حسین حقانی کا توجہ دلائو نوٹس

حسین حقانی کا توجہ دلائو نوٹس

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ سی آئی اے کو پاکستان کے اندر کارروائیوں کی اجازت حکومت نے دی تھی اور ان کی کوششوں سے پاکستان کی انٹیلی جنس کے تعاون کے بغیر اُسامہ بن لادن کاکھوج لگایا گیا۔حسین حقانی کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ میں شامل لوگوں سے ان کے دوستانہ تعلقات تھے۔ حسین حقانی 2008سے 2011تک امریکہ میں پاکستان کے سفیر رہے ۔اس وقت پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور حکومت میں شامل ایک طاقتور گروہ قول وفعل سے اپنی اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے موقف کی تائید کرتا دکھائی دے رہا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ حسین حقانی کے اس موقف کی تردید ایک اور سابق سفیر شیری رحمان کی طرف سے کی گئی ۔شیری رحمان کا کہنا تھا کہ حسین حقانی اب امریکہ کے ہی ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کا موقف غلط اورکسی دبائو کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے ۔شیری رحمان نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے سی آئی اے سے شمسی ائیر بیس واپس لیے اور امریکہ کے انٹیلی جنس اور فوجی افسروں کو ویزہ دینے سے انکار کیا ۔قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی اسے حسین حقانی کی طرف سے امریکہ کی نئی انتظامیہ کے لئے توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔اس بحث وتکرار کا جائزہ لیا جائے تو حسین حقانی اور شیری رحمان دونوں سچ بول رہے ہیں۔دونوں کا آدھا آدھا سچ مل کر پورا سچ بن رہا ہے۔حسین حقانی جس دور میں امریکہ میں سفیر مقرر ہوئے وہ پاکستان کے لئے انتہائی پُرآشوب زمانہ تھا ۔حسین حقانی کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی رکن اسمبلی منتخب ہوئیںاور خود حسین حقانی امریکہ میں سفیر مقرر ہوئے ۔بظاہر حسین حقانی اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کی پسند تھے مگر کہنے والے کہتے تھے کہ جب امریکہ اور جنرل پرویز مشرف کے تعلقات میں دراڑآنے لگی تو اس خلاء کو آصف زرداری نے نہایت مہارت سے پُر کرنے کی کوششیں شروع کیں۔حسین حقانی دنیا کے واحد سفیر تھے جو اپنے ملک کو مجرم اور میزبان ملک کو معصوم اور حق بجانب قرار دینے کی سفارت کاری کرتے رہے اور ان کے دور میں امریکہ کے پاکستانی سفارت خانے نے امریکیوں کو ہزاروں ویزے دئیے ۔یہ حسین حقانی کی ذاتی پالیسی تھی یا حکومت کی ان کے بیان سے یہ بحث چھڑ چکی ہے۔اس میں دو رائے نہیں کہ انہوں نے اپنے دور میں امریکیوں کو پاکستان کے اندر رسائی دینے میں اہم کردار ادا کیا ۔حسین حقانی کے اس عمل کو حکومت کی آشیرباد حاصل تھی یا نہیں یہ الگ سوال ہے ۔شیری رحمان نے تو اس کی تردید کر دی ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ ایک سفیر حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ویزے جاری کرتا پھرے ۔ امریکہ نے اسامہ بن لادن آپریشن کیا تو یہ واضح ثبوت تھے کہ ملک کے اندر سے کچھ بااثر طبقات کی سہولت کاری کا نیٹ روک کام کر رہا تھا جس نے ایبٹ آباد آپریشن کے کئی مراحل کو آسان بنایا۔حسین حقانی نے تو آپریشن سے پہلے ہی مضمون تیار کررکھا تھا جس میں کامیاب آپریشن کی مبارکباد دی گئی تھی۔

آپریشن کے فوراََ بعد یہ مضمون امریکی اخبار میں شائع ہوا۔ریمنڈ ڈیوس گرفتار ہوا تو آدھی حکومت میڈیا میں انہیں جاسوس کی بجائے کنٹریکٹر قرار دینے میں جُتی رہی ۔وزراء ان کے سفارتی استثناء کی وکالت کرتے رہے ۔انہی دنوں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکیوں کی ویزوں کے بغیر آمد کے تناظر میں ہی جوابی سوال پوچھا کہ اسامہ بن لادن کون سے ویزے پر پاکستان میں بیٹھا تھا ؟۔ان کا یہ سوال اسٹیبلشمنٹ سے تھا ۔تاہم شمسی ایئربیس اور امریکی جاسوسوں کو ملک سے نکالنے کا اصل فیصلہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ان کے ساتھیوں کاتھا جنہوں نے بہت جاں گسل جدوجہد کے بعد امریکیوں کو پاکستان سے بے دخل کیا تھا۔حسین حقانی نے یہ بحث اس وقت چھیڑی ہے جب جنرل راحیل شریف کی رخصتی کے بعد پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں بہتری کے اشارے مل رہے ہیں۔آصف زرداری راحیل شریف سے ناراض ہو کر اینٹ سے اینٹ بجادینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے رخصت ہوئے تھے ۔وہ اینٹ سے اینٹ تو نہ بجا سکے مگر راحیل شریف کی رخصتی کے بعد وہ خوشی خوشی تالی بجاتے ہوئے واپس آگئے ہیں۔اب کئی سیاسی گھرانے پیپلزپارٹی میں شامل ہو رہے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ حسین حقانی اس منظر سے زیادہ خوش نہیں اور انہوںنے ماضی کا گڑا مردہ اکھاڑ دیاہے ۔حسین حقانی یہ سمجھتے ہوں گے کہ جن کی خاطر وہ اپنی ماضی کی دوست اسٹیبلشمنٹ سے لڑ بیٹھے وہ تو دوبارہ دوستی اور صلح کی راہوں پر گامزن ہیںمگر حسین حقانی ملک میں بیرونی مدد سے فوجی قیادت میں تبدیلی کے مشہور زمانہ میمو گیٹ سکینڈل میں عدالتوں کو مطلوب ہیں۔ان کے نام کے گرد سرخ دائرہ ہے ۔اس لئے وہ وعدہ معاف گواہ کے انداز میں پیپلزپارٹی کے اس رنگ میں بھنگ ڈال رہے ہیں ۔عین ممکن ہے ان کا یہ توجہ دلائو نوٹس ٹرمپ انتظامیہ کے لئے بھی ہومگر یہ نوٹس بیک وقت اسٹیبلشمنٹ سے صلح کی راہ پر گامزن پیپلز پارٹی کی قیادت کے لئے بھی ہے کہ خود ان کی ذات صلح کے اس پیکج سے الگ کیوں؟وہیں یہ نوٹس اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی ہے کہ ہم سے دوستی کر لو ابھی ہمارے پاس آپ کے لئے بہت سے راز اور کہانیاں ہیں۔ بات جو بھی ہو پاکستان کے ساتھ بے شمار ظلم ہوئے ہیں اور ان میں بااثر اور حکمران طبقات کا عمل دخل رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں