مشرقیات

مشرقیات

ایک مغربی (رومی ) دانشور بغداد میں خلیفہ کے دربار میں حاضر ہوا ، علم و فضل اور دانائی اور ہمہ دانی کے دعوے کئے اور بڑے طمطراق سے کہا کہ میرے پاس ایسے تین سوال ہیں کہ آپ کی پوری سلطنت کے علما بھی جمع ہو کر ان کا جواب نہیں دے سکتے ، خلیفہ حیران ہوا ، اس نے اعلان کرادیا ، علمائے کرام ، آئمہ کبار اور بڑے بڑے فقہا جمع ہوئے ، امام اعظم بھی تشریف لائے ، رومی دانشمند نے اپنے لیے ایک منبر رکھوا یا تھا ، جب سب علماء آگئے تو رومی نے منبر پر چڑھ کر علماء اسلام کو علی التر تیب اپنے تین سوال پیش کئے :
1: یہ بتائو کہ خدا سے پہلے کون تھا ؟
2: یہ بتائو کہ خدا تعالیٰ کار خ کدھر ہے ؟
3:اور یہ بتائو کہ اس وقت خدا تعالیٰ کیا کر رہا ہے ؟
واقعتا بظاہر پریشان کن سوالات تھے ، مجمع پر سکوت طاری تھا ، سب جواب سوچ رہے تھے کہ امام ابوحنیفہ آگے بڑھے اور کہا : آپ نے منبر پر بیٹھ کر سوالات بیان کئے ہیں تو مجھے بھی ان کے جوابات منبر پر بیٹھ کر دینا چاہیئے تاکہ سب حاضرین آسانی سے سن سکیں ، لہٰذا اب تمہیں منبر سے نیچے آنا چاہیئے ۔ رومی دانشور منبر سے نیچے اترا تو امام صاحب منبر پر تشریف لے گئے اور رومی کو مخاطب کر کے کہا اب نمبر وار اپنے سوال دہراتے جائو اور ان کا جواب سنتے جائو ، رومی دانشور سابقہ تر تیب سے سوالات دہراتا رہا اور امام ابو حنیفہ حسب ذیل جوابا ت دیتے رہے ۔
1: پہلے سوال کے جواب میں امام ابو حنیفہ نے کہا گنتی شمار کرو ، رومی نے دس تک گنتی شمار کی ۔امام ابو حنیفہ نے فرمایا دس سے پیچھے کی طرف الٹی گنتی کرو ، رومی نے 10سے الٹی گنتی شروع کی ، جب ایک پر پہنچا تو امام ابو حنیفہ نے ان سے کہا کہ ایک سے پہلے گنو ، رومی نے کہا ایک سے پہلے کوئی گنتی ہی نہیں ہے تو امام ابو حنیفہ نے فرمایا یعنی جب واحد مجازی لفظی سے پہلے کوئی چیز متحقق نہیں ہو سکتی تو پھر واحد حقیقی معنوی سے پہلے کس طرح کوئی چیز متحقق ہو سکتی ہے ؟ تو خدا ابھی ایک ہے اس سے پہلے کچھ بھی نہیں ہے ۔ 2: دوسرے سوال کے جواب میں امام ابو حنیفہ نے ایک شمع روشن کی اور کہا بتائو اس کا رخ کدھر ہے ؟ رومی دانشور نے کہا سب کی طرف ہے ، امام ابو حنیفہ نے کہا شمع مخلوق ہے ، اس کے اس رخ کے تعین سے آپ جیسے دانشور بھی عاجز ہیں تو خالق کے رخ کے تعین میں بے چارے عاجز بندوں کا کیا دخل ؟ بہر حال خدا تعالیٰ کا رخ بھی سب کی طرف ہے ۔ 3:تیسرے سوال کے جواب میں امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ اس وقت خدا تعالیٰ نے تجھے منبر سے نیچے اتار دیا اور مجھے منبر پر بیٹھنے کی عزت بخشی ، رومی دانشور نے جوابات سنے توشرمندہ ہوا اور راہ فرار اختیار کرنے میں عافیت جانی ۔قرون اولیٰ کے مسلمان علماء واکابرین اپنی علمی بصیرت میں مثالی نمونہ تھے ۔ اس وقت کے بڑے بڑے غیر مسلم عالم کی حیثیت ان کے آگے کچھ نہیں تھی ۔ امام ابو حنیفہ کا اپنی علمی بصیرت اور بصارت کی بدولت ایک نمایاں مقام تھا ۔
(تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں