صاحب کردار ہونا ضروری ہے

صاحب کردار ہونا ضروری ہے

کل دوستوں کی محفل میں یہ بحث چھڑ گئی کہ ہم لوگ معاملات میں اتنے کمزور کیوں ہیں ؟جھوٹ دھڑلے سے بولا جارہا ہے ریاکاری کا چلن عام ہے چھوٹے چھوٹے دنیاوی مفادات کے لیے ہم اپنے بہن بھائیوں دوستوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے سے نہیں چوکتے! آخر کیوں؟کہتے ہیں جتنے منہ اتنی باتیں۔ہر کوئی اپنی فہم کے مطابق خیال آرائی کرنے لگا ۔ایک صاحب کہنے لگے ہم سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق زرداری ہیں نواز شریف ہیںجس کا جہاں بس چلتا ہے ڈنڈی مارنے میں ایک لمحے کی تاخیرنہیں کرتا۔ اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت کوئی بھی گوارا نہیں کرتا۔ سب کی انگلیاں دوسروں کی طرف اٹھتی ہیںدکاندار سارا دن سیاستدانوں کی بدعنوانیوں کے قصے لے کر بیٹھے رہتے ہیں لیکن اگر آپ انہیں ایک مرتبہ بھی کہہ دیں کہ دکان کے آگے رکھی تجاوزات ہی ہٹا دو تو وہ مرنے مارنے پر تل جاتا ہے۔ اپنے حق میں اتنے اوٹ پٹانگ دلائل دیتا ہے کہ اس کی جاہلانہ سوچ پر افسوس ہونے لگتا ہے۔ لوگ دینداری کے بلند بانگ دعوے بھی کرتے ہیں نماز پنجگانہ کی پابندی بھی کی جاتی ہے لیکن ان کے کردار میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی۔ ذخیرہ اندوزی بھی کرتے ہیں، جھوٹ بھی بڑی فراخدلی کے ساتھ بولا جاتا ہے ، وعدے کی پابندی بھی نہیں کی جاتی، اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ہم میں صاحب کردار لوگوں کی اتنی شدید کمی کیوں ہے؟ یہ سوال بہت سی محفلوں میں اٹھایا جاتا ہے اور صاحبان فکر اس کا جواب مختلف حوالوں سے دینے کی کوشش کرتے ہیں کوئی ماحول کو مورد الزام ٹھہراتا ہے کسی کا یہ خیال ہوتا ہے کہ انسانی ضرورتیں انسان سے یہ سب کچھ کرواتی ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ ہماری نمازیں خشوع و خضوع سے خالی ہیں اعمال میں اخلاص نہیں بلکہ ریا کاری اور دکھاوا ہے اسی لیے ہماری عبادتیں تاثیر سے خالی ہیں۔ کسی کا خیال ہے کہ دنیا کی حد سے بڑھی ہوئی محبت نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔کسی کا کہنا ہے کہ ہم مال کی محبت میں گرفتار ہیں لالچ اور ہوس زر نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔ہر شخص اپنی فکر کے مطابق اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اکثر جوابات جزوی طور پر درست بھی ہوتے ہیں لیکن دل کو تسلی نہیں ہوتی بات بنتے نظر نہیں آتی۔ یہ سوال بہت پریشان کرتا ہے کہ سچے دین کو ماننے والے اس بے راہروی کا شکار کیوں ہیں؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارا کردار دوسری اقوام کے لیے قابل تقلید ہوتا لیکن یہاں تو صورتحال اس کے برعکس ہے۔ آپ اسے ایک بیماری کہہ سکتے ہیں کہ نماز روزہ تو موجود ہے لیکن کردار نہیں ہے۔ آخر اس بیماری کا علاج کیسے ہو؟قرآن پاک میں جہاں بھی ایمان کا ذکر آیا ہے ساتھ ہی نیک اعمال کی تاکیدبھی کی گئی ہے یعنی نیک اعمال کے بغیر بات نہیں بنتی۔ اچھے اعمال و کردار کا ہونا بہت ضروری ہے لیکن آج ہم عبادات تک محدود ہو کررہ گئے ہیں۔ عبادات کے بغیر بھی بات نہیں بنتی لیکن عبادات کے ساتھ ساتھ کردارکا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ حضرت عمر فاروق کا قول مبارک ہے کہ انسان کو عبادات سے نہیں بلکہ اس کے معاملات سے پہچانو۔اگر انسان مسلسل بددیانتی کا ارتکاب کر رہا ہے تو اسے اس پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑا ہے ؟اس کے ایمان کی کیا حالت ہے ؟معاشرے کا بہت سار ا بگاڑ ہماری بد اعمالیوںکی وجہ سے ہے ۔ہمارے دفاتر میں رشوت کا چلن عام ہے لوگ ذہنی طور پر ہتھیار ڈال چکے ہیں وہ رشوت مانگنے سے پہلے یہ ذہن بنا کر سرکاری دفاتر جاتے ہیں کہ وہاں رشوت دینی ہے۔ وہ اب رشوت کو اپنے کام کی ایک اہم ضرورت سمجھتے ہیں۔سود کی لعنت میں ہم گرفتار ہیں، چوری چکاری ، فریب کاری ہمارے لیے بڑی عام سی بات ہے ۔ہماری ان بد اعمالیوں کی وجہ سے آج ہم نفاق کا شکار ہیں ۔مرنے والا نہیں جانتا کہ اسے کیوں مارا گیا اور مارنے والا بھی اس بات سے بے خبر ہے کہ وہ کیوں مار رہا ہے ۔عبادات کے باوجود ہمارے روحانی امراض کیوں ختم نہیں ہوتے؟ ہماری عبادات میں اخلاص نہیں ہے ہم دنیاوی فوائد کی تلاش میں ساری عمر سرگرداں رہتے ہیں ہماری محبت بھی فانی چیزوں سے ہے اگر ہمارا مقصود رضائے الہٰی ہوتا تو ہم کبھی بھی کسی کے مال کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھتے ،کبھی کسی کو دھوکا نہ دیتے، اشیاء میں ملاوٹ نہ کرتے، جھوٹ نہ بولتے۔ ہماری روح کو نفس پر بادشاہ بنایا گیا ہے تاکہ روح نفس سے احکام الہٰی کے مطابق کام لے اسے جنت کا حقدار بنادے مگر نفس جو روح کا غلام ہے وہ دنیاوی لذتوں پر عاشق ہے جس کے سبب روح کی اطاعت سے گریزاں ہے اور عموماً اس ماحول اور معاشرے کے نام نہاد رہنما صاحب کردار نہیں ہیں اوراس کے علاج پر قادر نہیں ہیں پس ایسے شیخ کامل کی ضرورت ہے جو حسن تدبیر سے دنیاوی لذتوں کو نفس کی نظر میں بد صورت کردے پھر نفس کے لیے روح کی تابعداری یعنی اللہ تعالیٰ کے احکامات پر چلنا آسان ہو جائے گاجب یہ یقین پختہ ہوجائے کہ ایک دن اس خالق حقیقی کے سامنے کھڑا ہونا ہے جس نے ہم سے ہمارے تمام اعمال کا حساب لینا ہے تو پھر دنیاوی لذتیں ہماری نظر میں ہیچ ہوجائیں گی۔ آج جن چیزوں کے لیے ہم نے اپنے قیمتی ایمان کو دائو پر لگا رکھا ہے ان کے فوائد بھی چند روزہ ہیں اور ہمیں ان چیزوں کی حقیقت اس لیے معلوم نہیں ہوتی کہ ہمارے دل کا آئینہ زنگ آلود ہوچکا ہے بصارت تو رکھتے ہیں لیکن بصیرت نہیں ہے !۔

متعلقہ خبریں