مشرقیات

مشرقیات

یحییٰ بن یحییٰ غسانی اپنی قوم کے دو آدمیوں سے نقل کرتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے اردن کے کنارے پر پڑائو ڈالا تو ہم نے آپس میں کہا دمشق کا عنقریب محاصرہ ہونے والا ہے اس لیے ہم دمشق گئے تاکہ محاصرہ شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں سے خردید فروخت کرلیں۔ ہم ابھی دمشق میں تھے کہ دمشق کے کمانڈر نے ہمارے پاس بلانے کے لئے قاصد بھیجا۔ ہم اس کے پاس گئے اس نے کہا کیا تم دونوں عرب ہو ؟ ہم نے کہا جی ہاں اس نے کہا تم دونوں میں سے ایک جا کر ان مسلمانوں کے حالات معلوم کر کے آئے دوسرا اس کے سامان کے پاس ٹھہر جائے۔ چنانچہ ہم دونوں میں سے ایک گیا اور مسلمانوں میں کچھ دیرٹھہرکر واپس آیا اور اس نے کہا میں ایسے لوگوں کے پاس سے آرہا ہوں جو دبلے پتلے ہیں ، عمدہ اور اصیل گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں ، رات کے عبادت گزار اور دن کے شہسوار ہیں تیر میں پر لگاتے ہیں ، اسے تراشتے ہیں ، نیزے کو بالکل سیدھا کرتے ہیں ، وہ اتنی اونچی آواز سے قرآن پڑھتے ہیں اور اللہ کا ذکر کرتے ہیں کہ اگرآپ ان میں بیٹھ کر اپنے ہم نشین سے کوئی بات کریں تو وہ شور کی وجہ سے آپ کی بات کو سمجھ نہیں سکے گا۔ اس پردمشق کے کمانڈر نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا مسلمانوں کے ان حالات کے معلوم ہو جانے کے بعد اب تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ حضرت عروہ کہتے ہیں (جب جنگ یرموک کے دن ) دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب ہو گئے تو (رومی جرنیل ) قبقلار نے جاسوسی کے لئے مسلمانوں میں ایک عربی آدمی کو بھیجا اور اس سے کہا ان لوگوں میں داخل ہو جائو اور ان میں ایک دن اور ایک رات رہو اور پھر آکر مجھے ان کے حالات بتائو۔ حضرت عروہ کہتے ہیں مجھے بتایا گیا کہ یہ عربی آدمی قبیلہ قضاعہ کی شاخ تزید بن حیدان میں سے تھا جسے ابن ہزارف کہا جاتاتھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں میں داخل ہوگیا اور عربی ہونے کی وجہ سے اجنبی معلوم نہیں ہو رہا تھا اور ایک دن ایک رات ان میں رہا۔ پھر قبقلار کے پاس واپس آیا تو قبقلار نے اس سے پوچھا تم نے کیا دیکھا ؟ اس نے کہا یہ لوگ رات کو عبادت کرتے ہیں اور دن گھوڑوں کی پشتوں پر گزارتے ہیں ۔اگر ان کے بادشاہ کا بیٹا چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے ہیں اور اگر زنا کرے تو اسے سنگسار کر دیتے ہیں۔ یہ اپنے معاشرے میں حق کو قائم کرتے ہیں۔ اس پر قبقلا ر نے اس سے کہا اگر تم نے مجھ سے سچ کہا ہے تو پھر زمین کے اندر دفن ہو جانا روئے زمین پر رہ کر ان کا مقابلہ کرنے سے بہتر ہے۔ اور میں دل سے چاہتا ہوں کہ اللہ میری اتنی بات مان لے کہ میدان میں مجھے اور ان مسلمانوں کو رہنے دے خود میدان میں نہ آئے( کیونکہ اس طرح میں جیت جائوں گا اس لئے کہ اس طرح فتح اور شکست کا فیصلہ تعداد اور سامان جنگ پر ہوگا اور وہ میرے پاس ان سے بہت زیادہ ہے ۔ (حیاة الصحابہ حصہ سوم)

متعلقہ خبریں