خطیب شہر کی جنگ اب امیر شہر سے ہے

خطیب شہر کی جنگ اب امیر شہر سے ہے

سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے شواہد واضح طور پر سامنے آرہے ہیں۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور شریک چیئر مین یعنی باپ بیٹے کے تخت لاہور پر ''حملہ آور'' ہونے کا جواب سندھ میں جا کر سندھ کی صوبائی حکومت پر یلغار کی صورت دینا شروع کردیا ہے۔ اس پر سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے نوری آباد پاور پلانٹ کے علاوہ صوبہ سندھ کو گیس فراہم نہ کئے جانے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر ایک ہفتے میں گیس فراہم نہ کی گئی تو سوئی سدرن کے دفاتر پر قبضہ کرلیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ ملک میں سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے مگر اسے پھر بھی اپنے گیس سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ آئین کے مطابق گیس جہاں پیداہوتی ہے اس کا حق پہلے ہے۔ مراد علی شاہ کا یہ غصہ دو حوالوں سے بالکل درست ہے کہ ایک تو آئینی لحاظ سے ان کا موقف حقیقت پر مبنی ہے اور اس ضمن میں خود میں نے گزشتہ برسوں میں لا تعداد بار اپنے کالم اور دیگر تحریرو ں میں آئین کے آرٹیکل 158 کا حوالہ دیتے ہوئے توجہ دلانے کی کوشش کی ہے کہ محولہ آرٹیکل کے تحت جس صوبے میں قدرتی گیس کا چشمہ واقع ہو اس چشمے سے متعلقہ صوبے کو دیگر صوبوں پر ترجیح دی جائے گی اور اس صوبے کی ضروریات پوری ہونے کے بعد ہی دوسرے علاقوں کو گیس مہیا کی جائے گی۔ دوسرے یہ کہ مراد علی شاہ نے اس حوالے سے احتجاج جس روز ریکارڈ کرایا اس سے ایک روز پہلے ہی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گیس کنکشنزپر پابندی کو ہٹا دینے کا فیصلہ کیا جبکہ اس اقدام کو بھی سیاسی حوالے سے یوں دیکھا گیا کہ آنے والے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے لیگ(ن) کے موجودہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کے طور پر نئے گیس کنکشنز دے دئیے گئے ہیں۔ جبکہ سندھ کو اس پاور پلانٹ سے حاصل ہونے والی سومیگا واٹ بجلی ملنے کے امکانات بھی ختم ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے کئی علاقوں کو روشن رکھا جا سکتا ہے۔
اے شام غم بتا کہ سحر کتنی دور ہے؟
آنسو نہیں جہاں وہ نگر کتنی دور ہے؟
دم توڑتی نہیں ہے جہاں پر کسی کی آس
وہ زندگی کی راہگزر کتنی دور ہے؟
نوری آباد پاور پلانٹ کو گیس کی فراہمی کے حوالے سے سوئی سدرن کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا ہے کہ اگر بنک گارنٹی مہیا کی جائے تو گیس کی سپلائی کھول دیں گے۔ اگرچہ بات یہ بھی بالکل درست ہے تاہم مراد علی شاہ نے جو اعتراض اٹھایا ہے اس پر غور کرنا لازمی ہے کیونکہ بد قسمتی سے بجلی اور گیس دونوں کے معاملے میں متعلقہ صوبوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتی سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے ملک میں نفرتیں بڑھنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً مجھے یاد ہے کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی کے مرحوم محمد حنیف خان صوبہ سرحد (موجودہ کے پی) کی اسمبلی کے سپیکر تھے تو ان سے ایک انٹرویو میں نے کیا تھا جس کے دوران انہوں نے اپنے لڑکپن کی یادیں شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس دور میں ملاکنڈ میں پن بجلی گھر سے بجلی حاصل کرکے اسے لاہور تک پہنچایا جاتا تھا تو اسی پن بجلی گھر کے ارد گرد جو علاقے تھے وہ اپنی ہی بجلی سے محروم رکھے جاتے تھے اور ہم لوگ اوپر کی پہاڑیوں پر بیٹھ کر بڑی حسرت کے ساتھ نیچے بجلی گھر میں رات کے وقت بجلی کی روشنی کو تکا کرتے۔ اس ملک کی اشرافیہ جس کا غالب تعلق ایک خاص صوبے سے ہے اس نے شروع ہی سے ایسی پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں کہ ملک کے وسائل پر صرف ایک خاص علاقے کی حاکمیت قائم رہے۔ اس ضمن میں اگر غازی بھروتہ کا حوالہ دیاجائے تو غلط نہ ہوگا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے سیاسی حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ غازی بھروتہ منصوبہ ایک ایسی بھینس کی مانند ہے جسے چارہ تو صوبہ خیبر پختونخوا کھلاتا ہے مگر اس سے دودھ' دہی' مکھن دوسرے حاصل کرتے ہیں یعنی پانی تو اسے ہم فراہم کرتے ہیں جبکہ اس سے پیدا ہونے والی بجلی کی رائلٹی ہمیں نہیں ملتی جبکہ اسی پر کیا موقوف ہمارے صوبے میں پیدا ہونے والی بجلی کا پورا معاوضہ آج تک ہمیں نہیں ملا حالانکہ اے جی این قاضی فارمولے کے تحت اب یہ رقم جو ابھی تک 6 ارب سالانہ پر کیپ ہے اس میں ایک پیسے کا اضافہ نہیں ہوسکا اورحسر پختونخوا کی مختلف حکومتوں کی تمام تر کوششیں ناکامی سے دو چار رہی ہیں۔یہی صورتحال قدرتی گیس کی ہے۔ کوہاٹ' کرک اور دیگر علاقوں سے ملنے والی گیس جس میں اضافہ ہو رہاہے اس حوالے سے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا یہ دعویٰ بھی باطل ہو جائے گا کہ ملک میں سب سے زیادہ گیس سندھ میں پیدا ہوتی ہے کیونکہ جو نئے ذخائر دریافت ہو رہے ہیں ان کی وجہ سے خیبر پختونخوا سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والا صوبہ بن سکتا ہے جبکہ بقول سینئر صحافی ہمارے صوبے سے گیس کے ساتھ جو پٹرول پیدا ہو رہا ہے وہ ملک بھر میں ملنے والے پٹرول کا پچاس فیصد ہے۔ مگر اس کے باوجود نہ تو گیس اور پٹرول کی رائلٹی کے حوالے سے صوبے کو پورا حق دیا جا رہا ہے نہ ہی گیس پر صوبے کی ضرورت کو ترجیح دی جاتی ہے بلکہ ہمارے صوبے کی گیس کی تقسیم کے نظام پر بھی ہمارا کوئی اختیارنہیں۔ ایسی صورت میں سندھ کے وزیر اعلیٰ کی شکایت بالکل جائز ہے۔
خطیب شہر کی جنگ اب امیر شہر سے ہے
سو دیکھنا ہے کہانی کدھر کو جاتی ہے

متعلقہ خبریں