امن وامان کے ذمہ دار اداروں کی قابلِ قدر کارکردگی

امن وامان کے ذمہ دار اداروں کی قابلِ قدر کارکردگی

نیشنل ایکشن پلان کے تحت خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے فوج ، انٹیلی جنس ، پولیس اور سیکورٹی پر مامور دیگر اداروں کی دسمبر 2014ء سے فروری 2017ء تک کی کارگزاری کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ پیر کے روز صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں دہلا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ بتایا گیا کہ ستائیس ہزار 433سرچ آپریشنز میں ایک لاکھ سولہ ہزار 122افراد کو زیر حراست لیا گیا۔ 35ہزار اسلحہ برآمد ہوا ، گیارہ لاکھ اٹھانوے ہزار سے زیادہ ایمونیشن اور ایک ہزار سات سو کلوگرام کے قریب دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ کارکردگی کے لحاظ سے یہ بڑی قابل قدر کارروائی ہے۔ لیکن یہ بات دل دہلا دینے والی ہے کہ فوج، انٹیلی جنس اداروں اور پولیس کی اس ہنگامی صورت حال میں کارروائی سے پہلے یہ سب کچھ ہمارے صوبے میں تھا اور اسے لوگوں کی جانیں تلف کرنے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہونا تھا ۔ اس میں ایک پہلو یہ بھی قابلِ غور ہے کہ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ سبھی متوقع دہشت گرد پکڑے جا چکے ہیں اور اب مزید کوئی اسلحہ ، گولہ بارود سیکورٹی کے ذمہ دار اداروں کی نظروں سے اوجھل چھپا ہوا نہیں ہے۔ ایک پہلو یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ کہ جن ایک لاکھ کے قریب لوگوں کو زیر حراست لیا گیا کیا وہ سب کے سب ممکنہ یا متوقع دہشت گرد تھے یا ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی غلط فہمی کی بنا پر اس زمرے میں شمار ہو گئے۔ ان فروعی احتمالات کے باوجود کارگزاری قابلِ قدر اور قابل تعریف ہے۔ لیکن یہ کارگزاری تب ممکن ہوئی جب خصوصی رابطوں اور اقدامات کے تحت کارروائی کی گئی۔ اس سے پہلے یہ سب لوگ گرفت میں نہیں آئے تھے۔ اور یہ سارا اسلحہ اور گولہ بارود کسی بھی وقت لوگوں کی جان مال تلف کرنے کے لیے موجود تھا۔ اکیلے پولیس اسے دریافت نہ کر سکی تھی اور انٹیلی جنس کے ذمہ دار فوجی اور سویلین اداروں کے پاس اگر کوئی معلومات تھیں تو یا تو ان معلومات کے مزید دقیع ہونے کا انتظار کیا جارہا تھا یا برسرزمین کارکردگی کے لیے دیگر سیکورٹی فورسز کے ذرائع میسر نہیں تھے۔ ان اعداد و شمار سے یہ بات البتہ ضرور سامنے آئی ہے کہ ملک میں ہنگامی صورت حال ہے یا جسے حالت جنگ کہا رہا ہے وہ صورت حال موجود ہے اور خصوصی کارروائیوں کا تقاضا کرتی ہے جو گزشتہ تین سال کے دوران صوبے میں کی گئیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ناجائز اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدگی اور اتنی بڑی تعداد میں مشتبہ لوگوں کے زیر حراست لیے جانے کے بعد جہاں ایک طرف یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا یہ معیار برقرار رکھا جائے وہاں یہ بھی ضروری ہونا چاہیے کہ ان زیر حراست لوگوں کو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور ان سے انصاف کے تقاضوں کے مطابق سلوک ہو۔ یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آیا ہمارانظام عدل خصوصاً فوجداری مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتوں کا نظام اس لائق ہے کہ معاشرے کو وہ انصاف فراہم کر سکے جس کے تحت مجرموں کو قرار واقعی سزائیں دی جا سکیں اور معاشرہ محفوظ ہو سکے۔ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ آیا سیکورٹی اداروں کی یہ خصوصی کارکردگی کی صورت حال دائمی طور پر برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ یہ دونوں سوال آپس میں ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر عدالتوں سے مجرموں کو قرار واقعی سزا ملا کرتی اور انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آتا یعنی فیصلے جلد آیا کرتے تو جرم کی طرف میلان ہی فروغ نہ پاتا۔ آخر جو لوگ دہشت گردی کی نیت سے اسلحہ حاصل کرتے ہیں اور دہشت گردی پر تیار ہو جاتے ہیں وہ اس بنا پر یہ سب کچھ کرتے ہیں کہ موجودہ عدالتی اور سماجی نظام میں وہ محفوظ رہیں گے۔

اگر پولیسنگ کا نظام اور فوجداری عدالتوں کا نظام صحیح اور مؤثر ہوتا تو انٹیلی جنس کی بنیاد پر اور خصوصی ریڈز کے ذریعے کارروائی کی ضرورت ہی بہت کم رہ جاتی۔ لوگوں کو عدالتی نظام پر اعتماد ہوتا تو وہ خود اپنے تحفظ کی خاطر اور اپنے اہل و عیال اور املاک کے تحفظ کی خاطر مشکوک لوگوں کی حرکات و سکنات کے بارے میں پولیس یا سیکورٹی پر مامور دیگر اداروں کو مطلع کرتے کیونکہ نظام عدل پر اعتماد انہیں اپنے تحفظ کا یقین عطا کرتا۔ اس لیے فوری ضرورت اگرچہ اس بات کی ہے کہ معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے امن و انسانیت کے دشمنوں کی تلاش کے لیے خصوصی کارروائی جاری رکھی جائے تاہم اس کے ساتھ ساتھ فوجداری نظام انصاف کوبہتر بنایا جانا اشد ضروری ہے۔ اس کے لیے جہاں مجرموں کی نگرانی اور انہیں گرفت میںلانے کے لیے مستعدی ضروری ہے وہاں تفتیش کا اعلیٰ معیار بھی ضروری ہے۔ مقدمات کے اندراج میں مہارت اور دیانت کا معیار بلند ہونا بھی ضروری ہے تاکہ ابتدائی رپورٹ میں کوئی ایسا جھول نہ رہ جائے جس کا ناجائز فائدہ ملزم اُٹھا سکے۔ سرکاری وکیلوں کی کارکردگی بہتر بنانا بھی ضروری ہے تاکہ مقدمات کی پیروی صحیح خطوط پر ہو۔ گواہوں اور منصفوں کا تحفظ بھی ضروری ہونا چاہیے۔ خصوصاً دہشت گردی کے مقدمات میں وکلائے استغاثہ ، گواہوں اور منصفوں کے تحفظ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ دہشت گرد چونکہ بعض تنظیموں سے وابستہ ہوتے ہیں اس لیے ان کی تنظیموں کے وہ رکن جو زیر ِ حراست نہیں ہوتے استغاثہ کے وکیلوں اور منصفوں کے لیے اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش میں خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالتوںمیں تحفظ اور مقدمات کے اندراج اور پیروی کی صورت حال یہی رہی جو پہلے تھی تو عمومی صورت حال کے بھی وہی ہو جانے کی توقع کی جانی چاہیے جو پہلے تھی۔ خصوصی صورت حال اور اس کے تحت گرفتاریوں اور چھاپوں کو تادیر برقرار رکھا نہیں جا سکتا۔ اس کے مضرمضمرات کو بھی نظر میں رکھا جانا ضروری ہونا چاہیے۔ البتہ جو اتنی بڑی تعداد میں لوگ زیر حراست لیے گئے ہیں ان سے معلومات حاصل کی جانی چاہئیں۔

متعلقہ خبریں