بنک آف خیبر سکینڈل ، دال میں کچھ کالا ضرور ہے

بنک آف خیبر سکینڈل ، دال میں کچھ کالا ضرور ہے

بنک آف خیبر سکینڈل کے حوالے سے تحریک انصاف کے ناراض رکن اسمبلی کے اربوں روپے کی کرپشن اور بے ضابطگیاں ہونے کے الزامات میں حقیقت ہے یا نہیں اس کا فیصلہ عدالت یا تحقیقاتی کمیٹی ہی کر سکتی ہے ۔ بنک آف خیبر سکینڈل کو موضوع بحث صرف فاضل رکن اسمبلی کی پریس کانفرنس میں ہی نہیں بنایا گیا ہے بلکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف نے بھی اس مسئلے کی طرف توجہ دلا ئی تھی جبکہ خود جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے درمیان بھی اس معاملے پر اختلافات سے انکار ممکن نہیں۔ اس کے باوجود اس مسئلے کے حل میں کیا رکاوٹیں ہیں اور اعتراضات و تحفظات اور الزامات کا مئو ثر جواب کیوں نہیں دیا جاتا یہ مخمصے کی بات ہے ۔ کروڑوں روپے کی بد عنوانی اور ہیر پھیر تو محض الزام کی حد تک ہی ہے لیکن بنک میں غیر قانونی تقرریوں کو تو خود صوبائی وزیر خزانہ تسلیم کرتے ہیں اور وہ بھی اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے والوں میں شامل ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ اس ضمن میں وہ بھی بے بس ہیں۔ اس امر کی سمجھ نہیں آتی کہ صوبائی وزیر خزانہ اس کا مطالبہ کس سے کر رہے ہیں اوراس میں خود ان کا کردار و عمل کیا ہے ۔ اس طرح کے معاملے میں اگر شفافیت ثابت بھی ہو جاتی ہے تب بھی عوام کا دال میں کچھ کالا ہونے کا تاثر غلط نہ ہوگا۔ جس طرح تحقیقات اور اقدامات سے احراز برتاجارہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ پوری دال ہی کالی ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر اتنے سارے الزامات اور مطالبات کے باوجود تحقیقات میں امر مانع آخر کیا ہے ؟ ایک رکن صوبائی اسمبلی خواہ اس کا تعلق جس بھی جماعت سے ہو اس کی جانب سے پریس کانفرنس کر کے الزامات لگانا اور ملوث افراد کی نشاندہی صرف نظر کرنے کا حامل معاملہ نہیں ۔ایسا کرنے سے تحریک انصاف کے قائدین کے اپنے قول و فعل پر تضاد کا شبہ ہوتا ہے۔ گزشتہ روز ہی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں عمران خان کے اس عزم کا حوالہ دے کر اسے دہرایا تھا کہ قومی دولت لوٹنے والوں سے ایک ایک پائی وصول کی جائے گی۔ صوبائی حکومت کرپشن میںملوث بیوروکر یٹس اور سیاستدانوں کو ہر گز معاف نہیں کرے گی علاوہ ازیں صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں رشوت اور بد عنوانی کا سو فیصد خاتمہ کر دیا گیا ہے ۔ جب صورتحال یہ ہے تو پھر بنک آف خیبر کے معاملے میں حزب اختلاف کے علاوہ خود حکومت کی اتحادی جماعت کے مطالبات کے باوجود اس معاملے کو چھیڑ نے سے احتراز کیوں برتا جارہا ہے آخر وہ کونسی مجبوری ہے جو صوبائی حکومت کی راہ میں حائل ہے ۔ اس معاملے میں تساہل اور ٹال مٹول سے صوبے میں احتساب پر انگلیاں اٹھانے والوں اور تنقید کرنے والوں کی تنقید اور الزامات کے درست اور حقیقی ہونے کا گمان گزرتا ہے۔ جب تک اس ضمن میں حقائق سامنے نہیں لائے جائیں اور الزامات کو غلط ثابت نہیں کیا جائے گا اس وقت تک صوبائی حکومت کے کردار و عمل پر شک بلاسبب نہ ہوگا ۔ بہتر ہوگا کہ اس معاملے کے بارے میں حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں ۔ جماعت اسلامی اگر معاملے میں سنجیدہ ہے تو اسے بھی چاہیئے کہ وہ نیم دروں نیم بیروں کی پالیسی کی بجائے واضح موقف اپنائے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا کسی کو بری الذمہ سمجھنا مشکل اور الزامات کی حیثیت وزنی رہے گی ۔
جگ ہنسائی کا اچھا موقع
ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سی ٹی سکین مشین کا ڈبہ بند افتتاح اور مریضوں کے لئے اس کے ڈبے میں موجود گی کے باوجود نہ ہونا عوام سے کسی مذاق سے کم نہیں ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ سیاسی مخالفین کو تنقید کیلئے موقع درکار ہو خود ایک اہم محکمے کے دائرہ کار میں لطیفہ نما معاملات کا سامنے آنا حکومت کیلئے باعث خجا لت صورتحال ہے ۔ سرکاری محکموں میں ضوابط و طریقہ کار کے باعث تاخیر درتا خیر معمول کی بات ہے مگر مشین کا دکھاوے کیلئے افتتاح اور عوام کی سہولت کیلئے اس کا عدم استعمال جیسی مضحکہ خیز صورتحال کم ہی سامنے آتی ہے۔ مشین کی خریداری و ادائیگی اور عدالتی احکامات کے باوجود اسے ڈبہ بند رکھنا اور سپلائی کمپنی سے ہسپتال انتظامیہ کی رسہ کشی کی اور کوئی خاص وجہ سمجھنا مشکل ہے سوائے ایک معروف وجہ کے جسے سمجھنا کسی کے لئے مشکل نہیں ہونا چاہیئے ۔ بہر حال اس ضمن میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو جو سمری ارسال کی گئی ہے اس کا جلد فیصلہ کر کے مشین کو عوام کے علاج معالجے کیلئے استعمال کو یقینی بنایا جانا چاہیئے۔ ساتھ ہی اس واقعے میں ملوث ان عناصر کے مقاصد اور وجوہات کو بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے پانچ سال معاملہ لٹکا رہا اس ضمن میں صرف روایتی سرکاری انکوائیری کے طور پر فائیلوں کا پیٹ نہ بھر اجائے بلکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف موزوں تاد دیبی کارروائی بھی عمل میں لایا جائے۔ صوبے کے دیگر ہسپتالوں میں بھی التواء میں پڑے معاملات جلد نمٹا ئے جائیں اور عوام کے علاج کی راہ میں رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے ۔

متعلقہ خبریں