مسکت جواب ہی بھارت کو جارحیت سے باز رکھ سکتا ہے

مسکت جواب ہی بھارت کو جارحیت سے باز رکھ سکتا ہے

اگرچہ لائن آف کنٹرول پر کچھ عرصے سے کشیدگی اور بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے تاہم گزشتہ روز بھارتی فائرنگ سے سات پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے واقعے سے اس امر کا اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے باقاعدہ جارحیت کا ارتکاب کیاگیاہے جس کا یقینا پاک فوج کی جانب سے مسکت جواب بھی دیاگیا ہوگا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز مقبوضہ کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حریت پسندوں کے حملے میں اٹھارہ فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ہواہے۔ اس سال اب تک بھارت کی طرف سے ایک سو اٹہتر خلاف ورزیوں میں انیس معصوم شہری شہید اور ایک سو اسی زخمی ہوچکے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جہلم میں شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور اس امر کا اعادہ کیاہے کہ بھارت کی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے رہیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے لائن آف کنٹرول پر جانی نقصان پر شدید دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے ملک کے دفاع کی تمام صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں تاکہ کشمیر میں جاری بدامنی سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے۔وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر بھاری اسلحہ استعمال کر رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی دفتر خارجہ نے کئی بار انڈیا کے سفارتکاروں کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔جہاں ایک طرف دونوں ممالک کی سیکورٹی فورسز کے درمیان ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر جھڑپیں ہو رہی ہیں تو وہیں سفارتی محاذ بھی گرم ہے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارتی عملے کو جاسوسی کے الزامات کے تحت ملک بدر کیا ہے۔اسلام آباد سے بھارتی سفارتکاروں کے روپ میں بھارتی جاسوسوں کو حال ہی میں واپس بھجوادیاگیا ہے۔ بھارت کی جانب سے مسلسل سرحدی خلاف ورزیوں کے باعث دفاعی ماہرین یہ تجویز دے رہے ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے مسلسل بلااشتعال فائرنگ کے واقعات کے تناظر میں اب پاکستان کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھی اب لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرے تاکہ بھارت کو اندازہ ہو کہ اس کھیل سے کس طرح کا جانی نقصان ہوتا ہے۔امر واقع یہ ہے کہ بھارت جب بھی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ اپنے عوام کو یہ تاثر پیش کرتا ہے کہ پاکستان نے شروعات کی جس کا اس نے جواب دیا اور اس طرح سے ہمارے اوپر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے، لہٰذا اب پاکستان کو اصل میں خلاف ورزی کرنی چاہئے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو الزامات سے حل نہیں ہوسکتا اور اگر اقوامِ متحدہ مداخلت کرے بھی تو بھارت اس کو تفتیش کرنے کے لیے رسائی فراہم نہیں کرتا کیونکہ وہ حقیقت کو سامنے لانا ہی نہیں چاہتا۔بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ فطری امر ہے۔ گزشتہ روزبھمبر سیکٹر میں بھارتی فائرنگ سے سات پاکستانی فوجیوں کی شہادت نہایت رنج دہ واقعہ ہے جس سے پاکستان کے عوام میں بھارت کے خلاف نفرت کے جذبات کا ابھرنا اور عوام کی پاک فوج سے اس کا مسکت جواب دینے کی توقع بے جا نہیں۔جموں و کشمیر کی جنگ بندی لائن اور پاکستان کے ساتھ ورکنگ بائونڈری پر بھارت نے جو اشتعال انگیز کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں ان میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ اگرچہ بھارت کی ہر گولہ باری کا پاکستانی افواج جو مسکت جواب دیتی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ امرنہیں تاہم پاکستان اور بھارت دونوں ہی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی جنگ کوئی آسان کام ہے۔دونوں ممالک کے لیے جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ اگر جنگ ہوتی ہے تو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو کم نقصان ہوگا۔خطے میں کشیدگی کی صورتحال کی ایک اور وجہ مبصرین یہ بتاتے ہیں کہ انڈیا سلامتی کونسل کی نشست حاصل کرنا چاہتاہے۔ وہ نیوکلیئر سپلائر گروپ کا حصہ بننا چاہتاہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر سامنے نہیں لانا چاہتا۔ آج اگر جنگ ہوتی ہے تو سب کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کشمیر پر قابض ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کوئی ملک اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اس نئے محاذ کی حمایت کرسکے۔بھارت کی بظاہر جنگ اور بباطن جنگ سے احترازظاہر کرنا اس کی مجبوری ضرور ہوگی لیکن یہ کوئی دیر پا پالیسی نہیں ہو سکتی جسے جاری رکھ کر بھارت اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوجائے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں حریت تحریک روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آئے روز مظاہرے اوراحتجاج اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے جہاں کشمیری انتفادہ دنیا کے سامنے پوری طرح سے آرہا ہے وہاں دوسری جانب بھارت کا چہرہ بھی بے نقاب ہورہا ہے یہی انتفادہ کی کامیابی اور بھارت کی ناکامی ہے۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ خطے میں کشیدگی اور تنائو کی فضا قائم کرنے سے گریز کرے اور اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا سیکھے۔پاکستان کی جانب سے عالمی اداروں کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرنے اور ان کی توجہ مبذول کروانے کے باوجود اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں بھارت سے اس ضمن میں تعرض نہیں رکھتیں جس سے بھارت کو شہ ملتی ہے اور وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے ساتھ کنٹرول لائن کی خلاف وزی سے باز نہیں آتا۔ اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میںبھارتی مظالم کا نوٹس لینا چاہئے اور کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار اداکرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں