹائن کو جب نوبل انعام سے نو از گیا تو اس نے اس انعام کی رقم کا اسی فیصد اسرائیل کو بچوں کی تعلیم پر صرف کر نے کے لیے دے دیا اور باقی میں سے انیس فی صد دیگر فلا حی مقاصد کے لیے مختص کردیئے تھے او ر ایک فی صد جی ہاں صرف ایک فی صد اپنے اخراجات اور قوم کے بعض خیر کے کا مو ں کے لیے اپنے پا س رکھ چھو ڑے تھے ۔ یہ بات مسلم امّہ کو کب سمجھ میںآئے گی ۔

متعلقہ خبریں