شربت گلہ کی ملک بدری

شربت گلہ کی ملک بدری

نیشنل جیوگرافک کے 1985ء میں شائع ہونے والے ایڈیشن کے سرورق پر تصویر چھپنے کے بعد شربت گلہ دنیا کی سب سے مشہور مہاجر بن گئی تھیں جس کے بعد حال ہی میں وہ دوبارہ شہ سرخیوں کی زینت بنیںجس کی وجہ ایف آئی اے کا ان کو پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم ہونے کی وجہ سے گرفتار کرنا تھی۔ ان پر فارنرز ایکٹ کے سیکشن 14 ، پاکستان پینل کوڈ، پریوینشن آف کرپشن ایکٹ اور نادرا آرڈیننس کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ شربت گلہ کو 110000روپے جرمانہ کیا گیا لیکن وہ جیل میں وقت گزارنے کے حوالے سے خوش قسمت رہیں کیو نکہ انہوں نے صرف پندر ہ دن جیل میں گزارے ۔ لیکن اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کو رہائی کے فوراً بعدپاکستان سے ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ شربت گلہ نہ صرف ہیپاٹائٹس ۔سی کی مریضہ ہیں بلکہ وہ چار بچوں کی ماں بھی ہیں جس کی وجہ سے وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان میں رہنے کی مستحق تھیں۔ مایوسی ، بے تحاشا غربت اور اپنے ملک میں روزگار کے مواقعوں کی کمی کی وجہ سے بہت سے افغان مہاجرین پاکستان میں غیر قانونی طور پر رہنے پر مجبور ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں اور پاکستان کی طرف سے ایسے مہاجرین کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی سزا دینا بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز میںبھی پاکستان کی جانب سے مہاجرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے پاکستان نے افغان مہاجرین کے حوالے سے سخت پالیسی اپنارکھی ہے جس کی وجہ سے پاکستان بہت سے ایسے بین الاقوامی قوانین اور کنونشنز کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے جن کی وہ توثیق کر چکا ہے۔ یہ کنونشنز انسانی حقوق کے حوالے سے کسی عام شہری، مہاجریا غیر قانونی طور پر مقیم شخص پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ اگرچہ پاکستا ن 1954ء میں طے پانے والے رفیوجی کنونشن یا اس کے'آپشنل پروٹوکول1964ئ' کا حصہ نہیں ہے لیکن دیگربین الاقوامی قوانین کی پاسداری پاکستان پر لازم ہے جن کے مطابق دنیا کا کوئی بھی ملک ایسے کسی بھی مہاجر کو اس کے وطن واپس نہیں بھیج سکتا جس کی جان یا آزادی کو اپنے ملک میں خطرہ لاحق ہو۔ اس کے علاوہ پاکستان کسی بھی ایسے شخص کو اپنے ملک سے بے دخل نہیں کر سکتا جسے اپنے ملک میں تشدد کا سامناہو۔ اوپر بیان کی گئی ساری شرائط پاکستان میں افغان مہاجرین اور خصوصا ً افغان خواتین مہاجرین پر لاگو ہوتی ہیں جن میں شربت گلہ بھی شامل ہیں۔ افغان حکومت اور یواین ایچ سی آر کے ساتھ طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کے تحت پاکستان مارچ 2017ء تک افغان مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دینے کا ذمہ دار ہے جس کے بعد انہیں نیشنل ایکشن پلان کے تحت اپنے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔ زمینی حقائق کی بات کریں تو اس منصوبے پر عمل درآمد نہایت مشکل نظر آ رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو افغان مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک طویل المیعاد اور جامع حکمتِ عملی وضع کرنی ہوگی۔یہاں پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ افغان ۔سوویت جنگ کے دوران پاکستان نے افغان مہاجرین کو اپنے ملک میں کھلے دل سے خوش آمدید کہا تھا۔افغان اور بنگالی مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی ہمیشہ سے سخت رہی ہے۔ جہاں کشمیری مہاجرین پاکستانی شہریت بہ آسانی حاصل کرسکتے ہیں وہیں افغان اور بنگالی مہاجرین پاکستان میں پیدا ہونے کے باوجود بھی پاکستانی شہریت حاصل نہیں کر سکتے۔ اس علاقائی اور لسانی تفریق کی وجہ سے پاکستان اقوام ِ متحدہ کے 'یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس' کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے جس کے آرٹیکل 2 کے مطابق ہر انسان کو آزادی سمیت ڈیکلریشن میں شامل تمام انسانی حقوق رنگ، نسل، جنس، زبان، مذہب، سیاسی رائے یا قومیت کی تفریق کے بغیر حاصل ہیں ۔ ہمارے ملک میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یورپ کو مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ اس سال کے آغاز میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یونانی جزیرے لیسبوس پر موجود ان پاکستانیوں کی حالتِ زار دنیا کے سامنے بیان کی تھی جو یورپ میں پناہ کے متلاشی ہیں۔پچھلے سال جب یورپی ممالک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بڑی تعداد میں یورپ میں پناہ کے متلاشی پاکستانیوں کو ملک بدر کرنا شروع کیا تھا توپاکستان نے اس کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا جو بالکل جائز تھا۔اس لئے جب ہم افغان مہاجرین کی بات کرتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہے۔ دوسری جانب اگر سفارتی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو شربت گلہ کو ڈی پورٹ کرنا ایک نہایت غیر دانشمندانہ اقدام تھا۔ بھارت میں برسرِ اقتدار بی جے پی کی حکومت اس وقت پاکستان کو سفارتی لحاظ سے دنیا میں تنہا کرنے کے لئے کوشاں ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو افغانستان اور بنگلہ دیش سے اپنے تعلقات میں بہتری لانی چاہیے جو اس وقت بھارتی اتحاد کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ اسلام آباد کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کو نہ صرف شربت گلہ اور ان کی فیملی کو پاکستان میں رہنے کی اجازت دینی چاہیے تھی بلکہ انہیں صحت کی سہولیات بھی مفت فراہم کی جانی چاہیے تھیں ۔ اگر شربت گلہ کو پاکستان میں رہنے کی اجازت دی جاتی تو اس سے نہ صرف افغانستا ن کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بہتری آتی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوتا۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں