روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور شدت پسندی

روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور شدت پسندی

اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کچھ عرصہ پہلے خبردار کیا تھا ''اگر میانمار میں نسلی کشیدگی کا خاتمہ نہ کیا گیا توملک میں انتہاء پسندی کو فروغ ملے گا ''۔ کوفی عنان کے یہ الفاظ آج لفظ بہ لفظ سچ ثابت ہورہے ہیں ۔ میانمار میں حکومت اور بدھ اکثریت کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و جبر کے تسلسل نے روہنگیا مسلمانوں کے کچھ گروہوں کو انتہاء پسندی کی طرف راغب کرکے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔میانمار میں جاری روہنگیا مسلمانوں کی حالیہ نسل کُشی کا آغاز مسلح روہنگیا مسلمان گروہوں کی جانب سے میانمار کی سیکورٹی فورسز اور سیکورٹی چیک پوسٹس پر حملوں سے ہوا۔ ان حملوں میں تقریباً ایک درجن سیکورٹی اہلکار وں کے ساتھ ساتھ کچھ بدھ سویلین بھی مارے گئے تھے۔ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کی حالیہ لہر سب سے زیادہ خوفناک ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق حالیہ تشدد کے آغاز سے لے کر اب تک تقریباً ایک لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار چھوڑ کر بنگلہ دیش جاچکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق روہنگیا مسلمان وہ اقلیت ہیں جن پر دنیا میں سب سے زیادہ ظلم کیا گیا ہے۔روہنگیا مسلمان میانمار میں ایک اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں جہاں پر ان کو میانمار کا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی مہاجرین کہا جاتا ہے۔اس ساری صورتحال میں بدھ قوم پرستی کی حالیہ لہر نے جلتی پر تیل کاکام کیا ہے جس کی وجہ سے بدھ بلوائیوں کے حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوبیل انعام یافتہ لیڈر آنگ سان سوچی کی روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر شرمناک خاموشی انتہائی تکلیف دہ ہے۔آنگ سان سوچی کی خاموشی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ برما میںاپنی مقبولیت میں کمی کے خطرے کے پیشِ نظر برمی فوج اور بدھ اکثریت کے خلاف زبان کھولنے سے کترارہی ہیں۔اب دوبارہ روہنگیاعسکریت پسندی کی بات کرتے ہیں جس کا آغاز پچھلے سال ہوا جب سعودی عرب میں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں نے ایک عسکریت پسند گروپ کی بنیاد رکھی۔ اس عسکریت پسند گروپ کا نام 'اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (ارسا) ' ہے جس کی قیادت پاکستان میں پیدا اور سعودی عرب میں پرورش پانے والے ایک روہنگیا مسلمان 'عطا اللہ ابو امر جنونی' کے ہاتھ میں ہے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی ) کے مطابق جنونی اور دیگر روہنگیاعسکریت پسندوں نے پاکستان اور افغانستان سے ملٹری ٹریننگ حاصل کی ہے۔ ارسا کو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے روہنگیا مسلمانوں اور سعودی عرب کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک سے مالی امداد ملتی ہے۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کی اکثریت کے مطابق میانمار کی حکومت نے خود ایسے حالات پیدا کئے جن کی وجہ سے ارسا جیسے گروپ وجود میں آئے۔میانمار میں کئی نسلوں سے بسنے کے باوجود میانمار کی حکومتوں نے بدھ اکثریت کے حامل ملک میں روہنگیا مسلمانوں کوان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا اور انہیں ہمیشہ بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کا درجہ دیا جاتا رہا ۔ دوسری جانب بنگلہ دیش بھی روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری ماننے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ 2012ء میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی تشدد کی لہر سے 120,000 روہنگیا میانمار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے جس کا کوئی سیاسی حل نہیں نکالا گیا تھاجس کی وجہ سے روہنگیا مسلمانوں میں بغاوت نے جنم لینا شروع کرد یاتھا۔اس کے علاوہ 2015ء کے عام انتخابات میں روہنگیا مسلمانوں کوووٹ کے حق سے محروم کرنے اور انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائیوں کے ذریعے روہنگیا مسلمانوں کے ملک چھوڑنے کے راستے مسدود کرنے کی وجہ سے اس بغاوت میںمزید اضافہ ہوا۔ ارسا کی جانب سے پہلی شدت پسند کارروائی 9 اکتوبر 2016ء کو کی گئی جس میں ہزاروں روہنگیا شدت پسندوں نے ریاست اراکان میں تین مختلف پولیس سٹیشنوں پر حملہ کرکے نو پولیس افسران کو ہلاک کردیا۔ برمی فوج کی جانب سے اس حملے کا جواب انتہائی وحشیانہ انداز میں دیا گیا تھا۔ ایک مہینے پر محیط فوجی آپریشن میں گائوں کے گائوں جلا دیئے گئے اور ان گائوں میں رہنے والے سینکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران اقوامِ متحدہ نے برمی فوج پر خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزام عائد کئے تھے۔اگر حالیہ بحران پر نظر ڈالی جائے تو یہ اب تک کا سب سے بڑا بحران ہے ۔ ارسا اب تک تقریباً دو درجن پولیس پوسٹس پر حملے کرچکی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ارسا کی انتظامی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آئی سی جی کے مطابق ارسا کی جانب سے سویلینز پر حملے بھی کئے گئے ہیں جن کی وجہ سے حالیہ بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ارسا کوئی جہادی تنظیم نہیں ہے اور ارسا کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں بھی ارسا نے کسی دہشت گرد تنظیم سے وابستگی ظاہر نہیں کی۔ ارسا نے اپنے اہداف روہنگیا مسلمانوں کی حفاظت اور برمی سیکورٹی فورسز کے خلاف دفاعی جنگ تک محدود رکھے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ارسا کے جنگجوئوں کی تعداد کتنی ہے لیکن دونوں جانب سے کی جانے والی پُرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے میانمار میںنسلی منافرت میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے۔ میانمار کا روہنگیا مسلمانوں کے خلاف بے لچک رویہ روہنگیا شدت پسندی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے جس سے نہ صرف میانمار بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں امن قائم کرنے کے اپنے تجربے کی بنیاد پر اقوامِ متحدہ کو میانمارکے مسئلے پر مداخلت کرکے امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ورنہ میانمار میں بھڑکنے والی آگ کے شعلے بنگلہ دیش اور خطے کے دیگر ممالک تک پھیل جائیں گے جس سے پوری دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ 

(ترجمہ: اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں