یہ 1988ء نہیں

یہ 1988ء نہیں

جناب نواز شریف کو تحمل کے ساتھ سوچنا ہوگا کہ اداروں سے ان کی بگڑی کیوں۔ غلطی کہاں ہوئی اور ٹھوکر کہاں کھائی؟ وہ دو مرتبہ وزیر اعظم خالصتاً اشرافیہ (چلیں آپ مقتدر حلقے کہہ لیجئے) کے محبوب کے طور پر بنے اور دونوں بار عاشقوں سے پھڈہ مول لیا۔ وزیر اعظم ہائوس میں ان کی پہلی انٹری جنرل حمید گل مرحوم کے بنائے ہوئے اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعے ہوئی۔ پنجاب میں وزیر خزانہ یا پھر دوبار وزیر اعلیٰ وہ کیسے بنے یہ کوئی مسئلہ فیثا غورث ہر گز نہیں۔ دوسری بار وزیر اعظم ایک منصوبے کے تحت بنے اس منصوبے نے پہلے بھائی نگلا( مرتضیٰ بھٹو قتل کردئیے گئے) پھر بہن کی حکومت( بے نظیر بھٹو) مرحوم سردار ابن سردار فاروق لغاری اس سازشی منصوبے کے اہم کردار تھے۔ ان کا دوسرا دور حکومت مشرف سے لڑائی پر تمام ہوا۔ جنرل پرویز مشرف جنہیں انہوں نے چودھری نثار علی خان کے کہنے پر آرمی چیف بنایا اور پھر ان کے والد میاں محمد شریف نے مشرف کو اپنا چوتھا بیٹا قرار دیتے ہوئے کہا۔ مشرف جی ہن تسیں میرے وڈے پتر او( مشرف جی اب آپ میرے بڑے بیٹے ہیں) چند باتیں اور ہوئیں۔ ایک پر تکلف ڈنر اور پھر وقت رخصت میاں شریف مرحوم نے جنرل پرویز مشرف کو بی ایم ڈبلیو گاڑی کی چابی یہ کہہ کر پیش کی کہ یہ بڑے بیٹے کے لئے تحفہ ہے۔ پھر اس بڑے بھائی سے نواز شریف کی ٹھن گئی۔ انہوں نے بھائی کا جہاز نہ اترنے دیا' بھائی کے ساتھیوں نے انہیں وزارت عظمیٰ کی گدی سے اتار دیا۔ مقدمے بنے ،جیل ہوئی' سزائیں بھی۔ جناب نواز شریف جیل میں ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کر پائے۔ آنسوئوں سے بھری آنکھوں کے ساتھ وہ اٹک قلعہ میں لگی خصوصی عدالت میں کہہ رہے تھے جناب میری کوٹھڑی میں بڑے بڑے مچھر ہیں۔ قید و بند کی صعوبتوں نے نرم و نازک اور دلنواز نواز شریف کو توڑ کر رکھ دیا پھر ایک دن وہ معافی نامے کے عوض دس سالہ معاہدہ جلا وطنی کرکے خاندان کے ہمراہ ملک چھوڑ گئے۔ باورچیوں کی فوج اور درجنوں سوٹ کیسوں کے ساتھ ملک چھوڑتے ہوئے انہیں رتی برابر ملال نہ ہوا بلکہ جان ہے تو جہان ہے کی ضرب المثل ان کے پیش نظر تھی۔2013ء میں وہ ایک بار پھر مقتدرہ سے معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئے اور اقتدار انہیں مل گیا۔ اس معاہدے کے لئے وہ 2008ء سے 2013ء تک چودھری نثار علی خان اور اپنے برادر عزیز شہباز شریف کے ذریعے جنرل اشفاق پرویز کیانی کے نفس ناطقہ بنے رہے۔ انہوں نے قدم قدم پر پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف ہر وہ کام کیا جو مقتدرہ کو پسند تھا۔ یہاں تک کہ ایک دن کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ جا پہنچے۔ میاں افتخار چودھری کا طوطی بولتا تھا۔ افتخار چودھری سموسوں پکوڑوں' سبزیوں کی قیمت' چینی کی قیمت' ٹریفک جام پر سو موٹو لینے کے شوقین تھے۔ میڈیا میں زندہ رہنے کا ہنر انہیں آصف علی زرداری کے ذاتی دشمن اور ایک بڑے میڈیا گروپ کے مالک کے ملازموں نے سکھایا۔ جناب نواز شریف نے انہیں مستقبل کا صدر بنانے کا خواب بیچا اور چودھری دونوں ہاتھوں میں دو دھاری تلواریں لئے پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف عدالتی جہاد میں جت گئے۔ 1980ء کی دہائی سے اب تک کی کہانی بس اتنی ہے کہ مقتدرہ کا دیوتا مہربان تھا۔ پیپلز پارٹی کے خون کے سارے پیاسے نواز شریف کے ساتھ بلکہ پشت بان رہے۔ بد قسمتی سے وہ پہلی دو بار کی طرح تیسری بار بھی دیوتائوں سے پنگے لینے لگے۔ اب پانامہ کیس کی وجہ سے نا اہل ہوئے۔ اس لئے نفرت بھرا غصہ عروج پر ہے۔ سمجھانے والے سمجھا چکے۔ لیکن وہ ان دنوں مریم نواز' خواجہ آصف' سعد رفیق' طلال و دانیال کے علاوہ صرف سینیٹر کرمانی کی سمجھتے ہیں۔ سینیٹر کرمانی ماضی کے سیاستدان خاندان کے فرد ہیں ایوان اقتدار میں ان رہنے کا ہنر چوتھی نسل کو بھی منتقل ہوا۔ رہنے دیجئے یہ ہمارا موضوع نہیں ہم نواز شریف کی بات کر رہے ہیں۔ دو بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور تین بار وزیر اعظم بننے والے نواز شریف خدا لگتی کہیں کہ اگر مقتدرہ کے دیوتا ئوں کا سایہ ان کے سر پر نہ ہوتا تو وہ دوبار وزیرا علیٰ اور تین بار وزیر اعظم بن سکتے تھے ؟ شخصی طور پر وہ ایک بہادر مہم جو اور معاملہ فہم کبھی بھی نہیں رہے ۔ اچھا کھانا اچھا پہننا اور جگتوں (لطیفوں ) سے پر رونق محفل ان کے نزدیک زندگی میں یہی ہے ۔ سیاست کے کاروبار میں وہ بر یگیڈئیر قیوم قریشی کے توسط سے داخل ہوئے ۔ جنرل جیلانی وہ شجر سایہ دار تھے جنہوں نے انہیں بھاگ لگائے ۔ وہ اب دیوتائوں کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں ۔ جی نہیں لڑنے کا ہو ا دکھا کر وہ اپنے اور بچوں کے لئے محفوظ راستہ چاہتے ہیں ۔ 35برسوں میں وہ یہ تو سمجھ ہی گئے ہیں کہ اس ملک کے لوگوں کا حافظہ کتنا اچھا اور فہم کس معیار کا ہے ۔ نسیم حجازی کے رومانوی ناولوں کو تاریخ سمجھنے والی قوم کے نزدیک نواز شریف جمہوریت نامی فلم کا ہیرو ہے تو یہ اچنبھے والی بات ہر گز نہیں ۔ ان کے مشیرکہتے ہیں نواز شریف آبروئے جمہوریت ہے ۔ فقیر راحموں کے بقول کاروبار ایسے چلتے ہیں ۔ جناب نوازشریف خالص کاروباری گھرانے کے فرد ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ دیوتائوں سے پنگے لینے کا نتیجہ کیا ہوگا اسی لئے ہلکی پھلکی تھاپ پر رقص جمہوریت کا لطف لے رہے ہیں ۔ عملی سیاسی جدوجہد، قید کوڑے ۔ سزائیں، سڑکوں پر دھکے وہ ان میدانوں کے شہسوار تھے نہ ہوں گے ۔ سوال یہ ہے کہ ان کی خاندانی حکمرانی کے لئے عوام کے بچے جنگ کا ایندھن کیوں بنیں ؟ کاش کوئی انہیں سمجھائے یہ 1988ء نہیں 2017ء ہے ۔

متعلقہ خبریں