عربی شاعری میں حکمت کے موتی

عربی شاعری میں حکمت کے موتی

دنیا میں رہنے کے لیے پہچان کا ہونا بہت ضروری ہے اچھے برے کی پہچان، نفع نقصان کی پہچان! یہ سفر بڑا پرخطر ہے زندگی میں بڑے نشیب و فراز دیکھنے کو ملتے ہیں بقول شاعر
اگر دنیا میں رہنا ہے تو کچھ پہچان پیدا کر
لباس خضر میں ہزاروں راہزن بھی ملتے ہیں
بزرگ کہتے ہیں حکمت کے موتی جہاں سے بھی ملیں اٹھا لیے جائیں۔ اسی طرح چراغ سے چراغ جلتا ہے اور دنیا میں علم و حکمت کی روشنی پھیلتی ہے شاعر کسی بھی معاشرے کا سب سے حساس طبقہ ہوتا ہے اور شاعری تہذیب وتمدن کا بہت بڑا سرمایہ!عربوں میں ایک شاعر گزرا ہے قس بن ساعدہ الایادی اسے شعر گوئی ،خطبہ طرازی اور دیگر فنون کلام میں ید طولیٰ حاصل تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا کلام بلیغ حکمت اور عجیب و غریب فوائد پر بھی مشتمل تھا اس کے چند اشعار کا مفہوم کچھ یوں بنتا ہے: جو نسلیں پہلے گزر چکی ہیں ان میں ہمارے لیے بصیرتیں پائی جاتی ہیں میں نے دیکھا کہ موت کے گھاٹ پر وارد ہونے کی جگہیں تو ہیں مگر واپس آنے کی کوئی صورت نہیں ہے اور پھر میں نے یہ بھی دیکھا کہ میری قوم کے چھوٹے بڑے سب ان گھاٹوں کی طرف جارہے ہیں نہ تو کوئی گزشتہ شخص میرے پاس لوٹ کر آتا ہے اور نہ ہی جو باقی رہ گئے ہیں باقی رہ سکیں گے اور یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ جہاں میری قوم چلی گئی ہے لا محالہ میں بھی وہیں چلا جائوں گا ۔عائد بن محصن کا عربی ادب میں ایک مشہور قصیدہ ہے جس میں اس نے حکمت و دانش کے موتی پروئے ہوئے ہیں۔ وہ وعدہ خلافی کے حوالے سے کہتا ہے کہ ایسے جھوٹے وعدے نہ کر جنہیں موسم گرما کی تند و تیز ہوائیں لے کر میرے سامنے سے گزر جاتی ہیں۔اگر میرا بایاں ہاتھ میر ے خلاف ہوجائے تو میں اپنے دائیں ہاتھ کو کبھی اس کے پیچھے نہ چلائوں گامیں کسی بدخواہ عزیز کی چاپلوسی نہیں کرتا اسی وقت اپنے بائیں ہاتھ کو کاٹ کر پھینک دوں گا جو مجھے ناپسند کرے اسی طرح میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں تو میرا حقیقی طور پر بھائی بن جا تاکہ میں تیرے ذریعے اپنے اچھے اور برے کام معلوم کرسکوں ورنہ مجھے چھوڑ کر چلا جا اور مجھے دشمن سمجھ لے میں تجھ سے بچتا رہوں اور تو مجھ سے بچتا رہ ۔ جب میں بھلائی کا ارادہ کرتے ہوئے کسی ملک کو جانے کا قصد کروں تو مجھے معلوم نہیں کہ نیکی اور بدی میں سے کونسی چیز مجھے ملے گی کیا وہ نیکی جسے میں چاہتا ہوں یا وہ شر جو مجھے چاہتا ہے جب تو کسی بات میں وعدہ پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تو پھر یہ نہ کہہ کہ ہاں میں کروں گا صاف انکار کردے صاف انکار کردینا جھوٹا وعدہ کرنے سے بہت بہتر ہے ۔ یاد رکھو کہ مذمت انسان کے لیے بہت بڑی خرابی کا سبب ہے جب تو خود مذمت سے نہیں بچے گا تو لوگ تمہاری ضرور مذمت کریں گے، پڑوسی کی عزت کرو ، اس کے حقوق کا خیال رکھو، انسان کا لوگوں کے حقوق پہچاننا اس کی شرافت کی دلیل ہے تو مجھے کسی مجلس میں لوگوں کی غیبت کرتا ہوا نہیں دیکھے گا جس طرح کہ بھوکا درندہ لوگوں کا گوشت کھاتا ہے کئی بری باتوں کو سننے کے معاملے میں میرے کان بہرے بن جاتے ہیں حالانکہ میں درحقیقت بہرہ نہیں ہوتا پھر میں وہاں سے چپکے سے اٹھ جاتا ہوں تاکہ کہیں جاہل یہ نہ خیال کرلے کہ میں ایسا ہی ہوں جیسا کہ اس کا خیال تھا بعض اوقات کسی فحش کلام انسان سے درگزر کرنا اور منہ موڑ لینا خواہ اس نے زیادتی ہی کیوں نہ کی ہو زیادہ مفید اور کارگر ہوتا ہے ۔ عبد قیس بن خفاف نے اپنے بیٹے کو ایک نظم میں چند نصیحتیں کیں اس نظم کا شمار اس کی بہترین شاعری میں ہوتا ہے : اللہ سے ڈرو اور اس کے معاہدوں کو پورا کرو اور جب تو جھگڑتے ہوئے قسم کھائے تو مشروط طور پر قسم کھائو مہمان کی عزت کرو یہ اس کا حق ہے کہ وہ تمہارے پاس رات گزارے اور تم ایسے نہ بنو کہ جوتمہارے ہاں آکر اتریں وہ تم پر لعنت ہی بھیجتے رہیں یا د رکھو مہمان اپنے گھر والوں کو جاکر بتائے گا کہ اس نے کیسے رات گزاری خواہ کوئی اس سے اس کے متعلق سوال نہ بھی کرے ۔ جوتمہاارے ساتھ تعلق قائم کرے جب تک اس کی دوستی مخلصانہ رہے تم بھی اس کی ساتھ تعلق جوڑے رکھو مگر خائن اور بے شرم آدمی سے تعلقات منقطع کر لو ۔ برے مقام کو ترک کردو وہاں نہ اترو اور جو کوئی مقام نا موافق آئے تو وہاں سے کسی اور جگہ چلے جائو۔احیحہہ بن الجلاح کا ایک لاجواب شعرہے جس میں وہ کہتا ہے کہ یا مالدار بن یا مرجا اور دیکھ کہ تجھے کوئی مالدار خواہ وہ چچا کا بیٹا، یا خود چچا اور ماموںہی کیوں نہ ہو دھوکے میں نہ ڈال دے یعنی عزیزوں کی دولت کو اپنا جاننے کا دھوکا ہرگز نہ کھانا ۔ زندگی کا معاملہ بھی عجیب ہے محتاج کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کب مالدار ہوجائے گا اور نہ ہی مالدار کو یہ معلوم ہے کہ وہ کب مفلس ہوجائے گا۔ میمون بن قیس کے یہ اشعار دیکھیے: اگر تو تقویٰ کو زاد راہ بنا کر روانہ نہ ہوگا ور پھر موت کے بعد تیری ملاقات ایسے شخص سے ہو جس نے زاد راہ تیار کر رکھا تھا تو تو اس بات پر نادم ہوگا کہ تو نے خود ایسا کیوں نہ کیا اور خود تو نے اس بات کی تیاری کیوں نہ کی جس کی تیاری اس نے کررکھی تھی!

متعلقہ خبریں