یکے بعد دیگرے آپریشنز اختتامی باب کب رقم ہوگا ؟

یکے بعد دیگرے آپریشنز اختتامی باب کب رقم ہوگا ؟

پاک فوج کے سربراہ جنر ل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ آپریشن ردالفساد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے پہلے آپریشن کا تسلسل ہے ۔ ایک سیمنا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشنز کا مقصد ملک میں امن استحکام کا قیام اور کامیابیوں کو دیر پا امن میں تبدیل کرناہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج 2002ء سے اب تک دہشت گردوں کے خلاف حقیقی جنگ لڑ رہی ہیں پاک فوج کا مقابلہ ایک ایسے دشمن سے ہے جو مرئی نہیں غیر مرئی ہیں جن کو ڈھونڈ نکال کر ان کا مقابلہ کرنا ہے ایسے میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کاکردار مزید اہم ہوتا ہے اور اگر دیکھا جائے تو یہ جنگ زیادہ تر حساس اداروں ہی کے لڑنے کی ہے جو پاک فوج ہی کا حصہ ہیں ۔ وہی یہ جنگ بخوبی لڑ بھی رہے ہیں ان کی قربانیوں کا نہ تو چرچا مناسب ہے اور نہ ہی ایسا کیا جاتا ہے ۔بہر حال قطع نظر ان معاملات کے پاک فوج اور حساس ادارے ایک تسلسل کے ساتھ ایک ایسی پیچیدہ اور گنجلک جنگ میں مصروف ہیں جس کی طوالت اور پیچید گی کا درست ادراک انہی کو ہوگا۔ قوم کے سامنے یہ کوئی عیاں امرنہیں کہ ہمارے کتنے فوجی جوانوں اور پولیس اہلکاروں نے قربانیوں کی تاریخ رقم کی اور اب بھی وہ اسی جہد مسلسل میں مصروف عمل ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس جنگ کا اختتامی باب کب لکھا جائے گا اس کا جواب اس لئے بھی نہایت مشکل ہے کہ دشمن مختلف روپ میں سامنے آتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ہیئت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ حقیقی معنوں میں دہشت گردی کے خلاف جو جنگ پاکستان اور پاک افغان سرحد پر خاص طور پر لڑی جارہی ہے اس کی نوعیت دنیا کے کسی بھی ملک میں لڑی گئی گو ریلا جنگ سے مختلف ہے۔ دنیا کی تاریخ میں خودکش حملوں کی اتنی تعداد نہیں ملے گی بلکہ خود کش حملوں کا رواج ہی اب بنا ہے اسی طویل جنگ کا اگر اجتمائی جائزہ لیا جائے تو تقریباً 2002ء سے یہ جنگ جاری ہے ۔2002ء میں پاک فوج نے سب سے پہلے فاٹا میں آپریشن المیزان شروع کیا ۔ یہ آپریشن چار سال جاری رہا اس دوران افغانستان میں تورا بورا کی جنگ کے دوران اور بعد میں طالبان اور القاعدہ کے فاٹا میں قائم ٹھکانوں اور سرکردہ افراد کو نشانہ بنایا گیا ۔ اس آپریشن کوفوجی حکمت عملی کا شاہکار قرار دیا جا تا ہے۔ افغانستان میں جنگ کے دوران دہشت گردوں کے وہاں سے بھاگ کر پاکستان آنے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ گویا منتقل ہوئی اور دہشت گرد پاکستان میں بھی پھیل گئے۔ دہشت گرد قبائلی علاقوں ہی میں نہیں بلکہ سوات تک آگئے ۔ نتیجتاً2006ء سے 2014ء تک سوات سمیت فاٹا کے مختلف علاقوں میں درجنوں ملٹری آپریشنز کئے گئے ۔ان میں آپریشن راہ حق ، آپریشن شیردل ، آپریشن زلزلہ ، آپریشن صراط مستقیم ، آپریشن راہ راست ، آپریشن راہ نجات ، آپریشن کوہ سفید ، آپریشن درراغلم، آپریشن بیا دراغلم ، آپریشن خوخ بہ دی شم سمیت مختلف آپریشنز شامل تھے ۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں سوات اور قبائلی علاقوں سے جس بڑے پیمانے پر مقامی آبادی کا انخلا ء ہوا ان کی واپسی کا عمل دم تحریر مکمل نہیں ہوا تاہم اختتام پذیر ہونے کو ضرور ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو دہشت گردوں کے خلاف عزم صمیم کے ساتھ بھر پور آپریشن کا فیصلہ 2014ء میں جنرل راحیل شریف کے دور میں کیا گیا۔ شاید یہ فیصلہ ہی تھا جس نے جنرل راحیل شریف کو ایک پیشہ ور سپاہی اور سپہ سالار ہونے کے ساتھ ایک مقبول عوامی شخصیت بھی بنا دیا ۔ آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کار پورا ملک تھا۔ یہ آپریشن دنیا بھر میں کامیاب مانا جاتا ہے اس دوران تین ہزار چارسو دہشت گردمارے گئے اور بائیس ہزار گرفتار ہوئے۔ دہشت گردوں کے آٹھ سے سینتیس سے زیادہ ٹھکانے تبا ہ کئے گئے۔ اب آپریشن ردالفساد کے تحت ملک بھر میں تفصیلی تطہیری عمل جاری ہے ۔ ان تمام قربانیوں اور کاوشوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف یکبار گی کامیابی کا حصول ممکن کیوں بنایا جاتا اور درجہ بدرجہ آپریشن اور سامنے آنے والے حالات خطرات ہی کو مد نظر رکھتے ہوئے آپریشن کا فیصلہ کیوں کیا جاتا ہے ہر آپریشن کے اختتام کے بعد ایک نئے آپریشن کی ضرورت کیوں پڑتی ہے ۔ ہمارے تئیں اس تاثر کے قیام کا سبب مختلف ناموں سے آپریشن کرنا ہے وگر نہ اگر دیکھا جائے تو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے آغاز سے لیکر آج تک آپریشن جاری ہے اور اس کے تسلسل میں رکاوٹ نہیں آئی۔ بہر حال معروضی صورتحال میں اس کی طوالت پر سوال تو اٹھا یا جاسکتا ہے مگر عملی طور پر درپیش صورتحال میں اس کے ناگزیر ہونے کا اعتراف بھی فطری امر ہے ۔ ان حالات میں یہی گزارش کی جاسکتی ہے کہ بتدریج ہوتے ہوئے اختتامی باب کے قریب اس آپریشن کو دیر پا اور مستقل اثرات کا حامل بنا دیا جائے اور کوئی ایسا خلا نہ چھوڑا جائے کہ پھر کسی نئے نام سے شروع کرنے کی ضرورت پڑے۔ فساد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک رد الفساد جاری رکھا جائے اور ایک فسادی بھی باقی ہوتو ردالفساد کو ادھورا گردانا جائے ۔

متعلقہ خبریں