ترکی میں جدید و قدیم کی کشمکش تاریخی تناظر میں

ترکی میں جدید و قدیم کی کشمکش تاریخی تناظر میں

یورپ میں سائنسی ترقی اور امریکہ کے سپر پاور بننے کے بعد سے یہ بحث اسلامی دنیا کے تقریباً ہر حصے میں چلی آتی ہے کہ امریکہ اور یورپ کے اسلامی دنیا کس قسم کا تعامل اختیار کرے۔ سیاسی' تعلیمی' معاشی اور زندگی کے دیگر شعبوں میں یورپ کی ترقی اور جدیدیت سے کہاں تک استفادہ کیا جائے اور کس مقام پر رکا جائے۔ سیاسیات مغرب میں مذہب کاعمل دخل نہیں ہے تو کیاہماے ہاں بھی جمہوریت کی مالا جپنے کے لئے مذہب (اسلامی احکام و اقتدار)کو خیر بادکہا جاسکتاہے؟ کیا مغرب اور امریکہ کے معاشیات کے اصولوں کو من و عن اختیار کرنے سے واقعی معاشی ترقی کاحصول ممکن ہے؟ کیا سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے ذریعے غربت ختم ہوسکتی ہے۔ کیا تعلیم کا مقصد محض فطری قوانین کا حصول اور اس کے ذریعے زندگی کو آسان تر بنانے کے لئے تگ و دو ہی ہے یا ان سارے امور میں اسلام کا اپنا بھی کوئی لائحہ عمل ہے۔مغرب کی سائنسی اور علوم و فنون کی دنیا میں ہو شربا ترقی کے بارے میں امت مسلمہ میں جس قوم اور خطے کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا وہ ترک قوم ہے۔ بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں ترکی میں قدیم و جدید کے درمیان بڑھتی ہوئی مغربی تہذیب و تمدن کے حوالے سے یہی کشمکش برپا تھی جس کا ذکر سطور بالا میں ہوا۔ ایک طرف عثمانی خلافت کے عہد کے قدیم طرز کے علماء کا گروہ تھا جو مغرب کے دھانے پر مقیم ہونے کے باوجود اس وقت کے جدید تقاضوں اور جدید علوم و فنون اور بدلتے حالات کا ادراک نہ کرسکے اور جب بڑھتے ہوئے یورپی عزائم کو بھانپ کر بیسویں صدی کے ان آزمائشی برسوں سے بہت پہلے سلطان سلیم (1789-1807 ) اور اس کے بعد اس کے جانشین سلطان محمود (1808-1839) نے ترک قوم کو یورپ کے ساتھ علمی و عسکری سطح پر برابر رکھنے کے لئے نئے تعلیمی اداروں اور فوجی تنظیمات کی بنیادیں ڈالیں اور جدید اصلاحات نافذ کیں تو علماء کے گروہ نے سخت مخالفت کی حالانکہ زیرک سلطان محمودنے جدید طرز کے تنظیماتی سکولوں اور کالجوں کے حوالے سے حکم نامے میں واضح طور پر کہا تھا کہ مذہب کے لوازم کا علم تمام مسلمانوں پر فرض ہے اور ایسے تمام دنیاوی مقاصد پر فوقیت حاصل ہونی چاہئے۔ سلطان محمود کے بعد ان ہی تنظیمات سکولوں اور کالجوں میں جدیدیت کے وہ علمبردار جو زیادہ مغربی اور خاص طورپر فرانسیسی فکر کے سر چشموں سے سیراب تھے اور لادینیت(سیکولر ازم) سے متاثر تھے قابض ہوئے۔ اس کے علاوہ مغربی طاقتوں او ر عثمانی حکومت میںرہنے والی ان کی پروردہ مسیحی اقلیت کے پیشہ ورانہ پیروکار اور نیاز مند بھی تھے۔ قدیم و جدید کے درمیان اسی کشمکش کے رد عمل میں اسی دور میں ترک قوم میں نامور مفکر نامق کمال آگے بڑھا۔ نامق کمال نے مغربی تہذیب و علوم سے استفادہ کی بہترین اور متوازن دعوت اور جدید و قدیم کو مناسب اور موزوں انداز میں ملانے کا فارمولا اپنے مضامین میں پیش کیا۔ لیکن جیسا کہ عام دستور ہے اس وقت سلطان عبدالعزیز نے انہیں جلا وطن کیا۔ سلطان عبدالعزیز کے بعد وہ وطن واپس آیا لیکن حکومت نے اسے نظر بند کیا اور نظر بندی ہی میں 1888ء کو وفات پاگئے۔ نامق کمال نے جس خوبصورتی کے ساتھ جدید و قدیم کے میلاپ کی وضاحت کی اس میں اسلامی دنیا کے لئے آج بھی بہت بڑا سبق موجود ہے۔ آپ نے دینی' اخلاقی اور قانونی اداروں کی اصل یا مثالی شکل پیش کرنے کی کوشش جو اسلام سے منسوب کئے جاتے ہیں اور قدیم عثمانی روایات کے عروج کے زمانہ کے سیاسی اداروں کی بھی اصلی اور مثالی شکلیں پیش کیں اور مغربی تہذیب کے ان پہلوئوں کو بھی نمایاں کیا جن کی وجہ سے مغربی اقوام کو ترقی' فارغ البالی اور فوقیت حاصل ہوئی تھی۔ ان تینوں عناصر پر بحث کرکے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ان میں کوئی بنیادی اختلافات نہ تھے بلکہ ذرا سی محنت اور غور و فکر کے بعد جدید و قدیم کاحسین امتزاج تیار کرکے ملک و قوم کی ترقی کی راہیں ہموار کرنے کے علاوہ مغرب کی ترقی یافتہ کے ساتھ تصادم سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ اسلام معاشرہ کی اخلاقی اور قانونی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ ریاستی امور میں مسلمان اقوام اپنی روایات اور دنیا کی متعدد مذاہب اور قومیتوں کے درمیان رواداری کی آفاقی پالیسی کو سیاسی پالیسی کی بنیاد بنایا جائے اور مغربی تہذیب کے وہ مادی اور علمی طریقے اور اسلوب سیکھے جائیں جس سے اس نظام کی طاقت اور معاشی ترقی عیاں ہے ' تو ترکی اور باقی اسلامی دنیا کو بھی استحکام حاصل ہوتا۔ لیکن شومئی قسمت ملاحظہ کیجئے کہ ترکی میں ترقی اور استحکام کے ان تین عناصر کے بارے میں ذہنی انتشار پیدا ہوا اور نتیجتاً شریعت یعنی اسلامی قانون کی جدیدیت سے گزارنے کے لئے فرانس سے ضابطہ قانون مستعار لینے کی خاطر ترک کردیاگیا جبکہ تعلیم' حکومت' سائنس' معاشیات اور زراعت کے سلسلے میں مغربی طریقوں اور اسلوبوں کو درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا گیا اور ترکی کو ایک جدید سائنس کی طفلانہ خواہش میں بلا سبب یورپی طاقتوں کے احسانات' سیاسی اور معاشی معاملات میں جیسے تیسے قبول کرلئے۔ ان کا نتیجہ یہ ہوا کہ عثمانی ریاست اپنی سا لمیت اور خود مختاری کھو بیٹھی۔ انہوں نے انتظامی معاملات میں جدید جمہوری نظاموں کا اصول بھی رائج نہیں کیا جبکہ نہ تو قدیم عثمانی سیاسی اداروں اور نہ ہی اسلامی قانون میں ایسی بات تھی جو جمہوریت' ترقی اور جدید سائنس سے ہم آہنگ نہ ہوسکتی تھی۔ کیا عالم اسلام میں آج کہیں یہی صورتحال تو نہیں ہے؟

متعلقہ خبریں