پاک افغان اعتماد کی بحالی ہی مسئلے کا حل ہے

پاک افغان اعتماد کی بحالی ہی مسئلے کا حل ہے

وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی حنیف اتمار سے برطانوی دارالحکومت میں ملاقات میں ایک مرتبہ پھر اس سنگین مسئلے کو اٹھایا ہے کہ افغانستان سے عسکریت پسند پاکستان کے خلاف حملے کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ اسلام آباد کی جانب سے افغانستان کے ساتھ سرحد بند کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ رہنمائوں کے درمیان یہ پہلی براہ راست ملاقات تھی۔دونوں رہنمائوں کو برطانیہ کے مشیر برائے قومی سلامتی سر مارک لائل گرانٹ کی جانب سے مدعو کیا گیا تھا۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید بگاڑ آیا ہے۔ خاص طور پر افغانستان سے دہشت گردوں کا پاکستان میں داخلہ اور دہشت گردی پر پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ بہ امر مجبوری پاک فوج نے ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کی سرحد کے اس پار عسکریت پسندوں کے تربیتی ٹھکانوں کو نشانہ بھی بنایا۔ فوجی ذرائع کا کہنا تھا کہ سرحد کے اس پار سے چند سو کلو میٹر کے فاصلے سے جماعت الاحرار کے عسکریت پسند فوج پر حملے کرتے ہیں۔کابل کو جب ملکی خودمختاری پر حملوں کی شکایات کی گئیں تو افغانستان کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سرحد پر تمام فوجی کارروائیاں روکنی چاہئیں۔برطانوی وزارت خارجہ نے لندن میں پاک افغان عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ملاقات پر تبصرے سے انکار کیا، تاہم دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ تینوں عہدیداروں نے افغانستان کے عسکریت پسندوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں سے متعلق اسلام آباد کے خدشات پر گفتگو کی۔برطانیہ کو امید ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں کامیاب ہوجائے گا۔سرحدی کشیدگی کی صورتحال یہ ہے کہ پاک افغان سرحد کو گزشتہ ماہ بند کیے جانے کے بعد گزشتہ ہفتے صرف 2 دن کے لیے کھول کر تشویش ناک حالت میں موجود مریضوں اور دونوں جانب پھنسے ہوئے شہریوں کو اپنے اپنے وطن جانے کی اجازت دینے کے بعد دوبارہ بند کردیا گیا تھا۔پاکستان نے افغانستان کے ساتھ گیارہ سو کلو میٹر سرحد پر سخت انتظامات کرتے ہوئے وفاق کے زیر تحت علاقے فاٹا میں ریڈار سسٹم نصب کیا ہے، جب کہ افغانستان نے بھی سرحد پر اقدامات کیے ہیں جس کے بعد سرکاری کراسنگ پوائنٹس کے علاوہ ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہونا مشکل بن چکا ہے۔سرحد بند ہونے کے باعث دونوں ممالک کے تجارتی افراد کو کافی مالی نقصان ہو رہا ہے، اور ہزاروں شپنگ کنٹینرز کراچی میں پھنسے ہوئے ہیں کیوں کہ افغانستان اپنی درآمد کے لیے بھی پاکستان کی بندرگاہوں کو استعمال کرتا ہے۔پاکستانی عہدیدار اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ افغان حکومت مشرقی افغانستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، مگر ساتھ ہی وہ کابل پر دہشت گردوں کو پناہ گاہیں بنانے کی اجازت دینے کا الزام بھی لگاتے ہیں۔اسلام آباد کا کہنا ہے کہ بھارتی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانے بنالیے ہیں اور افغانستان کے عسکریت پسند پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد فرار ہوجانے والے کئی عسکریت پسند اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔اس وقت القاعدہ، داعش، حقانی نیٹ ورک، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان کے جنگجوئوں کا مشرقی افغانستان میں گٹھ جوڑ ہوچکا ہے اور کبھی کبھار ایک دوسرے کو مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔اس ساری صورتحال میں سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی مشکلات کو سمجھیں اور باہم مل بیٹھ کر سرحدی حالات کو معمول پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے سرحدوں پر باڑ لگانے اور ریڈار سسٹم کی تنصیب اور سرحدی نگرانی کے دیگر انتظامات دہشت گردوں کی آمد کی روک تھام کے لئے کافی ہونے چا ہئیں لیکن طویل اور پیچیدہ سرحد پر آمد و رفت کو قانونی بنانے اور خاص طور پر دہشت گردوں کے داخلے کے امکانات کو مسدود سے مسدود تر بنا نے کے لئے افغان حکومت اور سرحدی حکام کا تعاون بھی ضروری ہے۔ اس ضمن میں ان کی جانب سے عدم تعاون کا مظاہرہ تضادات ' اختلافات اور کبھی کبھار سرحدی تصادم کا بھی باعث بن جاتا ہے۔ پاک افغان سرحد پر روزانہ ہزاروں افراد کی آمد و رفت کو باقاعدہ بنانا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ ہمارے تئیں فی الوقت مستند سفری دستاویزات رکھنے والوں ہی کو آمد و رفت کی اجازت دینا حالات کی مجبوری اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس ضمن میں نرمی کی جائے اور نہ ہی افغان حکومت کو اس ضمن میں کسی رو رعایت کی امید رکھنی چاہئے البتہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظامات کے تسلی بخش ہونے اعتماد کی بحالی اور دہشت گردوں کی آمد و رفت پر مکمل طور پر قابو پانے کے بعد دونوں ملکوں کے حکام نرم شرائط پر سفر کی اجازت دینے پر متفق ہوسکتے ہیں۔ فی الوقت دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ کا باعث بننے والے معاملات اور کچھ احساسات بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب تک افغانستان اپنے رویے میں مثبت تبدیلی لانے کا فیصلہ نہیں کرتا اوران ذمہ داریوں کی ادائیگی عملی طور پر نہیں کرتا تب تک سرحدی کشیدگی کا خاتمہ اور معمول کی آمد و رفت کی بحالی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

متعلقہ خبریں