مشرقیات

مشرقیات


حضرت علان الخیاط نے ایک مرتبہ فرمایا : '' اے مطفر ایک عجیب بات میں آپ کو بتا تا ہوں ۔ حضرت سری سقطی تجارت کیا کرتے تھے ،اور آپ نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا ۔ ایک مرتبہ آپ بازار تشریف لے گئے ۔ آپ نے 60دینار کے بدلے 96صاع بادام خریدے اور پھر انہیں بیچنے لگے اور ان کی قیمت 63دینار رکھی ، تھوڑی دیر کے بعد آپ کے پاس ایک تاجر آیا اور اس نے پوچھا ان سب باداموں : '' کتنے دینار لو گے ؟ '' آپ نے فرمایا : '' 63دینار ''۔اس تاجر نے پوچھا : ' ' حضور ! باداموں کا ریٹ بڑھ گیا ہے۔ آپ مجھے 90دینار میں یہ بادام فروخت کر دیں ۔''
حضرت سری سقطی نے فرمایا : '' میں نے اپنے رب سے وعدہ کر لیا ہے کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا ، لہٰذا میں اپنے وعدے کے مطابق تمہیں یہ بادام بخوشی 63دینار میں فروخت کرتا ہوں ۔وہ تاجر بھی خدا کا نیک بندہ تھا اور اپنے مسلمان بھائی کا خواہاں تھا ۔ دھوکے سے ان کا مال لینے والا یا بد یانت تاجر نہ تھا ۔ جب اس نے آپ کی یہ بات سنی تو کہنے لگا :'' میں نے بھی اپنے رب سے یہ عہد کررکھا ہے کہ کبھی بھی اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بد دیانتی نہیں کروں گا اورنہ ہی کبھی کسی مسلمان کا نقصان پسند کروں گا ۔ اگر تم بادام 90دینار میںبیچو تو میں خرید لوں گا ، اس سے کم قیمت میں کبھی بھی یہ بادام نہیں خریدوں گا ۔ '' آپ بھی اپنی بات پر قائم رہے ۔ بالآخر ان کا سودا نہ بن سکا اور تاجر وہاں سے چلا گیا ۔ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت علان الخیا ط فرماتے ہیں : ''جن لوگوں میں ایسی نیک خصلتیں پائی جائیں ، جب وہ پاک پرور دگار کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں تو ان کی دعائیں قبول کیوں نہ ہوں ۔ جو خدا کا ہو جا تا ہے، خدا اس کے تمام معاملات کو حل فرما دیتا ہے ۔
اکبری دور میں خان خانان عبدالرحیم خان نے نظام الملک اور قطب الملک کے خلاف لشکر کشی کی تو آشنی کے پاس ایک جنگ ہوئی ، اس موقع پر عبدالرحیم نے حیرت انگیز بہادری کا ثبوت دیا ، وہ رات بھر گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر فوج کی نگرانی میں لگا رہتا ، ایک موقع پر غنیم کے پچیس ہزار سوار عبدالرحیم کے پانچ ہزار سواروں پر اچانک ٹوٹ پڑے ، عبد الرحیم کے تمام ساتھیوں کی ہمت جواب دے گئی ، اس کے ایک ساتھی دولت خان لودھی نے اس کو جنگ کرنے سے روکا چند بہادروں نے یہ صورت حال دیکھی تو آگے بڑھے اور کہنے لگے ، دولت خان ! '' ہم ہندوستانی ہیں لڑ کر مر جانا ہمارا شیوہ ہے ۔ '' دولت خان نے جھلا کر عبدالرحیم سے کہا کہ ٹھیک ہے یہی بات صحیح ہے ، لیکن یہ بتائیں کہ جنگ کے بعد ہم لوگ کہاں ملیں گے ؟ عبدالرحیم مر دانگی اور بہادری کے پندار میں بولا '' لاشوں کے ڈھیر کے نیچے ۔ '' یہ سن کر سارے لشکر یوں میں ایک نئی غیرت اور ہمت پیدا ہوگئی او ر سر بکف ہو کر اس طرح لڑے کہ دشمن کی کثیر تعداد تتر بتر ہوئی ۔
( بحوالہ بزم رفتہ کی سچی کہانیاں ، صفحہ : 92)

متعلقہ خبریں