'' عافیہ رہائی غیرت قافلہ ''

'' عافیہ رہائی غیرت قافلہ ''

کوئی بھی ریاست اور اسکے حکمران اپنی رعایا کے جان و مال کے محافظ اور امین ہوتے ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے کہ ہمار ے حکمران اپنے عوام کو بغیر کسی قانونی جواز کے دشمن ممالک کے حوالے کردیتے۔ ان بد قسمت ہم وطنوں میں قوم کی بیٹی ڈاکٹر عا فیہ صدیقی بھی شامل ہے ۔ عافیہ صدیقی کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کو ما ضی قریب کے مطلق العنا ن پر ویز مشرف نے امریکہ کے حوالے کیا تھا۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی نے افغا نستان میں امریکی فوجیوں پر بندوق اُٹھائی تھی۔دنیا کی سُپر عسکری طاقت ،جو اپنے دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کرتی ہے،اس کو صنف نازک پر اس قسم کے الزام لگانے سے پہلے سو چنا اور شرم کرنا چاہئے تھا ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میاں نواز شریف کے دور اقتدارمیں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے کچھ کیا جاتا مگر ان کی رہائی کے لئے کچھ نہیںکیا گیا۔ 

دین، غیرت اورحمیت سے سر شار محب وطن پاکستانی اپنی بہن کو امریکی چنگل سے آزاد کرانے کے لئے سراپااحتجاج ہیں۔ عافیہ صدیقی کی رہائی مہم کے سلسلے میں لکی مر وت سے یکم ما رچ کو نکلنے والا''عا فیہ رہائی غیرت قافلہ ''97 کلومیٹر فاصلہ طے کر کے کو ہاٹ پہنچنے کے بعد پشاور کے لئے روانہ ہو گیا۔ پیدل ما رچ کے شرکاء مزید 70 کلومیٹر پیدل سفر کرنے کے بعد اتوار کو پشاور پہنچ گئے۔ افسو س کی بات ہے کہ حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے 31 مارچ 2017 کو عافیہ صدیقی کے امریکہ کی قید میں 14 سال مکمل ہوجائیں گے۔صدر اوبامہ نے اپنے اقتدار کے آخری دن ٣٣٠ commutation کاا علان کیا اور اس میں عافیہ صدیقی کی رہائی بھی ہو سکتی تھی۔سال رواں کے پہلے مہینے جنوری میں صدر مملکت یا وزیر اعظم پاکستان کا ایک خط بے گناہ عافیہ صدیقی کی رہائی کا با عث بن سکتا تھا مگر بد قسمتی سے ہمارے حکمرانوں کی عدم دلچسپی کی سے وجہ یہ مو قع ضا ئع کیاگیا۔ میاںنواز شریف نے 2013 میں اقتدار سنبھالنے کے بعدعافیہ صدیقی کی والدہ عصمت صدیقی اور عا فیہ صدیقی کی بیٹی مریم صدیقی سے عافیہ کو واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر موجودہ حکومت کے چار سال گزرنے کے با وجود بھی اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس2011ء میں امریکی حاکموں کی خوشنو دی کے لئے امریکی جا سوس اور کئی پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو اس وقت کے حکمرانوں نے رہا کر دیا تھا۔ فاکس ٹی وی کے مطابق ڈاکٹر شکیل کی رہائی کیلئے ایک اور فیصلہ رواں ما رچ کے مہینے میں متوقع ہے۔ معروف امریکی نیوز چینل فا کس نیوز کی 3 فر وری 2017 کی رپو رٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مئی2017 میں بد نام زمانہ شکیل آفریدی کو چھوڑ دیا جائے گا۔ اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں جعلی ہیپٹائٹس ٹیکہ مہم کے ذریعے معاونت کرنے والے شکیل آفریدی کی رہائی کے لئے گفت و شنید میں تیزی آئی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے بارے میں وقت اور جگہ کا تعین کرنا با قی ہے۔ اس قسم کے بیانات ڈاکٹر فا طمی وائس آف امریکہ کو انٹر ویو دیتے ہوئے بھی دے چکے ہیں۔ ایک طرف شکیل آفریدی کی اس حرکت سے عام لوگوں نے بچوں کو حفا ظتی ٹیکے لگا نا چھوڑ دیئے ہیں تو دوسری طرف ملک کی سلامتی اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی کا رکر دگی پر بھی حرف آیا ہے۔فاکس نیوزکا کہنا ہے کہ ڈا کٹر شکیل آفریدی کو ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کیس میں 33 سال قید کی سزا ہو چکی ہے۔ امریکہ کے حکمرانوں نے بار بار آفریدی کی قید کی سزا کی مذمت کی اور امریکہ کے صدر ٹرمپ نے الیکشن مہم دوران کہا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے دوگھنٹے بعد ڈاکٹر شکیل آفریدی کو آزاد کروادیں گے۔ Rep.Dana Rohvacher R.callifنے اوبامہ انتظامیہ کو کہہ دیا کہ پاکستان کی اربوں ڈالروں کی امداد اُس وقت تک روکی جائے جب تک شکیل آفریدی رہا نہ ہوں۔عا فیہ صدیقی کی بہن فو زیہ صدیقی نے کہا کہ پاکستانی لیڈروں نے قوم کو عافیہ صدیقی کے بارے میں جھوٹ بولا ہے اُن پر آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت کارروائی کی جائے۔ فو زیہ صدیقی کے مطابق عافیہ صدیقی کی رہائی سویلین جمہوری حکومت کی ذمہ داری ہونی چاہئے کیونکہ عافیہ صدیقی کی تمام تکالیف اور مصائب غیر قانونی اور غیر انسانی رویئے کی وجہ سے ہیں۔اگر حکومت عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے لئے کو شاںہے تو اُس نے خود مُجھے اور عافیہ صدیقی کے کے وکلاء کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا۔یہ پاکستانی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کو با عزت و احترام سے واپس لائے۔عافیہ صدیقی نے کسی کو نُقصان نہیں دیا نہ کسی کو زخمی یا قتل کیا ۔ اگر عافیہ صدیقی نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں تو ان سخت الفاظ کی وجہ سے 86سال قید کی سزا ناجائز ہے۔ وہ رحم کی مستحق ہے۔اگر واقعی ٹرمپ امریکہ کو عظیم امریکہ بنانا چاہتا ہے تو صدر ٹرمپ کو اس سلسلے میں انصاف کا بول بالا کرنا ہوگا اور نرم رویہ اپنانا ہوگا۔ کیونکہ کسی ریاست کی آساس اور بنیاد انصاف پر ہوتی ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ امریکہ اگر قاتل ریمنڈ ڈیوس اور بد نام زمانہ شکیل آفریدی کے لئے اتنی اعلیٰ سطح پر کو ششیں کر سکتے ہیں تو پاکستان کے حکمران عافیہ صدیقی کی با عزت رہائی کے لئے کیوں نہیں کر سکتے۔

متعلقہ خبریں