ہسپتالوں کی نیم خراب مشینری

ہسپتالوں کی نیم خراب مشینری

خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں مشینری کی خرابی جس میں زیادہ تر معمولی نوعیت کی خرابی ہوتی ہے کے باعث علاج معالجے کا پورا نظام متاثر ہونا کوئی راز کی بات نہیں ہسپتالوں سے واسطہ پڑنے والے تمام افراد کو اس کا بخوبی تجربہ اور علم ہے۔ صرف یہی ایک مسئلہ نہیں بلکہ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ حکومت کی طرف سے نئی مشینر ی کی فراہمی کے باوجود ہسپتالوں کی انتظامیہ کا مختلف وجوہات کی بناء پر اسے بروئے کار نہ لانا بھی تقریباً ہر دوسرے تیسرے ہسپتال اور شفا خانے کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس ضمن میں اکثر و بیشتر مشینری اور آلات کی موجودگی کا ہونا مگر اس کو بروئے کار لانے کیلئے عملے کی عدم موجودگی بڑی وجہ بتائی جاتی ہے۔ بعض مقامات پر سب کچھ موجود ہونے کے باوجود ہسپتال کی انتظامیہ اور عملہ طبی آلات سے کماحقہ فائدہ اٹھانے سے احتراز برتتا ہے جس کی وجہ سستی کاہلی نا اہلی اور بد انتظامی سے لے کر ملی بھگت سے مشینری اورآلات کو ناکارہ ظاہر کر کے مریضوں کو ہسپتال سے باہر لیبارٹریز ، ایکسر یز ، سی ٹی سکین اور دیگر تشخیصی ضروریات کیلئے بھیجا جاتا ہے ۔ سرکاری ہسپتالوں میں مشینری اور طبی آلات کو جان بوجھ کر خراب ظاہر کرنا معمول بن چکا ہے بعض اوقات محض سیل یعنی بیٹری نہ ہونے کا بہانہ کر کے مریض کو باہر سے تشخیص کرانے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ چونکہ انتظامی بکھیڑ ے بھی کم پیچیدگی کا باعث نہیں ہوتے بنا بریں معمولی نوعیت کے فنڈز اور اجازت نامہ نہ ہونے کی بناء پر علاج معالجے کی سہولتوں کی معطلی ہوتی ہے۔ ان سارے امور کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ اتنے مشکل اوروسائل و فنڈز طلب نہیں ہوتے جس کیلئے حد سے زیادہ تگ و دو کی ضرورت ہو۔ حکومت اگر ان معمولی مسائل کو پہاڑ بنانے والوں کا ہاتھ روکے اور ہسپتالوں میں پڑی مشینری کی مرمت اور طبی آلات کی درستگی پر توجہ دے تو ہسپتالوں کی حالت میں خاصی بہتری لائی جا سکتی ہے اس طرف صرف توجہ کی ضرورت ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اب جبکہ مسئلے کا سراہاتھ آگیا ہے تو حکومت اس مسئلے کے حل میں تساہل و تاخیر کا مظاہر ہ نہیں کرے گی اور ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بلاوجہ معطل سہولتوں کو جلد سے جلد بحال کر کے مریضوں کو سہولت فراہم کی جائے گی ۔
سرکاری کالجوں میں نجکاری کا معاملہ
سرکاری کالجز کی نجکاری کے حوالے سے اساتذہ کرام جو مظاہرے اور احتجاج کر رہے ہیں ممکن ہے جو وہ سمجھ رہے ہیں یا جس قسم کا وہ تاثر دے رہے ہیں حکومت کا منصوبہ ایسا نہ ہو ۔ سرکاری کالجوں میں بورڈ آف گورنر بنانے اور اس کے ذریعے اس کا انتظام کرنے کے طریقہ کار کو نجکاری قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ حکومت کالجوں کو کسی سیٹھ کے ہاتھوں فروخت نہیں کر رہی ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کا حکومت کے پاس اختیار ہے۔ اصلاح احوال اور بہتری کیلئے اقدامات حکومت کا حق ہے مختلف نوعیت کے معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ اکثر و بیشتر ملازمین ابتدامیں احتجاج کرتے ہیں اور مظاہرے کئے جاتے ہیں اور بالآخر مل بیٹھ کر معاملے کا حل نکل آتا ہے یا پھر حکومت اپنی بات منوا کر رہتی ہے ۔ سرکاری کالجوں کے اساتذہ کرام کو اس امر پر غور ضرور کرنا چاہیئے کہ آخروہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بناء پر سرکاری تعلیمی اداروں کا تعلیمی معیار من حیث المجموع بہتر ہوتا ۔ چند ایک کالجوںکی مثال دینا اس لئے قرین انصاف نہ ہوگا کہ ان کالجوں میں ہائی میرٹ پر داخلہ لینے والے طالب علم نجی سکولوں ہی سے آئے ہوتے ہیں اور وہ کالجوں میں داخلے کے بعد بھی ٹیوشن سنٹر اور گھروں پر ٹیوشن پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بہر حال صورتحال جو بھی ہوکالجوں کے واجب الاحترام اساتذہ کرام کی بے چینی اور ان کا سڑکوں پر احتجاج طالب علموں ، معاشرے اور حکومت کیلئے کوئی فخر کی بات نہیں بلکہ خجالت کی بات ہے ۔ حکومت کو اپنے پروگرام اور منصوبے بارے اساتذہ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے اور کوئی ایسا فارمولہ وضع کرنے کی ضرورت ہے جس پر فریقین انصاف کر سکیں اور اگر واقعی حکومت سرکاری کالجوں کی نجکاری پر تلی ہوئی ہے تو یہ عوام کے مفاد میں نہ ہوگا جس کے خلاف اساتذہ ہی نہیں طالب علموں اور عوام کو مل کر احتجاج کرنا ہوگا ۔

متعلقہ خبریں