افغان مہاجرین کی واپسی کی حتمی تاریخ دی جائے

افغان مہاجرین کی واپسی کی حتمی تاریخ دی جائے

افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں جو بعض تجاویز سامنے آئی ہیں ان پر اگر پہلے غور کیاجاتا تو بہت سے مہاجرین کو واپسی میں تعجیل نہ کرنی پڑتی اور خاص طور پر بہت سے طالب علموں کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع ملتا۔ ہمارے ہاں کام پہلے کرکے اس پر غور بعد میں کرنے کی روایت ہے جسے تبدیل ہونا چاہئے۔ افغان مہاجرین کو واپس بھجوانے کے حوالے سے جو فضا تیار کی گئی تھی اس پر عملدرآمد میں نرمی سے اختلاف نہیں لیکن متعلقہ حکام کو یہ امر ضرور پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک ان افراد کے حوالے سے سخت سے سخت اقدامات نہیں کئے جاتے ان کی واپسی تو درکنار اس کا ارادہ ہی بننا مشکل امر ہے۔ اسلام آباد میں مشاورتی اجلاس میں تجاویز دی گئی ہیں کہ افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی مدت میں دسمبر 2017ء تک توسیع کی جائے تاکہ وہ اپنے ملک باآسانی واپس جاسکیں۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے مہلت میںتوسیع کی مخالفت تونہیں کی ۔ انہوں نے جو موقف اختیار کیا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بجا طور پر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ واپسی کے لیے مہلت زیادہ طویل نہیں ہونی چاہئے کیونکہ مہاجرین خود جانے لگ گئے ہیں ابھی ایک سسٹم بن چکا ہے ہو سکتا ہے کہ سال کے بعد ایسی پوزیشن نہ ہوان کو توسیع دی جائے لیکن لمبی توسیع نہیں اور حتمی وقت کے اندر ان کو واپس جانا چاہئے۔ افغان پناہ گزینوں، افغان طالب علموں، مریضوں اور کاروبار سے وابستہ افغانوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے اُن کی سہولت کے لیے پالیسی بنائی جانی چاہئے۔سیاسی جماعتوں نے تجویز کیا تھا کہ ان پناہ گزینوں کو درجوں میں تقسیم کریں سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہ کریں مثلاً طالب علموں کے لیے ایک مختلف قسم کا ویزا ہونا چاہیئے، اس طرح جن لوگوں نے یہاں پر سرمایہ کاری کی ہے ان کے لیے کچھ مراعات ہونی چاہئیں جو یہاں شادیاں ہوئی ہیں ان سے علیحدہ قسم کا برتائو کرنا چاہئے اور ان کو مزید مراعات دینی چاہیئں اور خاص طور پر جو صحت کے حوالے سے لوگ آتے ہیں اس کے لیے بھی آل پارٹیز کانفرنس نے یہ سفارش دی ہے کہ ان کو سرحد پر ویزا دیں تاکہ ان کے لیے آسانی ہو۔ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ تجاویز پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایک ایسا فارمولہ وضع کیا جائے کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل میں رکاوٹ نہ آئے اور جن مہاجرین کو محولہ امور کے مطابق مواقع دئیے جائیں اس کا ان کی جانب سے جواز بنانے کا موقع نہ دیا جائے ۔ ایک حتمی ایسی تاریخ دینے کی ضرورت ہے جس کے بعد کسی بھی قسم کا عذر باقی نہ رہے اور افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی تکمیل ہو۔
عدالتی احکامات کے با وجودلیت و لعل ؟
عدالتی احکامات کے باوجود خیبرٹیچنگ ہسپتال میں نیوروسرجری یونٹ قائم نہ کرنے سے اس امر کا اظہار ہوتاہے کہ ہسپتال کی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام بلکہ صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس تو کجا عدالتی احکامات کی بھی ان کو پرواہ نہیں۔ پشاورہائی کورٹ نے 2014میں درخواست گزار کی رٹ پرصوبائی حکومت اورکے ٹی ایچ انتظامیہ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ تین ماہ کے اندر ہسپتال میں نیوروسرجری یونٹ قائم کیاجائے تاہم دو سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود ان احکامات پر تاحال عملدرآمد نہیں کیاگیا۔ نیوروسرجری یونٹ کے قیام کی منظوری گزشتہ ایم ایم دورحکومت میں دی جاچکی تھی۔مگر بعد میں آنے والے دو ادوار حکومت میں بھی اس کا قیام عمل میں لایانہ جا سکا حالانکہ ایک بڑے ہسپتال میں نیورو سرجری یونٹ نہ ہونا اور پھر اس کے قیام میں اس قدر تاخیر سمجھ سے بالاترامر ہے ۔ اس یونٹ کے نہ ہونے کے باعث مریضوں کو ایل آر ایچ ریفر کرنا مجبوری تھی شدید مریضوں کیلئے پل پل قیمتی ہوتا ہے کجاکہ ان کو اس شدید رش میں ریفر کیا جائے ایسے میں قسمت والے مریض ہی ایل آر ایچ پہنچ پاتے ہو ں گے ۔ توقع کی جانی چاہئیے کہ عدالتی احکامات پر اب لیت و لعل کے بغیر عملد ر آمد کیا جائے گا اور عدالتی احکامات کے مطابق عارضی یونٹ قائم کر کے اسے مستقل اور مکمل یونٹ میں تبدیل کرنے میں غیر ضروری تاخیر کا اعادہ نہیں کیا جائے گا ۔

متعلقہ خبریں