ذکر ایک تحقیق کا

ذکر ایک تحقیق کا

کہتے ہیں کام کرنے کی عادت پڑجائے تو پھر بندے سے نچلا بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے انگریزوں کو بھی کام کرنے کا مرض لاحق ہے وہ ہر وقت نت نئی تحقیقات میں اپنے آپ کو مصروف رکھتے ہیں۔ اب برطانیہ میں ڈاکٹروں نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ شادی شدہ حضرات کو ہارٹ اٹیک کا خطرہ غیر شادی شدہ لوگوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔ یوں کہیے کہ وہ سادہ الفاظ میں یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر دل کی بیماری سے بچنا ہے ہارٹ اٹیک کا مقابلہ کرنا ہے تو پہلی فرصت میں شادی کرلو !برٹش ہارٹ فائونڈیشن سے منسلک ڈاکٹر مائیک نیپٹن کا کہنا ہے کہ اگر آپ شادی شدہ ہیں تو بلڈ پریشر یا دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کے خطرے کی صورت میں آپ اپنے پیاروں کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ آپ کی مدد کریں اور ان کے تعاون سے آپ بہتر انداز میں ان بیماریوں کے خلاف جنگ جاری رکھ سکتے ہیں !سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی تحقیق کے نتیجے پر اندھا دھندیقین کر لینا ہمارے نزدیک جلد بازی ہے حماقت ہے۔ ہمیں اپنے طور پر بھی اس قسم کے معاملات پر غور و فکر کرتے رہنا چاہیے ۔مغرب میں اس قسم کی جتنی بھی تحقیق ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد دو جمع دوپر ہوتی ہے وہ چند سو یا چندہزارلوگوں سے انٹرویو لیتے ہیں اور پھر ان انٹرویوز کی روشنی میں اپنے تحقیقی نتائج کا اعلان کردیتے ہیں۔ ہمارا ذاتی خیال یہ ہے کہ یہ باتیں اتنی آسان نہیں ہوتیں صرف انٹرویو سے بات کب بنتی ہے اس سے پہلے کہ ہم اپنے کالم کو سائنسی مقالے کے روپ میں ڈھال کر آپ کو بور کریں بہتر یہی ہے کہ ہم آپ کے سامنے اپنامشاہدہ پیش کردیں ! مابدولت کا یہ خیال ہے کہ ہر شخص زندگی کی تشریح اپنے تجربات کے حوالے سے کرتا ہے۔ مغرب میں کی گئی تحقیق میں جو بات اہم ہے وہ شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونا نہیں ہے بلکہ وہ حالات ہیں جن میں ایک شخص اپنی ازدواجی زندگی گزارتا ہے ۔شادی کے حوالے سے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ زندگی کے ساتھی کی مثال بھی خربوزے جیسی ہے جس کا خربوزہ میٹھا نکل آئے اس کے وارے نیارے ہوجاتے ہیںبصورت دیگر پھیکے خربوزے پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے۔ مغرب والوں کی بات دوسری ہے وہ خربوزہ بدلنے میں دیر نہیں کرتے جبکہ ہم ساری زندگی ایک دوسرے کے گلے کا ہار بنے رہتے ہیں۔شایدیہی وجہ ہے کہ مغرب میں خاندان بکھرتا چلا جارہا ہے جب خاندان ٹوٹتا ہے تو پھر معاشرہ بھی تہذیبی بنیادوں پر قائم نہیں رہ سکتا اگر ان کی تحقیق میں یہ بات بتائی جاتی ہے کہ شادی کرکے دل کے دورے سے بچا جاسکتا ہے تو اچھی بات ہے۔ اس طرح وہاں خاندان کے بچنے کی امید تو کی جاسکتی ہے !اگر شادی کامیاب ہے گھر میں پیار محبت کی فضا قائم ہے تو پھر تو کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اگر شادی ناکام ہے تو یہ بھی اچھی خاصی دل کی بیماری ہے بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اس قسم کے جوڑے کو ہارٹ اٹیک کی ضرورت ہی نہیں ہے !روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں والی کیفیت ہوتی ہے بہتر یہی ہے کہ ہم کامیاب شادی کے حوالے سے بات کریں گھر میں پرسکون فضا کی بات کریں اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں تو خوش وخرم زندگی گزاری جاسکتی ہے اس لیے تحقیق کامیاب شادی کے حوالے سے ہونی چاہیے۔ وہ کون سے عوامل ہیں جو ایک شادی کو کامیاب شادی کے روپ میں ڈھالتے ہیں؟اس حوالے سے ہمارا اور مغرب کا بیانیہ مکمل طور پر جدا ہے وہ اپنے معاشرے اپنی تہذیب کے حوالے سے شادی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں ہمارے اپنے حوالے ہیں!شادی زندگی کی موٹروے پر شروع ہونے والا ایک نیا سفر ہوتا ہے ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے ان حالات میں بہتر صورت یہی ہوتی ہے کہ مسائل سے گھبرانے کی بجائے ان کا حل تلاش کیا جائے۔ کہتے ہیں مسائل کی مثال واشنگ مشین جیسی ہوتی ہے یہ ہمیں نچوڑتے ہیں گھماتے ہیں اٹھا اٹھا کر پٹختے ہیںلیکن آخر میں ہم صاف ستھرے، روشن چمکداراور پہلے سے بہتر حالت میں باہر نکل آتے ہیں۔ویسے کامیاب شادی کا ایک نسخہ ہماری زنبیل میں بھی موجود ہے ہم نے بہت پہلے کہیں پڑھا تھا کہ A good marriage is the union of two good forgivers (ایک کامیاب شادی دو اچھے معاف کردینے والوں کا ملاپ ہوتا ہے) اگر ہم زیادہ پیچیدگیوں میں الجھنے کی کوشش نہ کریں تو اتنی سی بات تو سب کی سمجھ میں آتی ہے کہ انسان غلطی کا پتلا ہے آدم کا بیٹا ہو یا حوا کی بیٹی دونوں غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے جاتے ہیں۔ اگر اپنی غلطی تسلیم کرلی جائے ایک سے غلطی ہو اور دوسرا معاف کردے تو مسئلہ پیدا ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیتا ہے اور اگر صورتحال یہ ہو کہ تم ایک کہو میں دس کہوں گا تو پھر بات بجائے بننے کے بگڑتی ہی چلی جاتی ہے ایک زمانہ وہ بھی تھا جب شادی سے پہلے لڑکی کو باقاعدہ یہ درس دیا جاتا تھا کہ بیٹی جس گھر میںتمہاری ڈولی اترے گی اب وہا ں سے تمہارا جنازہ ہی نکلے گا باپ بیٹی سے کہتا کہ بیٹی ہنسی خوشی آئو گی تو ہمارے گھر کے دروازے تمہارے لیے کھلے ہیں اور اگر ناراض ہو کر آئو گی تو پھر ہمارے پاس تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔بیٹی اس قسم کی تربیت کے بعد اپنے گھر کو آباد کرنے کی کوشش کرتی ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتی ! اس زمانے میں طلاق کی بہت کم خبر ملتی۔ آج طلاق کی شرح ہمارے معاشرے میں روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے۔ کالم کے آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہارٹ اٹیک سے اسی صورت میں بچا جاسکتا ہے جب آپ کی ازدواجی زندگی خوشگوار ہو۔

متعلقہ خبریں