فاٹا انضمام بارے مکمل اتفاق رائے کی ضرورت

فاٹا انضمام بارے مکمل اتفاق رائے کی ضرورت

فاٹا کے خیبر پختونخوا کے غلط ہجے کے ساتھ لکھے گئے انضمام کے بینر تلے کل جماعتی کانفرنس میں اکثریتی جماعتوں کا فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ جبکہ حکومتی اتحادی جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخوا میپ کی جانب سے اعلامیے کی مخالفت ایک جمہوری فورم کی رائے ہے جس کا احترام کرنا ہی جمہوریت کا تقاضا اور حکومت کی ذمہ داری ہے خود ایک قبائلی نمائندہ جرگہ میں انضمام کی مخالفت کی رائے سامنے آئی ہے۔ اس ضمن میں ریفرنڈم کی تجویز اس لئے موزوں ہے کہ اس کے ذریعے فاٹا کے عوام سے مجموعی و انفرادی رائے لی جائے اور اس کے مطابق معاملات کو آگے برھایا جائے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فاٹا اصلاحات کی رپورٹ کو اگر سمجھ کر اور بغور پڑھا جائے تو اس مطالبے کی گنجائش نہیں رہے گی کہ 2018ء کے انتخابات سے قبل فاٹا کا پختونخوا میں انضمام کیا جائے اور قبائلیوں کو صوبائی اسمبلی کا ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے۔ ایسا ہونا کسی طور ممکن نہیں اور اگر اس قدر عجلت کا مظاہرہ کیا گیا تو بجائے اصلاح اور قبائلی عوام کے مفادات کے تحفظ کی بجائے ان کو کسی نئی مشکل صورتحال کا سامنا ہونا عجب نہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فاٹا کے انتظامی ڈھانچے کی مرحلہ وار تحلیل ہونی چاہیئے اس کی ابتداء ایف سی آر کے خاتمے سے ہونی چاہیئے جس پر فاٹا کے عوام کا مکمل طور پر اتفاق ہے ۔ ایف سی آر کے کالے قانون کے خاتمے کے بعد فاٹا کے عوام کو کھلی فضا میں سانس لینے کا موقع ملے گا اور وہ زیادہ آزادی و اعتماد کے ساتھ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گے ۔ فاٹا انضمام بارے کل جماعتی کانفرنس میں میزبان جماعت اے این پی کے قائد اسفند یار ولی خان کا اپنے خطاب میں اس حقیقت کا اظہار کہ ڈیورنڈ لائن پاکستان کی مستقل سرحد میں تبدیل ہو چکی ہے اے این پی کی سوچ میں بڑی تبدیلی اور حقیقت کے اعتراف کا ثبوت ہے جو نہایت خوش آئنداور خود اے این پی کے حوالے سے برسوں سے جاری شکوک و شبہات کے ازالے کا باعث ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن اور اچکزئی کے موقف اور تحفظات سمجھ سے بالا تر ہیں جو اب بھی ڈیورنڈ لائن کے بارے میں تاریخی اور زمینی حقیقت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بجا طور پر اس امر کا اظہار کر کے شکوک و شبہات اور درون خانہ صورتحال کو آشکار کر دیا کہ فاٹا کے عوام نے خود پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا دو قدم آگے بڑھ کر یہ تاریخی حقیقت ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے قبائلیوں کو بازوئے شمشیر زن کا خطاب دیا او رقبائلیوں نے آزادی کشمیر ، گلگت بلتستان کی جنگ سمیت جہاں جہاں بھی ملک کو قربانی اور پروانہ وار جان نچھاور کرنے کی ضرورت پیش آئی رضا کارانہ طور پر اور بے تنخواہ سپاہی کے طور پر خلوص کے ساتھ صف اول میں جگہ حاصل کی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا میدان فاٹا بنا تو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی عارضی نقل مکانی قبائلی عوام ہی نے کی ۔ فرحت اللہ بابر نے بجا طور پر اس امر کا اظہار کیا کہ قانون اور رواج کو بہانہ بنا کر فاٹا کے انضمام کی مخالفت نہ کی جائے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسلام آباد فاٹا پر اب بھی کنٹرول رکھنا چاہتا ہے جب تک فاٹا ریموٹ کنٹرول ہوگا اس وقت تک حالات سود مند نہیں ہو سکتے ۔ مولانافضل الرحمن کے اس استد لال میں وزن ہے کہ فاٹا میں چیف آپریٹنگ آفیسر کی تعینا تی برائی کی بنیاد تو بن سکتی ہے مسائل کا حل نہیں ۔ فاٹا کے حوالے سے اختیار کردہ سیاسی جماعتوں کے موقف کامن حیث المجموع احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہم یہ گزارش کریں گے کہ وہ فاٹا کے انضمام کو سیاسی عینک سے دیکھنے کی بجائے فاٹا کے عوام کے مفادات اور ان کو قومی دھارے میں لانے کے تناظر میں دیکھیں ۔فاٹا گرینڈ جرگہ کے اراکین اور عمائدین سے بھی گزارش ہوگی کہ وہ مراعات و اختیارات اور حیثیت کی تبدیلی و محرومی کی تنگ نظری سے نکل آئیں اور فاٹا کے نوجوان کے مستقبل کی فکر کریں تاکہ ان کی تجاویز و آراء کا خیر مقدم کیا جائے ۔ قبائلی اصلاحات کے کئی مواقع آئے اور ضائع گئے۔2006ئصاحبزادہ امتیاز احمد رپورٹ۔اسے فاٹا میں انتظامی اصلاحات میں پہلی جامع کوشش قرار دیا جاتا ہے لیکن آئین سے متعلق ترامیم پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔2008جسٹس (ر) میاں محمد اجمل رپورٹ۔ برطانوی راج سے نافذ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن میں ترامیم تجویز کی گئیں لیکن ایف سی آر 2011میں سب کو شامل نہ کیا گیا۔2011صدر آصف علی زرداری نے سیاسی جماعتوں کو سرگرمیوں کی اجازت دی اور لوکل باڈیز ریگولیشن بھی تیار کیا گیا لیکن سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے ان پر آج تک عمل درآمد نہ ہوسکا۔2015گورنر خیبرپختونخوا نے فاٹا ریفارمز کمیشن تشکیل دیا جس کی سفارشات پر بھی جزوی عمل درآمد ممکن ہوسکا۔اکثر قبائلیوں کو معلوم ہے کہ ان اصلاحات سے وہاں فوراً دودھ کی نہریں نہیں بہیں گی لیکن ان کے حالات میں کچھ تبدیلی آ ہی جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت نے اپنی اصلاحاتی تجاویز سے 60 لاکھ قبائلی آبادی کو آگاہ بھی کیا ہے۔کیا انہیں مکمل تصویر دکھائی گئی ہے؟ کیا انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے یا الگ صوبہ بننے کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں؟ صوبے کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے حامیوں کی بھی کمی نہیں اورفاٹا کوالگ صوبہ بنانے کے حوالے سے بھی مہم چلائی جاتی رہی ہے۔بہر حال کوشش اس خطے کو اس غیریقینی کیفیت سے بچانے کی ہونی چاہیے اورقبائلی عوام کی ترقی و خوشحالی اور ان کوشہری سہولتوں کی فراہمی کومقدم رکھا جانا چاہیئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کا فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ کتنا دانشمندانہ ثابت ہوتا ہے۔اور اس حوالے سے پائے جانے والے خدشات اور اعتراضات کو کس طرح نمٹا یا جاتا ہے جو بھی ہو فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ سوچ سمجھ کر ہونا چاہیئے جس میں عوام کی مرضی و منشا اور ان کا مفاد مقدم رکھا جائے اور ایک ایسی بنیاد رکھی جائے کہ قبائلی عوام اور قبائلی علاقہ جات حقیقی معنوں میں قومی دھارے میں شامل ہو سکیں ۔

متعلقہ خبریں