اشرف غنی کی مشکلات میں اضافہ

اشرف غنی کی مشکلات میں اضافہ

صدر اشرف غنی کی افغانستان میں قائم موجودہ اتحادی حکومت کے لئے جو اہداف مقرر کئے گئے تھے وہ اہداف تین سال گزرنے کے باوجود بھی حاصل نہیں کئے جا سکے۔ چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر عبداللہ کے عہدے کو قانونی حیثیت دینے کے لئے آئین میں ترمیم، ملک کے انتخابی نظام میں اصلاحات کے لئے ٹھوس اقدامات، پارلیمانی انتخابات اور لویہ جرگہ کا انعقاد وہ لازمی اہداف تھے جو اس اتحادی حکومت کے قیام کے وقت مقرر کئے گئے تھے لیکن آج تین سال گزرنے کے باوجود بھی مذکورہ اہداف حاصل نہیں کئے جاسکے۔اس حوالے سے سب سے زیادہ موردِ الزام صدر اشرف غنی اور ان کے غیر جمہوری رویے کو ٹھہرایا جانا چاہیے جس کی وجہ سے نہ صرف حزبِ اختلاف بلکہ ان کے اپنے اتحادی بھی ان کے خون کے پیاسے نظر آتے ہیں۔ اشرف غنی کے غیر جمہوری رویے نے نہ صرف ان کے سیاسی مستقبل پرایک سوالیہ نشان کھڑا کیا ہے بلکہ ملکی مفاد کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ آئیے اشرف غنی کے آمرانہ رویے اور حکومت چلانے کے غیر جمہوری طریقوں کے بارے میں افغانستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے موقف کا جائزہ لیتے ہیں۔ جہاں تک حزبِ اسلامی کی بات کی جائے تو حزبِ اسلامی اپنے لیڈر ڈاکٹر عبداللہ اور ان کی ٹیم کو اشرف غنی کی طرف سے نظر اندازکئے جانے اوراختیارات میں ان کو حصہ نہ دینے کی وجہ سے غم و غصے کا شکار ہے۔ اشرف غنی نے اصلاحات اور گورننس کے اپنے خصوصی نمائندے احمد ضیاء مسعود کو حال ہی میں ان کے عہدے سے برطرف کیا ہے۔ احمد ضیاء مسعود نہ صرف حزبِ اسلامی کے ایک انتہائی اہم رہنماء ہیں بلکہ وہ حزبِ اسلامی کے معروف و مشہورکمانڈر احمد شاہ مسعود کے بھائی بھی ہیں۔افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی اپنے مخالفین کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کی وجہ سے بہت سے مخالفین صدر کے خلاف اتحاد بنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ نئے بننے والے یہ اتحاد نہ صرف صدر اشرف غنی کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں بلکہ صدر کے ساتھ ساتھ ان کی منتخب کردہ وزراء کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کے لئے بھی پُر عزم نظر آتے ہیں۔صدر مخالف اتحادبننے کی سب سے بڑی وجہ صدر اشرف غنی کے آمرانہ رویے میں دن بدن اضافہ اور جمہوری روایات کی مخالفت ہے ۔ افغانستان کے معروف سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد اشرف غنی کی طرف سے نظر انداز کئے جانے اور دھمکائے جانے کی وجہ سے ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت پر دبائو بڑھانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ اس وقت اشرف غنی کو حزبِ اختلاف کے جن بڑے اتحادوں کی مخالفت کا سامنا ہے ان میں ہائی کونسل فار کولیشن فار افغانستان سالویشن، محورِ مردمِ افغانستان اور جبہِ ناون ملی قابلِ ذکر ہیں۔اس کے علاوہ سابق جنگجو سردار اور مجاہدین لیڈر عبدالرب رسول سیاف اور سابق افغان کامرس منسٹر انوار الحق احدی بھی ڈاکٹر اشرف غنی کے مخالفین میں شامل ہیں۔لیکن صدر اشرف غنی کو سب سے زیادہ خطرہ سابق جنگجو سردار اور موجودہ نائب افغان صدر عبدالرشید دوستم اور ان کے ساتھیوں سے ہے ۔ اپنے زمانے کے بدنام ترین جنگجو سرداروں میں سے ایک ،عبدالرشید دوستم کے ساتھ صدر اشرف غنی کے تعلقات 2016ء میں اس وقت شدید کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے جب عبدالرشید دوستم کے باڈی گارڈز کی جانب سے ان کے ایک سیاسی مخالف پر تشدد اور جنسی زیادتی کرنے کا الزام سامنے آیا تھا۔ صدر اشرف غنی کی حکومت عبدالرشید دوستم کے خلاف کارروائی کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی جب رواں سال مئی میں نائب صدر ملک چھوڑ کر چپکے سے ترکی چلے گئے تھے۔عبدالرشید دوستم کے بلخ کے گورنر عطاء محمد نور اور وزیرِ خارجہ صلاح الدین ربانی کے ساتھ رابطوں کی وجہ سے اشرف غنی کے کیمپ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اشرف غنی کو انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق ایک وقت میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہنے والے مخالفین صدر کے خلاف اتحاد بنانے کے لئے کوشاں ہیں اور اس اتحاد کے مقاصد میں افغانستا ن کو دہشت گردوں کے حملوں سے پاک کرنا، اقتصادی و معاشی بدحالی پر قابو پانااور صدر کو اپنے انتخابی منشور پر عمل کرنے پر مجبور کرنا شامل ہیں۔موجودہ اتحادی حکومت کے اہم عہدیداروں سمیت بہت سے اہم سیاسی رہنمائوں پر مشتمل اس اتحاد کی خبروں نے اشرف غنی کے کیمپ میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی جس کے بعد افغان صدر نے اپنے انٹیلی جنس چیف کو نائب صدر عبدالرشید دوستم کو ملک واپس لانے کی ذمہ داری سونپی۔ لیکن دوسری جانب جب عبدا لرشید دوستم کے پرائیویٹ طیارے نے مزار شریف میں اترنے کی کوشش کی تو اسے اترنے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ حکومت کو یہ بھنک پڑ چکی تھی کہ صدر مخالف اتحاد مزار شریف میں دوستم کے اترنے کے بعد اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گا۔ اس صورتحال میں دوستم کو ہمسایہ ملک ترکمانستان میں اترنا پڑا جہاں سے وہ زمینی راستے سے افغانستان داخل ہوں گے۔ عبدالرشید دوستم پچھلے کئی مہینوں سے صدر سے ناراض ہیں اور وہ کھلے عام اپنی ناراضی کا اظہار بھی کرچکے ہیں جس میں انہوں نے صدر اشرف غنی پر تمام اختیارات کو اپنی ذات تک محدود کرنے اور اپنے اتحادیوں کو دیوار سے لگانے کے الزامات عائد کئے تھے۔ اپنی خونخوار اور سفاک طبیعت کے باوجود عبدالرشید دوستم شمالی افغانستان میں مذہبی شدت پسندی اور طالبان کے خلاف ڈھال کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے باوجود دوستم صدر اشرف غنی کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہیں ۔ اس لئے اگر دوستم موجودہ صدر کی مخالفت پر اتر آئے تو اشرف غنی کی حکومت کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔دوسری جانب طالبان کے خلاف جنگ میں بھی اشر ف غنی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور میدانِ جنگ میں اپنی برتری کی وجہ سے طالبان مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اسی طرح صدر اشرف غنی کی پالیسیوں کی وجہ سے پاک افغان تعلقات بھی کشیدگی کا شکار ہیں جو شدت پسندی کے خلاف جنگ کیلئے انتہائی نقصان دہ امر ہے۔ان حالات میں اقتدار میں رہنے کیلئے اشرف غنی کو مستقبل میں گلبدین حکمت یار کو حکومت میں اہم عہدہ دینا ہوگا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی حکومت بچانے کیلئے اشرف غنی کو عبدالرشید دوستم کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے باز رہنا ہوگا۔ (ترجمہ: اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں