عبرت گردش لیل و نہار

عبرت گردش لیل و نہار

تاریخ میں مسلمانوں کو بحیثیت ملت و قوم جتنے بھی خونچکاں اور عبرت آگیں حادثات پیش آئے ہیں' ان کے پیچھے مسلمان قیادت اورعوام کا اپنا وہ کردار ہے جو قرآن و سنت سے ہٹ کر ہوتا ہے۔ تاریخ کایہ اٹل فیصلہ ہے کہ جب کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی وضع کردہ حدود سے تجاوز کرتی ہے تو قدرت اپنے فطری و تکوینی اصول کے تحت اس بگڑی قوم پر ہاتھ ڈالتے وقت یہ نہیں دیکھتی کہ اس کا مذہب و ملت اور تہذیب و ثقافت کیا ہے؟۔ اس لحاظ سے جب ہم تاریخ عالم پر نظر ڈالتے ہیں تو ملت اسلام کو جتنے بھی سانحات سے دو چار ہونا پڑا ان کے پیچھے خارجی سے زیادہ داخلی عوامل کار فرما تھے۔ ان داخلی عوامل میں بہت سی چیزیں تھیں لیکن چند ایک بڑے عوامل یہ تھے کہ مسلمانوں کی قیادت میں جذبہ خودی و حریت کا شدید فقدان پیدا ہوا تھا۔ ہم بنی امیہ اور بنی عباس کی بات نہ کرتے ہوئے بھی اتنی بات لکھنے پر ضرور مجبور ہو جاتے ہیں کہ قرآن کریم میں قوموں پر عذاب آنے کی جو مختلف صورتیں بیان ہوئی ہیں ان میں سے سب سے خوفناک شکل تفرقہ بازی اور خانہ جنگی ہے۔ اب کوئی سقوط بغداد (بعہدمتعصم باللہ) سے لے کر سقوط ڈھاکہ اور سقوط بغداد' لیبیا اور دمشق وغیرہ (آج کے دور میں ) کے اسباب و عوامل کا گہرا مطالعہ کرے تو فرقہ واریت کا وہی پرانا مرض سامنے آئے گا جس کا ذکر سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اپنی مایہ ناز تصنیف ''خلافت و ملوکیت'' میں کیا ہے کہ ''نئے مدعیان خلافت( بنو عباسیہ) نے عام مسلمانوں کو اطمینان دلایا تھا کہ ہم خاندان رسالت( ہاشمی) کے لوگ ہیں۔ ہم کتاب اللہ اور سنت رسولۖ کے مطابق کام کریں گے لیکن حکومت حاصل کرنے کے بعد زیادہ مدت بھی نہ گزری تھی کہ انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ یہ سب کچھ فریب تھا۔ عباسیوں نے د مشق میں جو قتل عام کیا اس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ پھر آخری عباسی خلیفہ مستعصم کو ہلاکو فتنے نے جس عبرت کے ساتھ قتل کرکے بغداد کی عملاً اینٹ سے اینٹ بجا دی اس میں خلیفہ کے خاندان کے افراد کے درمیان اختلافات اور دشمنیوں کے علاوہ اس کے وزیر خزانہ ابن علقمی کی غداری کا بھی بڑا عمل دخل تھا۔بنی امیہ کو جو سزا قدرت نے عباسی خلیفہ سفاح کے ذریعے ان کے ہزاروں بے گناہ افراد کے قتل اور ان کی قبروں تک اکھڑوانے کی صورت میں دی وہ اس بھیانک ظلم کا نتیجہ تھا جو اس نے میدان کربلا میں کیا تھا۔ ظلم ایک ایسی چیز ہے جسے اللہ معاف نہیں کرتا۔ اس لئے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے اور تاریخ میں جابر و ظالم اور مطلق العنان حکمران جب حد سے گزر جاتے ہیں تو وہ ظلم کی انتہا کرتے ہیں۔ ظلم جب ہوتا ہے تو اس کے اثرات فضا میں اڑ کر غائب نہیں ہوتے بلکہ اس کے بیج ہوتے ہیں جس سے نئے پودے نکلتے ہیں جو بڑے نوکیلے اور خار دار ہوتے ہیں اور پھر ایک دن یہ اپنے بونے والے کو بھی اپنی لپیٹ میں ضرور لیتے ہیں۔ بنی امیہ اور بنی عباسیہ کے درمیان دشمنی کے بعد سر زمین اندلس جس طرح مسلمانوں پر تنگ ہوئی اور وہاں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام اور خواتین کی بد ترین آبرو ریزی اور اسلام کو رسوا کرنے والے مسلمان بادشاہ ہی تھے جو ایک دوسرے کے خلاف وہاں کے عیسائی حکمرانوں سے مدد لیا کرتے تھے۔ جس کا نتیجہ اس صورت نکلا کہ اندلس کے مسلمان ایسے تتر بتر ہوئے کہ آج یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں چلے گئے۔ ویسے تھوڑے سے فرق کے ساتھ عظیم عثمانی خلافت کے آخری خلیفہ کا انجام عظیم مغل سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے انجام سے کس قدر مماثلت رکھتا ہے۔ 1923ء کو کمال اتا ترک نے اس خلافت کے خاتمے کا اعلان کر دیا جس کی سرحدیں تین بر اعظموں پر پھیلی ہوئی تھیں۔ اس اعلان سے دنیا کے کروڑوں مسلمانوں پر موت کا سا سکتہ طاری ہوا تھا اور سب سے شدید صدمہ بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو ہوا تھا حالانکہ ان بے چاروں اور برطانیہ کے محکوموں کا کوئی نزدیکی تعلق اس سلطنت سے نہ تھا اور شاید اس عظیم سلطنت کے مٹنے کاغم آج بھی تازہ ہے۔ مسلمانوں کی دعائیں تھیں کہ عثمانی خلافت قائم رہے اور پھر دوبارہ ایسا سانحہ دیکھنے کو نہ ملے لیکن 16 دسمبر 1971ء کو مسلمانوں پر سب سے بڑی قیامت سقوط ڈھاکہ کی صورت میں برپا ہوئی اور آج امت مسلمہ ایک دفعہ پھر گردش لیل و نہار میں پھنس گئی ہے ۔عراق' افغانستان' شام' یمن' لیبیا' مصر' تیونس اور دیگر مسلم خطے جن بلائوں سے دو چار ہیں وہ تو سب کو معلوم ہے لیکن اب مملکت خداداد میں سیاسی جماعتوں کے اندر جو خوفناک انتشار برپا ہے اور تازہ بہ تازہ سعودی عرب کی ''قیادت'' میں ایران اور اب اپنے ہی ہم مسلک' ہم زبان' ہم نسل ' ہم مذہب اور ہم علاقہ قطر کے خلاف جو شورش اٹھی ہے اور ٹرمپ صاحب نے جو ثالثی کی پیشکش کی ہے اس حوالے سے اپنی تاریخ کے متذکرہ بالا واقعات و سانحات ہی یاد آسکتے تھے۔ پاکستان بے چارہ اور اس کے وزیر اعظم کا اعلان ہے کہ ''ہمارے لئے سب اہم ہیں'' یعنی سعودی عرب' ایران' قطر اور دیگر خلیجی ممالک ۔ جبکہ اللہ کا حکم یہ ہے کہ '' اگر دو مسلمان گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کریں' (لیکن) اگر ان میں سے ایک گروہ زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے کے خلاف مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جائو یہاں تک کہ ظالم' ظلم سے باز آجائے اور جب باز آجائے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرلیا کرو کیونکہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں''۔ ہے کوئی جو آج امت مسلمہ کے درمیان اہم کردار ادا کرنے کے لئے ایک مضبوط اتحاد (او آئی سیO.I.C) بنا کر اٹھے؟ ورنہ تاریخ کہیں اپنے آپ دہرا نہ لے۔ معاذاللہ!

متعلقہ خبریں