مہنگائی سی مہنگائی

مہنگائی سی مہنگائی

خبر لگی ہے کہ منقسم اپوزیشن ، بلکہ اپوزیشن کی بجٹ پر عدم دلچسپی کے نتیجے میں حکومت مالیاتی بل اور بجٹ منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کی ان کے لیڈر کی تقریر ٹی وی چینلز پر براہ راست نشرنہ کرنے کا بہانہ بنا کر بجٹ پر بحث کے اجلاس کا بائیکاٹ قوم پر ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ ایک ایسی قوم جو پہلے ہی سے مہنگائی کے دلدل میں گوڈ ے گوڈے پھسنی ہوئی ہے لگتا ہے کہ اپوزیشن کے پاس سالانہ بجٹ پر بحث کے لئے کوئی ٹھوس مواد ہی موجود نہ تھا ، اس لئے تو اس نے بجٹ پر بحث کے اجلاس سے واک آئوٹ کر کے انتہائی غیر ذمہ داری اور قومی مسائل سے بے رخی کا ثبوت دیا ہے۔ ایک ایسی اپوزیشن جو اُسکے لیڈ کی تقریر ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر نہ کرنے کے ایک نان ایشو کو انا کا مسئلہ بنا کر بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کرے قوم اس سے ان کے مزید اہم مسائل میں دلچسپی لینے کی کیا توقع رکھ سکتی ہے۔ آیئے اب آگے بڑھتے ہیں ہم تو پہلے ہی سے یہ سوچ کر ہلکان ہو رہے تھے ، کہ سرکار نے یہ جو گزشتہ دنوں یکلخت اسمبلی کے اراکین اور یہاں ہمارے صوبے میں بھی یہ بیک جنبش قلم اپنی تنخواہوں میں 500فیصد اضافہ کر کے خود پر سخاوت کا جو ریکارڈ قائم کیا ہے پارلیمانی تاریخ میں اُسکی مثال نہیں ملتی ۔ اس کے مقابلے میں موجودہ وفاقی بجٹ میں سرکار نے جو دو سخاکا عظیم کارنامہ انجام دیتے ہوئے جہاں سرکاری ملازمین اور پنشن زدہ افراد کے لئے ماہانہ ادائیگیوں میں 10فیصد کا جو اضافہ کیا ہے وہاں مزدور کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 14ہزار سے بڑھا کر پندرہ ہزار کردی ۔ اس پر یہی کہہ سکتے ہیں 

خردکانام جنوں رکھ دیاجنوںکا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
مہنگائی میں ہو شربا اضافہ ہمارے سامنے ہے ، بجٹ اعلان کے فوراً بعد جبکہ اسکی تجاویز یکم جولائی سے لاگو ہونگی ۔ ادویات روزمرہ کے استعمال کی اشیاء اور سبزیوں کی قیمتیں جس طرح بڑھائی جارہی ہیں حکومت کے پاس اُن پر قابو پانے کا کوئی میکنزم موجود نہیں اور اگر موجود ہے تو وہ اسے لاگو کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ چند ایک مثالیں پیش خدمت ہیں۔ کچھ روز پہلے تک ٹماٹر جن کے نرخ ڈیڑھ سو روپے تک پہنچ گئے تھے ٹماٹر کی فصل پہنچنے کے باوجود بھی 30'40روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں ان دنوں جن کی قیمت 15تا20روپے کلو سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ پھل ہم جیسے لوگ تو صرف خواب میں ہی کھا سکتے ہیں۔ ایران' توران' چائنا' سوئٹزرلینڈ اور نہ جانے کن کن ممالک کے نام سے سیب کی قیمت 200 سے ڈھائی سو روپے تک بتائی جاتی ہے۔ کیلا بھی ڈیڑھ سو روپے در جن سے کم میں دستیاب نہیں۔ یہ آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتیں سن کر جب ہم سوکھے منہ اور زرد چہرے سے دکاندار کی طرف دیکھتے ہیں تو اس کا جواب ہوتا ہے مخہ پریدہ' سامنے سے ہٹو۔ گوالے نے اچانک دودھ میں 20روپے کلو کے اضافے کی خوشخبری سنا دی۔ ہم نے وجہ پوچھی تو بولا' مویشیوں کا چارہ مہنگا ہوگیا ہے' مجبوری ہے اب ہم انہیں کیا بتاتے کہ حضرت! تمہارے مویشی ہم سے زیادہ خوش نصیب ہیں ان کے چارے کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود انہیں بھوکا رہنا نہیں پڑتا۔ کن کن چیزوں کا رونا رویا جائے۔ لہسن روزانہ استعمال کی ایک چیز ہے۔ گزشتہ سال تک سبزی منڈی میں چائنا سے منگوائے گئے لہسن کے انبار لگے ہوتے اچھی کوالٹی کا موٹے پھلیوں والا لہسن تھا' قیمت بھی گوارہ تھی۔ دو ڈھائی سو میں کلو مل جاتا اب یہ لہسن' سبزی منڈیوں میں نایاب ہے۔ دکانداروں سے نایابی کی وجہ پوچھی' کسی نے خاطر خواہ جواب نہیں دیا سب یہی کہتے کہ چائنا نے اس کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ کوئی دلیل نہ تھی یہ سب درمیان والے آڑھتی کی کارستانی معلوم ہوتی ہے۔چائنا کو اپنا لہسن پاکستان بھیجنے میں کیا تردد ہوسکتا ہے جبکہ ہم ایک عرصے سے سنتے آئے ہیں کہ ان کی اور ہماری دوستی ہمالہ سے بلند اور سمندر سے بھی گہری ہے اور پھر چائنا نے سی پیک کے نام سے ہم پر جو مہربانی کی ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس منصوبے کے نتیجے میں پاکستان آئندہ چند سالوں میں جنت نشان بن جائے گا۔ اتنی کچھ مہربانیوں کے باوجود چائنا کی جانب سے لہسن جیسی معمولی چیز پر پابندی ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ اب لہسن کے نام سے مقامی پیداوار کا کچرا ٹوکریوں میں پڑا نظر آتا ہے اور یہ کچرا بارہ سو روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ کرلو جو کرنا ہے۔ اب ہم صرف یہ بتانا چاہتے کہ ایک اندازے کے مطابق اشیاء صرف کی قیمتوں میں 60فیصد اضافے کے مقابلے میں تنخواہوں میں 10فیصد اضافے کا کیا جواز بنتا ہے اور مزدور کی ماہانہ اجرت میں ایک ہزار روپے اضافہ کے بعد اب وہ پندرہ ہزار روپے وصول کریں گے۔ شاعر نے جسے طول شب فراق کہا ہے ہم اسے مہنگائی کہتے ہیں۔ ہمارے علم معاشیات کے لال بجھکڑ سے استدعا ہے کہ وہ ذرا پندرہ ہزار روپے میں 5افراد کے کنبے کا ماہانہ بجٹ بنا کر تو دے دیں۔
دعویٰ بہت ہے علم ریاضی میں آپ کو
طول شب فراق ذرا ناپ دیجئے

متعلقہ خبریں