کچھ بھی نہیں بدلا

کچھ بھی نہیں بدلا

ما ضی کی طرح اس سال بھی ١٤ اگست انتہائی عقیدت اور جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا ۔ اب اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان ٧٠ سال کاہو گیا۔ اس سال بھی پاکستانیوں نے حسب سابق بڑی بڑی عمارتوں کو ، قومی جھنڈوں اور طرقی قمقموں سے سجایاتھا۔ ملک کے طول و عرض میں سرکاری و نجی طورپر اور سیاسی پا رٹیوں کی طرف سے تقریبات کا اہتما م کیا گیا تھا۔ اب جبکہ پاکستان ٧٠ بر س کا ہوگیا ہے مگر بد قسمتی سے پاکستانی عوام اور وطن عزیز کے حالات میںکچھ زیادہ فرق نہیں آیا جو آنا چاہئے۔پاکستانی عوام اور بے چارہ پاکستان ہر دور میں بے حس اور مفاد پرستوں کی وجہ سے مشکل سے مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان بنانے اور اس کی تخلیق کا جذبہ انتہائی زبر دست اور قابل تحسین تھا مگر بد قسمتی سے پاکستان کے بارے اُس وقت کی قیادت اور بانیان پاکستان کی جو سوچ اور، فکر تھی وہ ٧٠ سال بعد بھی ایک ویلفیئر اور فلا حی ریاست میں منعکس نہیں ہوئی اور پاکستان کو ترقی اور کامرانی کی جو منازل اور اہداف حا صل کرنے چاہئے تھے اُن منازل اور اہداف میں کچھ بھی ہاتھ نہیںآیا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان عالمی ممالک کی فہرست میں ١٤٠ ویں نمبر پر ہے اور یہ وہ ١٤٠ ممالک ہیں جو پاکستان کے ساتھ یا پاکستان کے بعد معرض وجود میں آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے تحا شا وسائل سے مالا مال فرمایا ہے اور قدرتی وسا ئل کے لحا ظ سے دنیا کے بڑے بڑے ممالک میں شامل ہے مگر نہ تو ان وسائل سے فائدہ اُٹھایا گیا اور نہ بین الاقوامی برادری میں اس کا کوئی مقام ہے۔بلکہ آزادی کے بعد بھی پاکستان پتھر اور دھات کے دور کا ایک ملک ہے۔حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ ، نام نہاد جمہو ریت اورملک پر چند خاندانوں کی حکمرانی کی وجہ سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔گزشتہ ٧٠ سال سے پاکستان اور پاکستانی عوام کا خون چو سا جا رہا ہے اگر پاکستان کوئی جاندار شے ہوتا تو یہ دعائیں مانگتا کہ مُجھے ان حکمرانوں سے چھڑایا جائے۔ اوراس کی صدائیں عرش تک پہنچ جاتی۔مگر یہ حکمرانوں کی خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کوئی جاندار شے نہیںجس کی فریاد کوئی سن سکتا جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے تو پاکستانی عوام دو وقت کی روٹی، بجلی اور گیس، نوکریوں ، انصاف کی فراہمی اور زندگی کی دوسری ضروری سہولیات سے محروم ہیں۔وطن عزیز کے اکثر باسی سردرد کی گولی خریدنے سے قاصرہیں۔ ٢١ ویں صدی میں پاکستان کے سماجی اقتصادی اعشاریئے کو اوپر کی طرف جانا چاہئے مگر افسوس وطن عزیز کے سماجی اقتصادی اشاریئے نیچے کی طرف جا رہے ہیں۔ پاکستان کے چند فی صد حکمرانوں نے پاکستان کے ٥ ٩ فی صد عوام کو عالمی بینک ، آئی ایم ایف ، بیرونی اور اندرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے ۔ غریب عوام کے نام پر اربوں ڈالروں کے قرضے لیکر صرف ایک طبقہ مزے کر رہا ہے جبکہ غریب اور متو سط طبقہ سسک سسک کر زندگی گزار رہا ہے ۔تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی، بجلی ، گیس کی سہولیات سے پاکستان کی اکثریت محروم ہے۔غریب والدین سے وراثت یا ترکے میں چھوڑی ہوئی جائیداد کو بیچ بیچ کر زندگی کی گا ڑی چلا رہے ہیں۔ہر دور کے سیاست دان اور آمر پاکستان کے غریب عوام کو سُہانے خواب دکھاتے ہیں اور الیکشن میں ووٹ لیکر اقتدار کی مسند تک پہنچ کر رفوچکر ہوجاتے ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ جنوبی ایشاء میں ہم بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی نیچے ہیں ۔ حالانکہ بنگلہ دیش پاکستان سے ١٩٧١میں بھارت کی سازش اور پاکستانی لیڈروں کی باہمی چپقلش کی وجہ سے علیحدہ ہوا تھا اور افغانستان اب بھی حالت جنگ میں ہے اور امریکہ اور نیٹو کی افواج وہاں پر قابض ہیں۔ مگر ان دو ممالک میں پاکستان کے مقابلے میں سماجی اقتصادی حالات بہتر ہیں۔میں پاکستان کے عوام کو ١٤ اگست منانے پر خراج عقیدت پیش کرتا ہوں کہ اتنے سارے مسائل اور مشکلات کے باوجود بھی پاکستان زندہ اور تابندہ ہے اور عوام ٧٠ ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ یہ ملک پاکستان کے ٢٢ کروڑ عوام کا ہے اور انکے خون پسینے کی کمائی اشرافیہ پل رہا ہے ۔لہٰذا عوام کو چاہئے کرپٹ اور بد عنوان اشرافیہ نکال باہر کریں۔ آخر کب تک پاکستان کے ٢٢ کروڑ عوام ان کے ہاتھوں لُٹتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں