خلیفو! تاریخ چیز دیگر است

خلیفو! تاریخ چیز دیگر است

عجیب صورتحال ہے میر منشی قبلہ خلیفہ جی ٹی روڈ کا تاریخ پر لٹھ بازی کا شوق ہی پورا نہیں ہوتا۔ جب دل کرتا ہے 1960ء اور 1970ء کی تاریخ کو مسخ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ تاریخ کے ایک کوڑھمغزطالب علم کو بھی معلوم ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست میں آمد ایوب خان کے مارشل لاء میں نہیں بلکہ صدر سکندر مرزا کی کابینہ میں تجارت و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر کی حیثیت سے ہوئی۔ جنرل ایوب خان اس کابینہ میں وزیر دفاع تھے۔ خلیفہ جی کا خمیر جماعت اسلامی کے کھیت کی مٹی سے گندھا ہے اور جنرل ضیاء الحق کے آنگن میں پروان چڑھے۔ انہیں حق ہے کہ اپنے مجہول محبوب بارے نسیم حجازی کی طرح داستانیں رقم کریں مگر تاریخ چیز دیگر است۔ لاریب بھٹو صاحب سکندر مرزا کے بعد ایوب خان کی کابینہ میں شامل ہوئے۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے ان کی لیاقت و فراست کا سارے عالم نے اعتراف کیا۔ ایوب خان سے الگ ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ اس سے قبل انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی کے بھاشا نی اور کونسل مسلم لیگ کے ممتاز دولتانہ سے مذاکرات کئے۔ پھر دوستوں کے مشورے پر انہوں نے اپنی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر مبشر حسن' جے اے رحیم' محمد حنیف رامے 'مخدوم طالب الزمان مولیٰ' معراج محمد خان' غلام مصطفی جتوئی' غلام مصطفی کھر اور مختار رانا ہی وہ دوست تھے جو پہلے سے موجود جماعت میں شمولیت کی بجائے الگ سے سیاسی جماعت بنا کر نئے سفر کے خواہش مند تھے۔ پیپلز پارٹی قائم ہوئی اس کے عوام دوست اور سامراج دشمن منشور نے ایوبی سامراج کے ساتھ ساتھ رجعت پسندوں کی نیندیں حرام کردیں۔ مغربی اور مشرقی پاکستان کے سکہ بند مولوی حضرات نے پیپلز پارٹی کے منشور اور سامراج دشمن نظریات کے خلاف فتویٰ دے دیا۔

خلیفے' بھٹو صاحب پر سقوط مشرقی پاکستان میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں کیا ہوا تھا۔ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کیا کہہ رہی تھی وہی مجیب الرحمن جو مسلم لیگ کے 1946ء والے کلکتہ کے جلسہ میں شرکت کے لئے ڈھاکہ سے سائیکل پر کلکتہ گئے۔ خلیفوں کے ممدوحین جماعت اسلامی' جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار اسلام تقسیم ہند اور جناح صاحب کے ساتھ مسلم لیگ کے مخالف تھے۔ ہماری تاریخ کے دوستم ہیں۔ 13اگست 1947ء تک جو انڈس ویلی کے زمین زادوں کے ولن تھے وہ 15اگست 1947ء کو ہیرو ہوگئے۔ دوسرا ستم یہ ہے کہ تقسیم کے مخالف اور مسلم لیگ کے قدرے لبرل خیالات کو اسلام دشمنی قرار دیتے جناح صاحب کو کافر اعظم کہنے (قائد اعظم محمد علی جناح کے خلاف کافر اعظم کا فتویٰ مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل مظہر علی اظہر نے دیا تھا) والے نئی مملکت کو اپنے فہم اسلام کی تجربہ گاہ بنانے پر تل گئے۔ مملکت اور لیبارٹری میں فرق نہ سمجھنے والوں نے مسلم لیگ اور پاکستان پر قبضہ کرنے والے نوابوں اور جاگیر داروں کے ساجھے دار کے طور پر 1949ء میں قرار داد مقاصد منظور کرلی۔ جناب لیاقت علی خان کچھ خاندانی مسائل کی وجہ سے مولوی حضرات کے ہمنوا ہوئے۔ 1956ء پھر 1964ء کے ایوبی آئین اور خود 1973ء کے جمہوری آئین تینوں میں اس قرار داد کو بنیادی بیانیا قرار دیا گیا۔ بگاڑ یہاں سے ہی پیدا ہوا خلیفوں نے تاریخ مسخ کرنی شروع کردی۔ تاریخ بتاتی کچھ ہے اور پڑھایا رٹایا کچھ جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ تاریخ کو مسخ کرکے جی بہلانے سے فائدہ؟ بھٹو صاحب انسان تھے فرشتے یا ولی اور آسمانی او تار نہیں ان کی ذات میں خوبیاں بھی تھیں اور چند بشری خامیاں بھی۔ بد قسمتی یہ ہے کہ خلیفے جب بھٹو صاحب کا ذکر کرتے ہیں تو ایک عجیب سے ہذیان کا شکار ہو جاتے ہیں توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ 90ہزار قیدی بھارت سے انہوں نے رہا کروائے۔ زرعی اصلاحات کیں' 1973ء کا آئین دیا' چند تحفظات کے باوجود یہی آئین آج بھی وحدت کی ضمانت ہے۔ ایٹمی پروگرام کے بانی وہی بھٹو ہیں۔ ان کے مخالفوں نے جن میں خلیفے بھی شامل ہیں ان کی زندگی میں ان کی والدہ محترمہ تک کو معاف نہ کیا اب بھی روزانہ ان کی قبر پر گولہ باری کرتے ہیں۔ کیا اس ملک میں ہمہ قسم کی شدت پسندی کے باوا آدم جنرل ضیاء الحق نہیں؟ پاکستان کو امریکی کالونی بنانے کا آغاز اس وقت ہوا جب پہلے وزیر اعظم سوویت یونین کا دورہ ملتوی کرکے امریکہ جا پدھارے۔ امریکہ کو سوویت یونین کے خلاف فوجی اڈہ جنرل ایوب خان نے دیا۔ افغانستان میں لڑی گئی سوویت امریکہ جنگ میں پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ جنرل ضیاء الحق نے بنایا۔ پاکستان کو امریکہ کا بے دام غلام جنرل پرویز مشرف نے۔ لیکن نا قابل معافی ذوالفقار علی بھٹو ہے۔ ایٹمی پروگرام بھٹو نے دیا' شمالی کوریا سے میزائل پروگرام محترمہ بے نظیر بھٹو لے کر آئیں۔ اللہ ہی جانے ہمارے نسیم حجازی برانڈ خلیفے بھٹو کو معاف کرنے پر کیوں تیار نہیں۔ اپنے ممدوح فوجی آمر کو صلاح الدین ایوبی ثابت کرنے کے لئے تاریخ پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ کبھی اخلاقی جرأت کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ 1960ء کی دہائی میں جماعت اسلامی کو امریکی سفیر نے فنڈز کیوں دئیے اور جماعت اسلامی کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل میاں طفیل محمد نے شکریہ کا جوابی خط کیوں لکھا؟ کیا بھٹو کی کردار کشی سے تاریخ بدل جائے گی۔ حضور تاریخ کے اپنے اصول ہیں وہ کسی کے بدلنے اور انکار سے نہیں بدلتی۔ اس ملک کی آئندہ نسلوں پر رحم کیجئے اب بہت ہوچکا۔

متعلقہ خبریں