نریندرمودی کی ''گلے لگانے'' کی ذومعنی بات

نریندرمودی کی ''گلے لگانے'' کی ذومعنی بات

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے حوالے سے بہت گہری مگر ذومعنی بات کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ گولی اور گالی سے نہیں بلکہ کشمیریوں کو گلے لگانے سے حل ہوگا ۔نریندر مودی کے اس بیان کا جہاں مقبوضہ کشمیر کی بھارت نوا زجماعتوں کی طرف سے خیر مقدم ہوا وہیں حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے اس پر یہ گرہ لگائی کہ گالی اور گولی کو انصاف اور انسانیت میں تبدیل کیا جائے تو مسئلہ حل ہوگا ۔اس سے پہلے من موہن سنگھ کے دور میں مسئلہ کشمیر گولی کی بجائے بولی سے حل کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے مگر نریندر مودی نے گولی اور گالی کو مسئلے کا حل نہ سمجھتے ہوئے گلے لگانے کی بات کر کے ایک نئے ابہام کو اور کئی سوالات کو جنم دیا ہے ۔گلے لگانے کی بات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب بھارت میں کشمیر کی الگ شناخت کو ختم کرنے کی بات سیاسی مطالبات اور بیانات اور دھمکیوں سے آگے بڑھ کر اب عدالتی کارروائیوں تک پہنچ چکی ہے ۔بھارت کا ایک مضبوط حلقہ کشمیریوں اور بھارت کے درمیان آئینی دوریوں کو ختم کرکے اسے کچھ اس انداز سے لگانے کا خواہش مند ہے کہ کشمیریوں کا دم گھٹ کر رہ جائے اور وہ بھارت کی دوسری ریاستوں جیسی ریاست ہو کر رہ جائے جہاں بھارت کے ہر شہری کو آمدورفت اور جائیداد خرید نے اورنوکریاں حاصل کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔ بھارت کے پاس اب مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا واحد راستہ'' فلسطین ماڈل ''کے سوا کوئی اور نہیں ۔ستر برس سے بھارت کشمیریوں کے مزاج ،سوچ اور ذہن بدلنے کی ہر ممکن کو شش کر گزرا مگر ہر کوشش ناکامی پر منتج ہوئی۔تقسیم برصغیر کے ابتدائی برسوں میں بھارت نے کشمیر کو بتدریج ہڑپ کرنے کی راہ اختیار کی تھی ۔چونکہ معاملہ اقوام متحدہ کے ایوانوں تک پہنچ کر بین الاقوامی نظروں میں آگیا تھا اور کشمیر میں شیخ عبداللہ جیسی مضبوط شخصیت موجود تھی جن کے ساتھ کشمیر کی الگ شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے پنڈت نہرو نے کچھ عہد وپیماں کر رکھے تھے اس لئے ابتدائی مرحلے میں بھارتی آئین میں بھی کشمیر کو دوسری ریاستوں سے الگ رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی تھی ۔یہی نہیں بلکہ خود کشمیر کے آئین میں کچھ شقوں کے ذریعے اس الگ شناخت کو مضبوط بنایا گیا تھا ۔کشمیر کو خصوصی شناخت دینے والی ایک دستاویز آئین ہند کی دفعہ 35Aجبکہ دوسری دستاویز کشمیر کے آئین کی دفعہ 6ہے۔

کشمیر کے آئین کی دفعہ چھ کے تحت1927میں بنائے گئے ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو تحفظ دیتی ہے ۔جس کے تحت کوئی غیر کشمیری کشمیر میں شہریت حاصل نہیں کر سکتا ۔کشمیر کی کوئی لڑکی کسی غیر کشمیری باشندے سے شادی کے بعدنہ صرف جائیداد کے حق سے محروم ہوتی ہے بلکہ اس کی اولاد بھی ایسا حق نہیں رکھتی۔اس قانون کے تحت باہر سے آنے والا کوئی شخص کشمیر میں جائیداد خریدنے کا اہل نہیں۔ سٹیٹ سبجیکٹ کا یہ قانون مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر میں بھی اب تک نافذ ہے۔اس قانون کا مقصد کشمیر یوں کو زندگی کے مختلف میدانوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا اور کشمیر کی منفرد اور الگ شناخت کو تحفظ دینا تھا ۔ بھارت میں پہلے آئین ہند کی دفعہ35Aکو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ۔سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے ۔ابھی یہ سماعت ابتدائی مرحلے پر ہی تھی کہ کشمیر کے آئین کی دفعہ 6کو اس بنیاد پر سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا کہ یہ دفعہ لڑکی کی پسند کی شادی میں رکاوٹ ہے کیونکہ یہ دفعہ کسی بھی کشمیری لڑکی کو بیرون ریاست شادی کرنے کی صورت میں تمام حقوق سے محروم کر تی ہے ۔آئین ہند کی دفعہ35Aکو چیلنج کرنے کے لیئے بہت سے تاریخی معاملات کو بنیاد بنایا گیا ہے جن میں ایک یہ ہے کہ یہ دفعہ پارلیمنٹ کی منظوری کی بجائے ایک صدارتی فرمان کے تحت آئین کا حصہ بنی ہے ۔کشمیر کے آزادی پسندوں کی بات تو الگ ہے مگر خود بھارت نواز حلقوں میں بھی دہلی میں جاری اس سرگرمی سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے بھارتی آئین کی دفعہ 35Aکو ختم کرنے کے معاملے پر مد د طلب کی ۔محبوبہ مفتی کے بقول نریندر مودی نے مدد دینے کا وعدہ تو کیا مگر ابھی تک اس رٹ میں بھارتی حکومت نے اپنا بیان حلفی جمع نہیں کرایا۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت کو اس شق کے قائم رہنے کی بجائے ختم ہونے میں دلچسپی ہے ۔کشمیر کو الگ شناخت عطا کرنے والی ان شقوں کا خاتمہ بھارت کے طویل المیعاد منصوبوں کا حصہ ہے۔اس حوالے سے فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی میں ملاقات بھی ہو چکی ہے اور عمر عبداللہ نے کھل کر کہا ہے کہ کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے خاتمے کا مقصد آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہوگا ۔کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی اس منظم کوشش کے خلاف کشمیریوں کا احتجاج ہی کافی نہیں اس سازش کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لئے پاکستان کا کردار بہت اہم ہے ۔پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو کشمیر سینٹرک بناتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرکے بتانا چاہئے کہ بھارت بین الاقوامی طور پر مسلمہ متنازعہ علاقے کا ''سٹیٹس کو ''توڑ کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور عالمی نظام پر عدم اعتماد کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں