پاک افغان تعلقات میں بہتری کی نئی امید

پاک افغان تعلقات میں بہتری کی نئی امید

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سرد مہری کا خاتمہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے جس کی وجہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن سمٹ کے دوران افغان صدر اشرف غنی اور پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات ہے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے سربراہان نے پاک افغان تعلقات کو معمول پر لانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جوافغانستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گرد کارروائیوں کے بعد کشیدگی کا شکار تھے۔ مذکورہ واقعات کے بعد افغانستان کی جانب سے پاکستان کے بارے میں سخت بیانات بھی جاری کئے گئے تھے لیکن آستانہ میں ہونے والی ملاقات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ پاک افغان تعلقات پر جمی ہوئی برف پگھلنا شروع ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہوں کی ملاقات اور تعلقات کو معمول پر لانے کا عزم کوئی معمولی پیش رفت نہیں ہے۔پاکستان اور افغانستان کے جغرافیے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ بات باآسانی کہی جاسکتی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے بغیر استحکام حاصل نہیں کرسکتے۔ خاص طور پر افغانستان میں قیام ِ امن کے لئے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ناگزیر ہیں۔ آستانہ میں پاک افغان سربراہان کی جانب سے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش ایک قابلِ ستائش اقدام ہے۔ اس ملاقات میں رسمی باتوں کے علاوہ مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور ملاقات کے بعد سامنے آنے والے بیان میں دو نکاتی ایجنڈے پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ 

پہلے نمبر پر، دونوں ممالک نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی دوبارہ بحالی پراتفاق کیا ہے اور اس حوالے سے چار فریقی کوآرڈینیشن گروپ (کیو سی جی ) کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ ایک اچھی خبر ہے جس سے پاکستان میں بھی اشرف غنی کی ساکھ میں بہتری آئے گی۔ پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مطابق اشرف غنی طالبان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے مخالف ہیں اور ہمیشہ سے ایسے کسی بھی مذاکرات کی بحالی کے مخالف رہے ہیں۔لیکن اگر حالیہ ملاقات کے بعد کیو سی جی کی بحالی پر اشرف غنی کی آمادگی کو دیکھا جائے تو افغان صدر کا یہ تاثر غلط ثابت ہوتا ہے۔ بھارت کی غیر موجودگی اور مذاکرات کی میز پر واحد فیصلہ ساز کی ذمہ داری کے بغیر کیو سی جی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جسے پاکستان دیگر فورمز کے مقابلے میں زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ اشرف غنی کے حالیہ پاکستان مخالف بیانات کو نظر انداز کرکے اورمفاہمت کی پالیسی اپنا کر پاکستان نے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے جس کے دورس نتائج سامنے آئیں گے۔دوسرے نمبر پر، اشرف غنی اور نوازشریف دہشت گردی کے خلاف ایک دوسرے کے اقدامات کی تصدیق کے لئے ایک ویری فیکیشن میکنزم کے قیام پر بھی راضی ہوئے ہیں ۔ ایک جامع ویری فیکیشن میکنزم ہی کسی بھی دہشت گرد کارروائی کے بعد ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے اور دہشت گردوں کے خلاف عملی اقدامات میںایک دوسرے کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے کے واقعات کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ لیکن اس حوالے سے بھی دو قسم کے ویریفیکیشن میکنزم کی ضرورت ہوگی ، پہلے تو اس بات کی تصدیق کرنی ہوگی کہ آیا سرحد کے دوسری طرف رہنے والے کسی بھی فرد کا دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی میں کوئی کردار ہے یا نہیں اور دوسرا یہ کہ کیا اس ملک نے اپنی حدود میں رہنے والے دہشت گردی کے مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے یا نہیں۔اگرچہ یہ سب کچھ کہنا آسان ہے لیکن ایسا کرنا کافی مشکل کام ہے کیونکہ تصدیق کے لئے بہتر کوآرڈینیشن، معلومات کے تبادلے اور بہتر ٹیکنالوجی کے علاوہ ٹیکنالوجی کے استعمال کی مہارت میں اضافہ کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک کو چین اور امریکہ جیسے ممالک کی ٹیکنالوجی کی بہتر استعمال اور کسی بھی تنازعے کی صورت میں ثالثی کے لئے سرپرستی بھی درکار ہوگی۔ ان اقدامات کو یقینی بنائے بغیر ویریفیکیشن کا نظام بھی ایک دوسرے پر الزام تراشی کا ایک اور پلیٹ فارم بن کر رہ جائے گا۔نواز شریف اور اشرف غنی کی ملاقات کے بعد امریکہ اور چین کو بھی چاہیے کہ وہ کیو سی جی کی حمایت کا کھلے عام اعلان کریں اور اس حوالے سے کئے گئے اپنے وعدوں پر پورا اترنے کے عزم کا اعادہ کریں۔اشرف غنی کو چاہیے کہ وہ اپنے ہائی پیس کونسل چیف کو طالبان کے ساتھ رابطے بڑھانے کا حکم دیں تاکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل جلد از جلد شروع کیا جاسکے ۔ مذاکرات کے حوالے سے بھی اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ پاکستان مذاکراتی ٹیم کا سربراہ بننے کی بجائے صرف سہولت کا کردار ادا کرے کیونکہ پاکستان کی سربراہی میں کئے جانے والے مذاکرات طالبان اور افغان حکومت کے لئے قابلِ قبو ل نہیں ہوں گے۔ پاکستان کی مذاکرات کی سربراہی نہ کرنے کی صورت میں اشرف غنی کو بھی مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنے سے باز رہنا ہوگا۔ اگر دونوں ممالک یہ سارے اقدامات کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تب بھی تعلقات میں بہتری کی فوری امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب بسنے والے لوگوں کو صبر وتحمل سے کام لینا ہوگا۔اگرچہ پاک افغان رہنمائوں کی ملاقات اور اس سے آنے والے نتائج خوش آئند ضرور ہیں لیکن صورتحال کی مکمل بہتری ایک طویل المیعاد عمل ہو سکتا ہے۔
(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں