محترم وزیراعظم اور بھی دکھ ہیں زمانے میں…

محترم وزیراعظم اور بھی دکھ ہیں زمانے میں…

ن لیگ کے نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھاری بھر کم کابینہ کی تشکیل کے بعد پانچ خصوصی معاونین کا بھی تقرر کر دیا ہے۔ یہ معاونین خصوصی سابق وزیراعظم نواز شریف کے بھی معاونین خصوصی تھے۔ اس طرح ان کے وزراء اور معاونین خصوصی کی تعداد 57ہو گئی ہے جو سابق وزیر اعظم کی کابینہ کے ارکان کی تعداد کے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ کابینہ کے وزراء اور وزرائے مملکت کی تعداد 47 ہے جب کہ آئین کے مطابق کابینہ کے ارکان کی زیادہ سے زیادہ تعداد ارکان پارلیمنٹ کی تعداد کا 11فیصد ہو سکتی ہے۔ پارلیمنٹ کے موجودہ ارکان کی تعداد کا گیارہ فیصد تعداد 49بنتا ہے ۔ دو آسامیاں کس ضرورت کے تحت خالی رکھی گئی ہیں ۔ نئے وزراء کے تقرر تک اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے کے بعدانہوں نے کہا تھا کہ وہ 45مہینوں کا کام 45دن میںمکمل کریں گے۔ لیکن ابھی تک جو کام انہوں نے کراچی کے دورے کے سوا مکمل کیا ہے وہ بھاری بھر کم کابینہ کی تشکیل ہے۔ اس بھاری بھر کم کابینہ سے یہ تاثر زائل ہو جاتا ہے کہ ان کا تقرر محض 45دن کے لیے ہے۔ اور یہ کہ بیگم کلثوم نواز این اے 120کا الیکشن جیت کر وزیر اعظم بنا دی جائیں گی۔ اس طرح حقیقی وزیر اعظم نواز شریف ہی رہیں گے البتہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیگم کلثوم نواز بیٹھیں گی۔ 57وزراء اور معاونین خصوصی کے تقرر سے لگتا ہے کہ شاہد خاقان عباسی ہی آئندہ وزیراعظم رہیں گے خواہ اگلے انتخابات تک خواہ اس کے بعد بھی۔ جہاں تک وزیراعظم کے اس اعلان کی بات ہے کہ سرکاری کاموں کی رفتار میں تیزی لائی جائے گی ، کابینہ میں بھرتی سے تو ظاہر ہے کہ تیزی سے ارکان کابینہ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ کام لگتا ہے فرائض کی انجام دہی کی ضرورت کی بجائے سیاسی ضرورت کے تحت کیا گیاہے جو اس بات سے ظاہر ہے کہ متعدد وزراء کا تقرر تو کر دیا گیا ہے لیکن انہیں قلمدان کون سے سونپے جائیں گے اس کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ نئی کابینہ کی بھاری تعداد سے ایک تاثر یہ بھی ابھرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ علاقوں کے بااثر لوگوں کو عہدے تفویض کرنے کا مقصد ن لیگ کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانا ہے۔ لیکن یہ تاثر اس لیے تقویت نہیں پاتا کہ ن لیگ یا کوئی بھی اور پارٹی آئین کی اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے ٹوٹ پھوٹ کے خطرے سے محفوظ ہے۔ اس ترمیم کے تحت پارٹی لیڈر خواہ وہ خود پارلیمنٹ کا رکن نہ ہو اپنی پارٹی کے کسی بھی رکن کو اس کی رکنیت سے محروم کر سکتا ہے لہٰذا کون پارٹی چھوڑنے کا رسک لے گا۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں وزیر ' مشیر مقرر کرنے کی حکمت یہ ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں پارٹی کے لیے کام کریں گے۔ لیکن شاہد خاقان عباسی خواہ 45دن کے لیے وزیر اعظم ہیں خواہ آئندہ عام انتخابات تک انہیں کابینہ کی تشکیل کے بعد کار سرکار کی طرف توجہ دینی چاہیے جو ان کے اس اعلان کے باوجود نظر نہیں آ رہی کہ وہ 45مہینوں کا کام 45دنوں میں مکمل کریں گے۔ پچھلے دنوں امریکہ کے سینیٹر جان مکین امریکہ کی افغانستان پالیسی پر نظر ثانی پر مامور تھے۔ یہ بحث امریکی میڈیا تک بھی پہنچی اور سوال اُٹھائے گئے کہ امریکہ کا افغانستان میں ہدف کیا ہے۔ تاکہ اس ہدف کی روشنی میں دیکھا جائے کہ افغانستان میں مزیدفوج بھیجی جائے تو کتنی بھیجی جائے۔ اس بحث میں پاکستان کوحصہ ڈالنا چاہیے تھا۔ اسی دوران پاک فوج وادی راجگال میں آپریشن خیبر فور کے تحت تحریک طالبان پاکستان' داعش اور دیگر شدت پسندتنظیموں کے خلاف کارروائی کر رہی تھی اور اس کے ساتھ پاک افغان سرحد کو چھپ کر پار کرنے کے سدباب کے لیے باڑھ بندی کر رہی تھی، یہ کام جاری ہے۔ امریکیوں کو اس بات پر قائل کرنے کی ضرورت تھی کہ سرحدی انتظام کے مکمل ہونے کے بعد یہ حقیقت سامنے آ جائے گی کہ پاکستان سے دہشت گرد افغانستان میں نہیں جاتے اور اگر کوئی عناصر پاک افغان سرحد پار کرتے ہیں تو ان کا سدباب اس انتظام کے باعث ہو جائے گا۔ اس بحث کے دوران یہ سوال بھی اُٹھایا جا سکتا تھا کہ افغانستان کی حکومت پاک افغان سرحدی انتظام کی مخالفت کیوں کرتی ہے؟مقبوضہ کشمیر میںکشمیریوں کی جدوجہد نہایت مستقل مزاجی اور استقامت سے جاری ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے توقع تھی کہ جہاں انہوں نے ایک باقاعدہ وزیر خارجہ کے تقرر کی ضرورت محسوس کی ہے کشمیریوں کی جدوجہد کی سفارتی امداد پر بھی توجہ دیں گے لیکن ایسی کوئی پہل قدمی نظر نہیں آئی۔ اب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے نیا پینترا بدلا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیریوں کے دل جیتنے کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ اس وقت بین الاقوامی کمیونٹی پرمقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ تسلط کو ہر قیمت پربرقرار رکھنے کی پالیسی کو آشکار کیا جاناچاہیے تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ کشمیریوں کادل جیتنے کی بھارتی پالیسی کے پیچھے کشمیر میںان کی آبادی کے تناسب کو متاثر کرنے کی پالیسی ہے۔ وزیر اعظم نے ایک دورہ کراچی کا کیا ہے جس کاصاف مقصد یہ نظرآتا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کے آئین میں تبدیلی کے پلان کے لیے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک خبر یہ آئی ہے کہ وزیر اعظم نے فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان سینیٹ سے ملاقات کی ہے اور انہیںیقین دلایا ہے کہ فاٹا کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لایا جائے گا۔ لیکن انہی کے لیڈرسابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کاسرتاج عزیز سفارشات پر مبنی فاٹا اصلاحات بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے پر موجود ہے جسے فاٹا کے عوام کی حمایت حاصل ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ وہ میاں نواز شریف کی پالیسیوں پر عمل کرتے رہیں گے۔ لیکن فاٹا کے ارکان قوم اسمبلی کو نظر انداز کرتے ہوئے ارکان سینیٹ سے ملاقات اور فاٹا اصلاحات بل کی منظوری کی بجائے فاٹا کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کے محض ارادوں کا اظہار یہ پتہ دیتا ہے کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے ارادے اب خواب وخیال ہونے والے ہیں۔

متعلقہ خبریں