منحصر مرنے پر ہو جس کی امید

منحصر مرنے پر ہو جس کی امید

اب ہم اس حیثیت اور درجے کے بزرگ تو ہیں نہیں کہ ہمیں طبعی عمر سے گزرنے کے بعد بھی کسی اہم منصب کا اہل سمجھا جائے۔ حیثیت اور درجہ تو دور کی بات ہے کوئی ہمیں زندگی کے اس مرحلے میں انسان ہی سمجھ لے تو یہ بڑی غنیمت ہوگی۔ پہلے تو ہمارے ایک عالم فاضل دوست پروفیسر یاسین اقبال کا ہماری گزشتہ تحریر گوہاتھ میں جنبش نہیں کے بارے میں ایک حقیقت افروز تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ فرماتے ہیں کہ کسی بھی سرکاری ملازمت کے خواہشمند کو اس کے انتخاب کے بعد کسی ماہر معالج سے اس امر کا سرٹیفکیٹ لینا پڑتا ہے کہ میں نے اس شخص کا جسمانی معائنہ کیا اور یہ سرکاری ملازمت کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر موزوں ہے۔ اور تو اور کسی سیکورٹی گارڈ' نائب قاصد کو بھی تقرری کا پروانہ دینے سے پیشتر اس مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے جبکہ گورنر شپ جیسے اہم منصب پر تقرری سے پہلے جسمانی فٹنس کو نظر انداز کردیا جاتا ہے اور وہ بے چارا حلف اٹھانے کے فوراً بعد فرائض منصبی سنبھالنے کے لئے دفتر میں بیٹھنے کی بجائے براہ راست ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ پروفیسر صاحب نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ یہ سب کچھ اس عہدے کی اہمیت کا تقاضا تھا یا پھر ان لوگوں کی دانش مندی تھی جنہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ یہ تو خیر ایک حالیہ واقعہ ہے ہمیں یاد پڑتا ہے لیکچرر بننے کے بعد تین ماہ ہماری تنخواہ اس لئے بند تھی کہ میڈیکل بورڈ کی جانب سے ہماری مکمل صحت مندی کا تصدیق نامہ اکائونٹس ے دفتر کو موصول نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح ہمارے دوست پروفیسر غلام محمد قاصر جو اب ہم میں موجود نہیں لیکچرر منتخب ہونے کے بعد جب میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہوئے تو ماہرین نے ان کی چھاتی کے ایکسرے میں پھیپھڑے پر کہیں ایک چھوٹا سا دھبا دریافت کرلیا۔ وہ تو خدا بھلا کرے اس وقت کے پرنسل پروفیسر رشید احمد مرحوم کی کاوشوں سے ان کے لئے کچھ ماہ بعد دوبارہ میڈیکل بورڈ بنانے کی سفارش کی گئی۔ اس عرصے میں قاصر مرحوم کو چارج لینے سے روک دیاگیا ۔ وہ تین ماہ تک لاہور جا کر اپنا علاج کراتے رہے اور پھر کہیں جا کر میڈیکل بورڈ نے انہیں کلیئر کیا۔ ابھی گزشتہ ماہ ہمارے ایک دوست کے بیٹے کو فوج میں کمیشن کے حصول کے لئے تمام مراحل سے گزرنے اور ان میں کامیابی کے باوجود میڈیکل بورڈ نے اس وجہ سے مسترد کردیا کہ اس کی ہتھیلیوں پر پسینہ آتا تھا۔ وہ بچہ بہ رضا و رغبت فیصلہ قبول کرکے گھر آکر بیٹھ گیا۔ کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ اس تمہید کے بعد ہم آج کی ایک ایسی خبر کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جس کا تعلق بھی جسمانی عوارض اور اس کے علاج سے بنتا ہے بلکہ ہم جیسے عمر رسیدہ لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ہماری عمر کے لوگوں کو اپنی صحت برقرار رکھنے کے لئے صبح و شام دوائیاں لینا پڑتی ہیں۔ چنانچہ جب اخبارات میں دوائیوں کی قیمت میں اضافے کی خبر چھپتی ہے تو سب سے پہلے ہماری نظر اس پر ہی پڑتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے بھی ایک خبر لگی تھی کہ ڈرگز پرائس کمیٹی نے قومی ڈرگ پالیسی 2015ء کے تحت رواں مالی سال کے لئے ادویہ کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی۔ ان احکامات کے تحت فارما سیوٹیکل کمپنیوں کو 70ہزار رجسٹرڈ ادویہ کی قیمتوں میں کنزیومر پرائس انڈکس کے تحت شیڈول ادویہ 50فیصد اور نان شیڈول ادویہ کی 70فیصد قیمت بڑھانے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ تو ادویہ کی قیمتوں میں اضافے کا سرکاری پروانہ تھا۔ فارما سیو ٹیکل کمپنیاں اپنی مرضی سے قیمتوں میں جو اضافہ کرتی ہیں وہ اس سے علاوہ ہیں ۔ قیمتوں میں اضافے کے لئے ادویات کی خود ساختہ شارٹیج ایک علیحدہ حربہ ہے۔ جعلی ادویات کی نکاسی کے لئے بعض معالجوں سے گٹھ جوڑ بھی ایک الگ مسئلہ ہے۔گزشتہ روز اخبارات میں نیا نام ' پیکنگ تبدیل' پرانی ادویہ مہنگی کرنے کا انوکھا فارمولا کی سرخی کے ساتھ یہ خبر لگی ہے کہ منافع کے اضافے کے لئے بین الاقوامی ادویہ ساز کمپنیوں نے قیمتوں میں اضافے کا نیا حل ڈھونڈ لیا ہے۔ فارما سیو ٹیکل کمپنیوں نے 15ہزار پرانی رجسٹرڈ اور فروخت ہونے والی ادویہ کی مقدار اور ہیئت تبدیل کرکے نئی دوائی کے طور پر ان کی رجسٹریشن کرکے نئی قیمتوں کے تعین کے لئے ڈرگ پرائس کمیٹی کو درخواست دے دی ہے۔ لگتا ہے کمیٹی بھی اسی انتظار میں بیٹھی تھی درخواست ملتے ہی اجلاس طلب کیا اور مذکورہ ادویہ کو نئی ادویہ کے طور پر رجسٹرڈ کرنے کی منظوری عنایت کردی جس کے نتیجے میں کمپنیوں کو نئی قیمتیں ملنے پر درد بخار کی گولی ڈیڑھ سے بڑھ کر 10روپے' فالج اور دماغی امراض کے علاج کی گولی 14روپے سے بڑھ کر 106ہو جائے گی۔ یادرہے کہ ڈرگ رجسٹریشن بورڈ رواں ماہ ہی تشکیل ہوا ہے اور اس نے اپنے پہلے ہی اجلاس میں عوام کی بجائے بغیر کسی جانچ پڑتال اور تحقیقات کرنے کے بین الاقوامی فارما سیوٹیکل کمپنیوں کا مفاد مد نظر رکھا اور پرانی رجسٹر ادویہ کو نئی پیکنگ اور ناموں کے ساتھ نئی ادویہ کے طور پر رجسٹرڈ کرنے کی منظوری دے دی اور ڈرگ پرائس کمیٹی کو نئی قیمتیں مقرر کرنے کی سفارش کردی ۔ ظاہر ہے ہم جیسے بزرگ شہریوں اور60فیصد سے زیادہ خط غربت سے نیچے رینگنے والی مخلوق کو بھی ادویات کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ کیا وہ ادویہ کی قیمتوں میں ان آئے روز کے اضافے کو برداشت کر سکیں گے یا پھر موت کو گلے لگانے کو ترجیح دیں گے۔ ظاہر ہے ان کے پاس غالب کی طرح کوئی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں۔ موت ہی ان کا مقدر ہے۔

منحصر مرنے پر ہو جس کی امید
نا امیدی اس کی دیکھا چاہئے

متعلقہ خبریں