سیل فون کا غلط استعمال

سیل فون کا غلط استعمال

عہد حاضر کی ایجادات میں سیل فون بھی کمال کی چیز ہے اس کی وجہ سے آپ ہر وقت اپنے لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں کسی کو ضروری پیغام دینا ہویا کسی سے کوئی بات پوچھنی ہو بندہ آپ کی پہنچ سے باہر نہیں ہوسکتا لوگ واش روم میں بھی اپنے ساتھ سیل فون لے جاتے ہیں تاکہ کوئی اہم فون سننے سے رہ نہ جائے ۔سمارٹ فون میں نیٹ بھی ہر وقت دستیاب ہوتا ہے کسی اہم بات کے حوالے سے معلومات حاصل کرنی ہو بس گوگل پہ جاکر ریسرچ کیجیے اوراپنی معلومات میں اضافہ کیجیے موسیقی کے شوقین ہر وقت اپنی مرضی کے گانے سن سکتے ہیں یہ اور اس طرح کے بہت سے کام اور مشاغل سیل فون کی وجہ سے ہر وقت آپ کی دسترس میں ہیں۔ کل ہم اخبارات کے سٹال پر کھڑے ورق گردانی کررہے تھے۔ہم نے اس سے حیران ہو کر پوچھا کہ اخبارات کے ساتھ ساتھ چھولے فروشی ! یہ کیا ماجرا ہے ؟ تو وہ کہنے لگا جناب آج کل لوگ اخبارات بھی سیل فون پر پڑھتے ہیں انہوں نے اخبارات خریدنے چھوڑ دیے ہیں جس سے ہمارا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے اگر چھولے نہ بیچیں تو کیا کریں بچوں کا پیٹ تو ہر حال میں پالنا پڑتا ہے مگر وہ جو کہتے ہیں کہ کوئی بھی چیز اپنی ذات میں اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اچھا ئی اور برائی کا دارومدار اس کے استعمال پر ہوتا ہے اگر کلاشنکوف وطن کے محافظ کے ہاتھ میں ہو تو باعث رحمت ہے اور اگر کسی ڈاکو کی ملکیت ہو تو بہت بڑا عذاب ہوتا ہے۔ سیل فون کے ساتھ بھی کچھ اسی قسم کا معاملہ ہے اس کے غلط استعمال سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ آپ کو اپنے سیل فون پر موصول ہوتی ہیں جب تحقیق کی جاتی ہے تو ان کا قرآن و حدیث سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا یہ بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے ہر آدمی میں اتنی استعداد نہیں ہوتی کہ وہ کھوٹے اور کھرے کو پہچان سکے لوگ بلا سوچے سمجھے اس قسم کے پیغامات آگے بھجواتے رہتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے ۔ہمارے ایک مہربان ابن منیب نے وٹس ایپ پر اسی حوالے سے سیل فون کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کی بڑے اچھے انداز میں نشاندہی کی ہے ان کا بھیجا ہوا برقی پیغام آپ بھی پڑھ لیں۔انٹر نیٹ کی دنیا میں اور خاص طور پر فیس بک اور سیل فون پر علامہ اقبال کے نام سے ایسے بہت سے اشعار گردش کرتے رہتے ہیں جن کا اقبال کے انداز فکر اور انداز سخن سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ کلام اقبال اور پیام اقبال سے محبت کا تقاضا ہے اور اقبال کا حق ہے کہ ہم ایسے اشعار کو ہر گز علامہ اقبال سے منسوب نہ کریں جو اقبال کے نہیں ہیں۔ذیل میںایسے اشعار کی مختلف اقسام اور مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ 

پہلی قسم ایسے اشعار کی ہے جو ہیں تو معیاری اور کسی اچھے شاعر کے مگر انہیں غلطی سے علامہ اقبال سے منسوب کردیا جاتا ہے ایسے اشعار میں عموماًعقاب، قوم، اور خودی جیسے الفاظ کے استعمال سے قاری کو یہی لگتا ہے کہ یہ شعر اقبال ہی کا ہے۔ یہ جن شعراء کے اشعار ہیں ان کا نام بھی بریکٹ میں لکھ دیا گیا ہے۔
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
(سید صادق حسین)
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا (ظفر علی خان)۔ پھر ایسے اشعار ہیں جو ہیں تو وزن میں مگر الفاظ کے چنائو کے لحاظ سے کوئی خاص معیار نہیں رکھتے یا کم از کم اقبال کے معیاراور اسلوب کے قریب بھی نہیں ہیںمثلاً
عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی
۔ اس قسم کے اشعار کو پہچاننا سب سے آسان ہے کیونکہ اس میں شامل اشعار دراصل کسی لحاظ سے بھی شعری معیار نہیں رکھتے اور زیادہ تر اشعار کہلانے کے لائق بھی نہیں ہیںمثلاً
کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے اقبال
وہ کون سا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرے پروردرگار سے
تیرے سجدے کہیں تجھے کافر نہ کردیں اقبال
تو جھکتا کہیں اور ہے اور سوچتا کہیں اور ہے
دل پاک نہیں تو پاک ہوسکتا نہیں انساں
ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہت
کرتے ہیں لوگ مال جمع کس لیے یہاں اقبال
سلتا ہے آدمی کا کفن جیب کے بغیر میرے بچپن کے دن بھی کیا خوب تھے اقبال بے نمازی بھی تھا بے گناہ بھی
وہ سو رہا ہے تو اسے سونے دو اقبال
ہو سکتا ہے غلامی کی نیند میں وہ خواب آزادی کے دیکھ رہا ہو
گونگی ہوگئی آج زباں کچھ کہتے کہتے
ہچکچا گیا میں خود کو مسلماں کہتے کہتے
یہ سن کر چپ سادھ لی اقبال اس نے
یوں لگا جیسے رک گیا ہو مجھے حیواں کہتے کہتے ۔

متعلقہ خبریں