بر مامیں امریکی مفادات

بر مامیں امریکی مفادات

بر ما میں 25 لاکھ مسلمان ہیں۔ بر ما کے مغرب میں بھارت اور بنگلہ دیش، مشرق میں تھائی لینڈ اور تائوس ، شمال میں چین اور 1930 کلومیٹر سر حد بحیرہ بنگال کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔بر ما کی فوج کی تعداد 5لاکھ ہے ، جو دنیا کی 12 ویں بڑی فوج ہے۔بر ما میں مسلمان شہری کی دوطرح ہیں۔ برما کے بدھ مت پیروکاروں کے مطابق ایک وہ مسلمان جو برما کے مستقل رہائشی ہیں اور دوسرے وہ 13 لاکھ مسلمان ہیں جن کور وہینگن مسلمان کہتے ہیں۔ روہینگن مسلمانوں کے بارے میں بر می باشندوں کا خیال ہے کہ یہ برماکے مستقل رہائشی نہیں اور انکو وہ لوگ اس ملک میں غیر قانونی تصور کرتے ہیں۔را خائن جو بر ما کی ایک بدھ مت قوم ہے ان کو ڈر ہے کہ کہیں مسلمان ان سے یعنی راخائن سے آبا دی کے لحاظ سے بر تری نہ کرلیں۔را خائن کا مذہب بد ھ مت ہے اور ارکان صوبے میں مسلمانوں کی آبادی بد ھ مت کے قریب ہے ۔ بر ما میں مسلمانوں پر تشدد کی وجہ سے روہنگی مسلمان مختلف ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کے مطابق بر می حکومت روہنگی مسلمانوں کی شہریت سے انکار کر تی ہے۔کیونکہ برمی حکومت اور بر ما کے بدھ مت کے پیروکار کا کہنا ہے کہ سال 1823 ء سے پہلے روہنگی مسلمان اپنے آبائو اجداد کو ثابت نہیں کر سکے۔مگر مو رخ کہتے ہیں کہ مسلمان بر ما میں 11 ویں صدی سے آباد ہیں۔ موجودہ دور میں بھکشور راہب آشین وراتھو جو بر ما میں سب سے طاقت ور مذہبی راہنماء سمجھا جاتا ہے اُس نے تمام روہنگیا مسلمانوں کو واجب القتل قرار دیا ہے مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کے تشددکو جائز قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق مسلمان کے قتل سے پیروکاروں کو ثواب ملتا ہے اس کے حکم کی تعمیل میں لاکھوں مسلمان قتل اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔یہاں یہ بات انتہائی قابل ذکر ہے کہ 1559میں بر ما کا ایک شہر باکو کو جب با دشاہ بے نن انگ نے فتح کیا تو اُس نے قربانی کرنے اور مرغی ذبح کرنے پر پا بندی لگا دی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی بھی جرأت نہیں ۔1970 سے لیکر اب تک10لاکھ رو ھنگی مسلمان دوسرے ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔دنیا کے کئی مو رخین کے مطابق اورنگ زیب علم گیر سے شکست کھانے کے بعد جسب اسکے بھائی شجاع کو ہندو ستان میں کوئی جگہ نہ ملی تو وہ بھاگ کر بر ما کے سر حدی صوبے اراکان میں اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ آباد ہوا۔ یہ مسلمان اکثریتی علاقہ تھا جہاں تا جر نویں صدی ہجری یعنی ہجرت کے ڈھائی سو سال بعد آکر آباد ہونا شروع ہوئے تھے ۔ اُس وقت بر ما نام کی کوئی ریاست نہیں تھی اور نہ برما کا بادشاہ تھا۔ برمی سلطنت 1055ء عیسویں میں انا در تھ جی کے دور میں قائم ہوئی۔ تھائی لینڈ کے قریبی علاقوں میں بھی ان مسلمانوں کی آبادیاںدوسرے مذاہب سے زیادہ تھیں۔ جب شجاع وہاں پہنچا تو اراکان کے علاقے میںسندا تھوام کی حکومت تھی ۔ لیکن با دشاہ سندا تھوام کی نظریںشجاع کے سونے چاندی کے زیورات پر تھی جو وہ ہندوستان سے یہاں لیکر آیا تھا۔

با د شاہ نے شجاع با دشاہ کی بیٹی شہزادی گُل رُخ کے ساتھ زیادتی کی جس کے بعد شہزادی نے خود کشی کی۔مُغل شہزادوں اور وہاں کے مسلمانوں نے بدلہ لینے کی کوشش کی مگر بد قسمتی سے تمام کے تمام مسلمان قتل کر دیئے گئے ۔ستمبر 1660ء کی غیرت اور حمیت کی اس جنگ میں ہر مسلمان جس نے دا ڑھی رکھی تھی قتل کر دیئے گئے اور عورتوں کو جیل میں ڈالا گیا۔1752 میں بادشاہ نے مسلمان علماء ئے کرام کو اکٹھا کیا اور انکو سور کا گو شت کھانے کو کہا گیا انہوں نے انکار کیا تو قتل کر دیئے گئے۔ اس وقت بر ما میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گر دی کی 969 تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف سر گر م عمل ہیں۔اسرائیل جو دنیا میں دہشت گردی کی مدد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اُس نے بر ماکے مسلمانوں کے قتل عام کے لئے 100 ٹینک اور 500 کشتیاں دی ہیں۔بر ما کی جمہو ریت پسند نو بل انعام یافتہ خاتون آنگ سان سوچی بھی مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش ہیں۔ اسلامی کانفرنس تنظیم کے 57 ممالک نے ان پسے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف کچھ نہیں کیا۔ ترکی کے صدر طیب اُردگان اور پاکستان میں جماعت اسلامی ،جمعیت علمائے اسلام برمی حکومت اور مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ مسلمان اس وقت آبادی کے لحاظ سے 2 ارب اور دنیا کے 75 فی صد وسائل اور 27 فی صد زرعی زمین اور بے تحا شا جغرافیائی اہمیت کے حامل علاقوں کے مالک ہیں مگر ان سب وسائل کے باوجود خاموش ہیں۔اقوم متحدہ کے خصوصی نمائندے پانگ پی لی نے کہا ہے کہ برما حکومت روہنگیامسلمانوں کو مکمل طور پر ختم کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔بر ما تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال ایک جُغرافیائی ملک ہے۔ یہاں پر چین اور بھارت اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں اور چین نے یہاں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔بر ما میں میں چینی اثر رسوخ امریکہ کے لئے قابل بر داشت نہیں۔امریکہ کی پو ری کو شش ہے کہ بر ما کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے فائدہ اُٹھا کر یہاں پر اقوام متحدہ کی امن فو ج آجائے اور اسی طرح وہ تیل اور گیس سے استفا دہ کرے اوربر ما میں چین کا اثر رسوخ ختم کیا جائے۔ اور یہی وجہ ہے جس کے لئے امریکہ اور بر طانیہ پاگل ہیں۔بر ما میں جمہوریت کی کرتا دھرتا آنگ سان سوکو فوجی حکومت ختم کرنے پر امن کے لئے نوبل انعام نوازا گیا تھا۔ بد قسمتی اُس وقت سے اسکے حکم پر مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑتوڑے جا رہے ہیں ۔ بر ما کو فوجی امداد دینے والے سب سے بڑے ممالک چین ، بھارت اور روس ہیں ۔ پاکستانی حکومت اور اسلامی کانفرنس تنظیم ان سے درخواست کرے کہ اگر انہوں نے مسلمانوں پر تشدد بند نہ کیا تو ان کی فوجی امداد بند کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں