پاک افغان سرحدی کشید گی کا معاملہ

پاک افغان سرحدی کشید گی کا معاملہ

سرحدی کشید گی کم کرنے کیلئے پاک افغان مذاکرات خوش آئند امر ضرور ہیں لیکن ان مذاکرات کے کار آمد ہونے کا انحصار افغان نمائندوں کے رویہ پر ہوگا جو تاریخی سر حد کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہی نہیں بلکہ اکثر وبیشتر ان معاملات میں افغان حکومت حدود سے متجاوز ہو جاتی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشید گی اصل معاملہ نہیں اصل معاملہ پاکستان کی جانب سے اپنی سرحدوںکو محفوظ بنانے کیلئے طور خم کے بعد انگورہ اڈ ، مہمند ، باجوڑ اور کرم ایجنسی میں دروازوں کی تعمیر اور شلمان کی سرحد پر باڑ لگانے کا آغاز ہے ۔ اس سارے معاملے میں بر طانیہ کا تاریخی رول رہا ہے شاید ان مذاکرات کے لندن میں ہونے کی وجہ بھی یہی ہو ۔ افغانستان کے ساتھ اچھی ہمسائیگی اور آمد ورفت کی بہتر سہولیات سے کسی کو انکار نہیں بلکہ یہ مستحسن امور ہیں۔ اس طرح کے امور متنازعہ نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ان امور کو متنازعہ بنانے کی اجازت دی جا سکتی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ سرحد پر باڑ لگانا ایک درست تصور ہی نہیں ہماری بنیادی ضرورت بھی ہے جس میں رخنہ اندازی برداشت کرنے کے علاوہ افغانستان جس قسم کی رعایت اور سہولیات کا تقاضا کرے اسے مایوس نہیں کیا جانا چاہیئے ۔ افغانستان پر یہ امر اب واضح ہوچکا ہوگا کہ پاکستان افغانستان سے دہشت گردوں کی آمد کی روک تھام میں کس حد تک جا سکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے ساتھ سرحد بند کرنے کے تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے اور جب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جاتا پاک افغان سرحد کے کھلنے کاکوئی امکان نہیں۔ اگرچہ ایسے عمل کو پسند یدہ تو نہیں گردانا جاسکتا اور اس سے پاکستان کو بھی تجارت اور آمدن کی مد میں مشکلات کا سامنا ہوا لیکن اس سے کہیں بڑھ کر افغانستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا جس کے رسد کا تقریباً سارا دارومدار پاکستان پر ہے البتہ یہاں اس امر پر توجہ کی بھی بہر حال ضرورت ہے کہ افغان حکام پاکستان کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کا اب متبادل ضرور ڈھونڈیں گے بھلے وہ مشکل اور مہنگے ہی کیوں نہ ہو ایسی صورت میں پاکستان پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا ہمیں توڑ کیسے کرنا ہوگا ۔ افغان عوام کے پاکستان کے حوالے سے خیالات میں تبدیلی بھی خارج از امکان نہیں بہر حا ل کچھ ناگزیر قسم کے اقدامات کے منفی اور مثبت دونوں پہلو ہوتے ہیں جن پر قومی مفادکو قربان نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی مصلحت کا شکار ہوا جا سکتا ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ پاک افغان نمائندوں کے درمیان سرحد ی کشیدی گی کم کرنے کے اقدامات پر اتفاق کیا جائے گا جس کے نتیجے میں پاک افغان سرحد پر کشید گی کا ہی خاتمہ نہ ہوگا بلکہ دہشت گردوں کو نقل و حرکت کی روک تھام میں بھی افغان حکام اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ٹھوس یقین دہانیاں کرائیں گے ۔
ہوا کے دوش پر احکامات جاری کرنے کی روایت
صوبائی حکومت نے ہولناک حادثات سے بچنے کے پیش نظر پبلک ٹرانسپورٹ اور سکول کالج وینز کے اندر سی این جی سیلنڈرز کی تنصیب پر پابندی لگاتے ہوئے انہیں فوری طورپر گاڑیوں کی چھتوں پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی ہے جبکہ شہرکے داخلی وخارجی راستوں پر مسافر ومال بردار چھوٹی بڑی گاڑیوں کے روٹ پرمٹ اورڈرائیونگ لائسنس کی بھی باقاعدہ چیکنگ شروع کردی گئی ہے۔اس ضمن میں درجنوں بڑی گاڑیوں کو قانون کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کردیئے گئے ہیں۔اگرچہ محولہ اقدامات کی ہدایت جاری کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ متعلقہ عمال حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے ضمن میں کوئی نئے اور انقلابی اقدامات کرنے جا رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی ہدایات اور اقدامات وقتاً فوقتاً پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ چند روز نمائشی طور پر سنجیدگی کے مظاہرے بھی دیکھے گئے مگر بالآخر ان اقدامات کا انجام لاحاصل ہی مشاہدے میں آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکمرانوں کو بار بار اس طرح کے اقدامات کی ضرورت کیوں پڑتی ہے' کیا یہ از خود اس امر کا اعتراف نہیں کہ ان کے سابقہ اعلانات کو ہوا میں اڑا دیا گیا یا پھر قوت نافذہ نے اس پر عمل درآمد میں حکام کی بجائے خلاف ورزی کرنے والوں کا ساتھ دیا۔ سوال یہ ہے کہ ایک مرتبہ ہدایت جاری کرنے کے بعد اس کااعادہ کرنے کی بجائے اس پر عمل درآمد کے ضمن میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کیاجاتا۔ اگر ہدایات اور قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے پر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی روایت ڈالی جائے تو بار بار کی اس زحمت سے چھٹکارہ ممکن ہوگا اور عوام بھی حکومت کے اقدامات اور ہدایات کو سنجیدہ سمجھنے لگیں گے جبکہ رو گردانی کرنے والے عناصر بھی چند روزہ قرار دے کر ان اقدامات کو ہوا میں اڑانے کی بجائے ان پر سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد کی سعی کرنے پر مجبور ہوں گے۔ بہتر ہوگا کہ اس مرتبہ سنجیدگی کے ساتھ ان ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور جگ ہنسائی کی نوبت نہ آنے دی جائے۔

متعلقہ خبریں