پہلے کشمیریوں کو فیصلے کا حق تو مل جائے

پہلے کشمیریوں کو فیصلے کا حق تو مل جائے

بھارت کے یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر کے طول و عرض میں مظاہرے اور پاکستانی پرچم بلند کر کے کشمیر یوں نے ایک مرتبہ پھر آزادی اور بھارتی تسلط سے چھٹکارے کے عزم کا اعادہ کر کے ثابت کر دیا کہ کشمیری کبھی بھی بھارت کے ساتھ رہنے کا نہ خواہاں تھے نہ ہیں اور نہ آئندہ ایسا ممکن ہے ۔ یوم آزادی پر مظاہروں اور احتجاج کے خوف سے بھارتی فوج نے حریت کانفرنس کے رہنمائوں سمیت دیگر سینئر کشمیری رہنمائو ں کو نظر بند کرنے کی راہ بھی اپنالی مگر اس کا کوئی اثر نہ ہوا اور کشمیری عوام نے بھارت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کر کے ثابت کر دیا کہ وہ بھارت کے ساتھ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتے اور ان کا اولین مقصد حق خود ارادیت کا حصول اور الحاق پاکستان ہے جس کے ساتھ ان کے دل دھڑکتے ہیں اور وہ روحانی اور دینی طور پر پاکستان اور مسلمانوں ہی کا فطری اور ازلی حصہ ہیں ان پر خواہ کتنے بھی مظالم ڈھائے جائیں پیلٹ گن سے ان کے چہروں پر گولیاں مار کر اندھا کر دیا جائے یا بد ترین تشدد کیا جائے کشمیری عوام ہر قر بانی دے کر پاکستان ہی کے حق میں فیصلہ دیں گے ۔ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں سبز ہلالی پرچم بلند کرنے والوں کے عزم و حوصلہ کی جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ ان کا یہی جذبہ اور ایمانی قوت ہے جوان کے جذبہ حریت اور آزادی کی خواہش کو ماند ہونے نہیں دیتا۔ کوئی بھی بھارتی ظلم وجبر اور تشدد کا طریقہ کار ان پر کار گر نہیں ہوتا اور کشمیر ی نوجوان جانوں کی قربانیاں دینے کے باوجود پاکستان ہی کی جانب دیکھتے ہیں اس ساری صورتحال کا بھارت سرکار کو بخوبی علم ہے۔ بھارت سرکار کی تمام تشدد کی پالیسیوں کے باوجود کشمیری نوجوانوں کے دلوں سے جذبہ حریت نکالنا ممکن نہیں۔ کشمیری بھائی اپنے قو ل و فعل اور عملی جدوجہد سے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد وں کے مطابق استصواب رائے کا حق حاصل کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے بھارتی وزیر اعظم مودی نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دینے کی بجائے بھارت کے یوم آزادی پر کشمیری عوام کو نیا جھانسہ دینے کی کوشش کی ہے۔ اپنے خطاب میںکشمیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ گالی سے اور نہ گولی سے کشمیر کا مسئلہ گلے لگانے سے حل ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کشمیر کے معاملے پر مل کر کام کرنا ہوگا ۔ تاکہ کشمیرکی جنت کوہم دوبار ہ محسوس کر سکیں اور ہم اس کیلئے پر عزم ہیں ۔نریندر مودی نے کہا کہ وہ کشمیر ی نوجوانوں سے دوبارہ کہتے ہیں کہ مرکزی دھارے میں آجائیں تمہیں جمہوریت میں بولنے کا حق حاصل ہے ہمیں کشمیر کیلئے مل جل کر کام کرنا ہوگا ۔ کشمیر کے معاملے میں نریندر مودی کے الفاظ کی جاذبیت اپنی جگہ لیکن اس کا کشمیر ی عوام پر کوئی اثر اس لئے نہیں ہوگا کہ بھارت سرکار ان کے ساتھ گالی اور گولی سے بڑھ کر بد سلوکی اور تشدد کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ کشمیر میں بھارتی فوج تشدد کی نت نئی راہیں تلاش کر رہی ہے جس کا ایک مظاہرہ پیلٹ گن کا استعمال ہے جبکہ کشمیری نوجوانوں کے پتھرائو سے بچنے کیلئے فوجی جیپ کے بمپر پر کشمیری نوجوان کو باندھ کر علاقے سے گزرنے کی صورت میں بھارتی فوج نے انسانیت کی جو بدترین توہین کی ہے اس کی دنیا بھر میں مذمت ہو رہی ہے ۔ بھارت سرکار گالی اور گولی کی پالیسی پر آج سے نہیں برسوں سے عمل پیرا ہے اور کشمیر ی حریت پسند تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں گے کے مصداق تسلسل کے ساتھ شہادت حاصل کرنے اور بہادری کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔کشمیری نوجوانوں کو اگر بولنے کا حق حاصل ہوتا اور بھارت کی قیادت اپنے جمہوری ملک ہونے کے دعوئوں کی لاج رکھتی تو مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں پر صرف آزادی کے مطالبے پر ظلم کے پہاڑ نہ توڑے جا رہے ہوتے ۔ کشمیر ی نوجوانوں کو قومی دھارے میں آنے کی جو دعوت مودی نے دی ہے وہ سرا سر دھوکہ اور فریب کے سوا کچھ نہیں کیونکہ کشمیری نوجوانوں کا جو بنیادی مطالبہ ہے وہ اس امر کے حق کا ہے کہ کشمیری عوام کی اکثریت اپنے مستقبل کے بارے میں اقوام متحدہ کی منظورشدہ اور اس وقت کے بھارتی وزیرا عظم کی تسلیم شدہ قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے کی طالب ہے ۔ جب کشمیر یوں کو ان کا یہ حق دیا جائے گا تبھی وہ یہ فیصلہ کر پائیں گے کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہونے کے خواہاں ہیں یا ان کاخواب کوئی اور ہے ۔ نریندرمودی سمیت بھارتی قیادت کو اب اس امر کا احساس ہو جا نا چاہیئے کہ کشمیری عوام کو وہ زیادہ دیر تک طاقت کے بل بوتے پر اپنا محکوم بنا ئے نہیں رکھ سکتے ۔ کشمیر کا معاملہ ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے اگر استصواب رائے کے ذریعے کشمیری عوام کو موقع دیا جائے اور ان کے فیصلے کا احترام کیاجائے تو اس دیرینہ تنازعے کا حل نکل آئے گا اور خطے پر سے کشیدگی کے بادل بھی چھٹ جائیں گے ۔ جب تک یہ معاملہ رہے گا نہ تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی امن قائم ہو سکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں