خود اپنے شہر کو فرمانر وانے لوٹ لیا

خود اپنے شہر کو فرمانر وانے لوٹ لیا

مودی کرے بھی تو کیا ''گلی گلی میں یہ جو مودی کو غلیظ گالیاں '' بد دعائیں اور کوسنے سننے کو مل رہے ہیں تو اس کا رخ بدلنے کا اس کے پاس اور کوئی حل بھی تو نہیں ہے کہ وہ کشمیر کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات میں اضافہ کروائے ، گزشتہ روز رات کو بھارتی افواج کی طرف فائرنگ نے پاکستانی افواج کے سات جوانوں کو شہادت کے مرتبے پر فائز کردیا ، اس اچانک اشتعال انگیزی کا مئو ثرجواب دیتے ہوئے پاکستانی افواج نے بھارتی فوج کی بعض چو کیوں کو شدید نقصان پہنچا یا اور عسکری قیادت نے ایک بار پھر اس بات کا عزم ظاہر کیا ہے کہ دشمن کے ہر حملے کا مئوثر جواب دیا جائے گا ۔بد قسمتی سے پاکستان بھارت کی اس قسم کی کارروائیوں کے جواب میں جن میں آزاد کشمیر کے عام لوگ متا ثر ہوئے ہیں ، جوابی فائرنگ صرف اس لیے بھارتی چوکیوں تک محدود رکھنے پر مجبور ہے کہ اگر پاکستانی افواج سخت کارروائی کرتی ہیں تو کنٹرول لائن کے دوسری جانب بھی کشمیری مسلمان ہی شہید ہو سکتے ہیں ۔ مودی کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے اچانک بغیر بتائے اور بھارتی عوام کواعتماد میں لئے بغیر اچانک ایک ہزار اور پا نچ سو کے کرنسی نوٹوں کو کینسل کردیا ہے ، وجہ کوئی بھی ہو تا ہم ان لوگوں کے برعکس جن کے پاس اربوں کھربوں موجود ہیں اور جن کے بارے میں یہ سوچ سامنے آئی ہے کہ یہ رقوم غیر قانونی طور پر کمائی گئی اور اس پر بھارتی حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ۔ یوں ان کا تو جو حشر ہو رہا ہے وہ تو الگ بات ہے مگر مودی کے اس فیصلے سے عام متوسط اور غریب طبقات بھی شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں اور ان کی جانب سے مودی کو گالیاں اور بد دعائیں دی جارہی ہیں ۔بھارت کی جہاں غریب لوگ مودی جی کو جن الفاظ میں ان دنوں یا د کر رہے ان کی کچھ جھلکیاں ہمارے ہاں بھی بعض ٹی وی چینلز پر دکھائی گئیں ، ابھی اس حوالے سے اربوں کھربوں کا نقصان اٹھانے والوں کے بارے میں خبریں سامنے نہیں آئیں ، خصوصاًان لوگوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا جو مودی کے اس فیصلے سے یا تو خود کشیوں پرمجبور ہوئے یا پھر ان پر پاگل پن کے دورے پڑ رہے ہیں ، در اصل یہ بات ہم نے اس لئے کی ہے کہ جب زار روس کا تختہ الٹ کر کمیو نسٹوں نے 1917ء میں روس میں انقلاب برپا کر دیا تھا تو اقتدار میں آکرلینن اور ان کے ساتھیوں نے روسی کرنسی منسوخ کر دی تھی ۔ چونکہ اس زمانے میں متحدہ ہندوستان کے بہت سے لوگ روسی ریاستوں کے ساتھ تجارت کرتے تھے اور ہمارے ہاں پشاور میں ایک مشہور خاندان کے ایک بزرگ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کے پاس روسی کرنسی نوٹوں کا اتنا بڑا ذخیرہ تھا کہ ان نوٹوں کی بوریاں پشاور میں ایک سرائے کے مختلف کلروں میں بھری ہوئی تھیں اور یوں صرف ایک اعلان سے اس دور میں کھربوں کی کرنسی ایک ہی لمحے میں ردی کاغذ میں تبدیل ہونے کی وجہ سے محولہ شخص کو نفسیاتی عوارض لاحق ہو گئے تھے ۔ اس لئے تو گزارش کی ہے کہ ابھی ارب اور کھرب پتی بھارتیوں کے بارے میں کوئی خبریں نہیں ملیں تاہم مودی حکومت کے اس فیصلے سے عام لوگ بھی شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں اور وہ بد دعائیں دے رہے ہیں۔پاکستان نے بھی 1971ء میں اس وقت اپنی کرنسی منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا جب بھارت نے جارحیت کر کے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے میں اپنا مذموم کردار اد کیا تھا ۔ لیکن پاکستانی عوام کو ایک خاص مدت تک پرانی کرنسی کے بدلے نئے نوٹ بینکوں سے حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی یہ وہ دور تھا جب ملک سے باہر جانے والوں کے پاس پچاس روپے سے زیادہ کی پاکستانی کرنسی اپنے ساتھ لے جانے کی اجاز ت نہیں تھی تاہم ہنڈی کا کاروبار کرنے والے تو لاکھوں روپے خصو صاً افغانستان میں متبادل کرنسی کے طور پر بھیجا کرتے تھے اس لئے جب اس دور میں کابل حکومت نے حکومت پاکستان سے افغانستان میں موجود پاکستانی کرنسی تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تو پاکستان نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب قانونی طور پر پچاس روپے سے زیادہ کوئی لیجانہیں سکتا تو سواور پانچ سو کے نوٹ کیسے کابل پہنچ گئے ۔ مگر یار لوگ بھی بڑے کائیاں تھے ۔ انہوں نے اس وقت تو خاموشی اختیار کی لیکن جب بھارت میں قید لگ بھگ 90ہزار کے قریب پاکستانی جنگی قیدی رہا ہو کر واپس آنے لگے تو کابل سے یہی کرنسی بھارت میں انہی جنگی قید یوں کو سستے داموں فروخت کر کے بھاگتے چورکی لنگوٹی ہی بھلی کے مصداق کچھ نہ کچھ لے مر ے کیونکہ ان قید یوں کے پاس پاکستانی کرنسی کو حکومت نے قبول کر لیا تھا ۔ اس وقت پاکستان میں بھی ہزار ، پانچ سو ، ایک سو اور پچاس کے پرانے نوٹوں کی منسوخی کا حکم آچکا ہے تاہم اشتہارات کے ذریعے عوام کو بتا یا جارہا ہے کہ وہ 30نومبر تک یہ نوٹ نئے نوٹوں سے تبدیل کرلیں اور دسمبر کے بعد یہ نوٹ کار آمد نہیں رہیں گے ۔ جبکہ مودی نے وقت دیئے بغیر ہزار اور پانچ سو کے نوٹ منسوخ کر کے ملک میں بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے، اور جب یہ سطور تحریرکی جا رہی ہیں تو ٹی وی چینلز پر ٹکر چل رہے ہیں کہ بھارتی لوک سبھا کے سپیکر نے اس معاملے پر بحث کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ اب یہ مطالبہ حکومت منظور کرتی ہے یا نہیں تاہم اگر صورتحال یہی رہی تو اگلے انتخابات میں عوام یقینا مودی کا دھڑن تختہ کر دیں گے ۔ 

دل تباہ کی روداد کیا کہیئے
خود اپنے شہر کو فرنروا نے لوٹ لیا

متعلقہ خبریں