قیام امن میں اقوام متحدہ کی ناکامی

قیام امن میں اقوام متحدہ کی ناکامی

یو این او کی اپنے مقاصد میں ناکامی کے سبب اب دنیا کے مختلف کونوں سے اس کی غیر افادیت کی آوازیں اُٹھنے لگی ہیں ۔ فلسطین ، کشمیر ، تبت ، سویز ، ہنگری ، چیکو سلواکیہ ، ویت نام ، کوریا کے مسائل میں یو این بری طرح ناکام رہا ہے ۔ گزشتہ دودہائیوں سے عراق اور افغانستان میں جو صورتحال رہی ہے اور اس میں یو این کے کردار اور نا کامی سے کون واقف نہیں ہے ۔ دنیا میں نسلی و لسانی تعصب اورغلامی اب بھی موجود ہے ۔ یو این اب بھی طاقتور کے مقابلے میں کمزور کی مدد سے قاصر ہے ۔ اگر چہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ بعض مقامات پر جنگوں کو روکنے میں کامیاب بھی رہا ہے اور بعض معاملات میں یہ صحیح بھی ہے لیکن سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کے متعصبانہ رویے اور مفادات پر مبنی کردار کی وجہ سے وہ کردارا بھی ادا نہیں ہوا ہے جو لوگوں کی امید اور توقع کے مطابق ہو ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ادارے نے ابھی وہ کامیابی حاصل نہیں کی جس کے لئے اس کا قیام عمل میں آیا تھا لیکن بعض معاملات میں یہ ادارہ عالمی سطح پر اقتصادی ، معاشرتی مسائل کے حل میں مدد گار ضرور رہا ہے ۔ اور اب جبکہ امریکہ بہادر ، بھارت کو مستقل رکنیت دلانے کے لئے کوشاں ہے ، تو کشمیر پر غاصبانہ قبضہ رکھنے والے ملک کی حیثیت سے جنوبی ایشیاء میں امن قائم ہونے کے کتنے امکانات باقی رہ جاتے ہیں ۔ ان وجوہات کی بناء پر قیام امن کے لئے اقوام متحدہ کے کردار پر بحث کرتے ہوئے ایک دانشور نے بجا طور پر لکھا ہے کہ اکثر معاملات میں جہاں یواین ناکام رہا ہے ، اُس کی بنیاد ی وجہ عالمی طاقتوں کا رویہ ہوتا ہے ۔ اس ادارے کی کمزوری کا سبب بھی اس کے بانی ارکان ہیں۔ دنیا میں قیام امن ہر دور میں انسانیت کی بقا کے لئے لازمی امر رہا ہے اور مختلف قومیں اندرونی بیرو نی محاذوں پر اس کے قیام کے لئے سعی کرتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا لیکن انسانیت کے علمبردار وں کو یاد رکھنا ہوگا کہ دنیا میں قیام امن صحیح معنوں میں تب ممکن ہو سکتا ہے جب لوگ وہی راہ عمل اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام کے ذریعے بھیجا ہے اور جس کی آخری اور مکمل صورت قرآن و حدیث کی شکل میں دنیا کے سامنے موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اُس وقت جب خشکی اور تری (ساری دنیا) میں لوگوں کے اپنے ہاتھوں فساد پھیل گیا تھا بنی نوع انسان کو امن کے حصول و قیام کے لئے بیت اللہ کے رب کی عبادت کا حکم دیا اور خاتم النبیین ۖکے ذریعے جزیرہ العرب میں امن قائم کر کے دکھایا ،حرم پاک وہ پاک و مقدس مقام ہے جس کے لئے حضرت ابراہیم نے اپنے رب جلیل سے دعا مانگی کہ '' اے پروردگار اس شہر ( مکہ المکرمہ ) کو امن کا مقام بنا اور اس میں رہنے والوں کو پھلوں میں سے رزق عطا فرما ''اللہ تعالیٰ نے دعا کو قبولیت دیتے ہوئے فرمایا ۔ ''جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے لئے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ بنایا '' ایک دوسری جگہ فرمایا '' کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ ان کے گرد و نواح سے اُچک لئے جاتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں '' ۔ قرآن کریم میں کئی ایک دیگر مقامات پر یہ نکتہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ دنیا کی سلامتی اور امن کا بنیادی نظریہ و اصول اسلام سے وابستہ ہے ۔ اسلام کے احکام و تعلیمات پر عمل در آمد ہی سے دنیامیں امن و سلامتی کی ضمانت ممکن ہو سکتی ہے۔ اگر چہ بعض افراد اور ادارے بظاہر بہت متاثر کن اندازمیں قیام امن کے دعویدار ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ایسا نہیں ہوتے ۔ ایسے ہی افراد کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں یوں فرمایا ہے ۔ ''کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں آپ کو بہت دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے مافی الضمیر پر اللہ کو گواہ بناتا ہے ۔ حالانکہ وہ سخت جھگڑا لو ہے اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو برباد اور نسل کو نابود کرے اورا للہ فتنہ انگیز ی کو پسند نہیں کرتا '' ۔ ماضی قریب میں جب سربیا کی افواج بوسنیا کے مسلمان عوام کا قتل عام کر رہی تھیں تو اقوام متحدہ اُس وقت ایکشن میں آیا جب چڑیا ں کھیت چگ گئی تھیں ۔ مسئلہ فلسطین اور کشمیر تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور شدہ قرار دادوں کے باوجود عمل در آمد کے انتظار میں دیمک زدہ ہو رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ اور بہت سارے معاملات ، چھوٹے بڑے ایسے ہیں جن میں اقوام متحدہ کا کردار بصیر ت سے پوشیدہ نہیں ۔ اگر یواین واقعی دنیا میں قیام امن کا خواہاں ہے تو اسے فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل مشرقی تیمور جنوبی سوڈان کی طرز پر حل کرنے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا جس کے لئے ان علاقوں کے عوام برسوں سے منتظر ہیں ۔ ورنہ پھر تیسری دنیا بالخصوص مسلم دنیا شاید کسی اور حل کی طرف مجبور اً دیکھنے پر مائل ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں