متنازعہ مضمون پر پارلیمانی کمیشن بنانے کا حاصل؟

متنازعہ مضمون پر پارلیمانی کمیشن بنانے کا حاصل؟

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے رواں ہفتے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے مضمون کے مندرجات کی تحقیقات بارے پارلیمانی کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔ لیکن پاکستان میں کمیشن کا قیام کسی مسئلے کا نہ تو حل ثابت ہوا ہے اور نہ ہی کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کی مکمل نظیر ہے اور نہ ہی حساس معاملات بارے کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر اس پر پارلیما نی کمیشن بن بھی جاتا ہے تو اس کی رپورٹ اور سفارشات اس بناء پر ابھی سے لاحاصل نظر آتی ہیں کیونکہ مضمون میں ایک سیاسی جماعت کی حکومت اور قائدین پر الزام لگایا گیا ہے مگر اس کے باوجود پارٹی کے اعلیٰ قائدین منہ میں گنیاں ڈالے ہوئے ہیں۔ پی پی پی دور حکومت میں امریکہ میں سابق سفیر کی اس وقت کے حکمرانوں کی جانب سے حالیہ دورہ امریکہ میں سرد مہری کا مظاہرہ اس مضمون کے لکھے جانے کی ایک وجہ بتایا جاتا ہے جس کے بعد اس کی معروضیت کاسوال اٹھتاہے۔ اس مضمون کے لکھے جانے کے دیگر مقاصد کو بھی سمجھنا مشکل نہیں ۔ اس ساری صورتحال میں بہر حال کمیشن بنانے سے قبل ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا حسین حقانی پاکستان آسکتے ہیں یا نہیں، کیونکہ جس طرح کے حالات ہیں ان میں شاید یہ ممکن نہ ہو۔حسین حقانی ایک ایسے شخص ہیں، جنہوں نے امریکا جاکر صرف اپنے مفاد کے تحت کام کیا اور کہیں بھی ملکی مفاد اور قومی سلامتی کو ترجیح نہیں دی۔ہمارے تئیں پارلیمانی کمیشن بنانے کی بجائے اگر ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو عام کیا جائے تو زیادہ بہتر انداز میں اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیںگے ۔ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ یہ واقعہ کیسے ہوا اور کون کون اس میں ملوث تھا۔ اگر پارلیمانی کمیشن بن بھی گیا تو حسین حقانی اس کے سامنے پیش ہونے کے لیے پاکستان نہیں آئیں گے اور اگر حکومت انہیں طلب کرنے کی کوشش کرے گی تو امریکی حکام انہیں تحفظ فراہم کریں گے ۔اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی نے حسین حقانی کے اس مضمون سے لاتعلقی کا اظہار کیا، لیکن یہ بات کوئی وزن نہیں رکھتی انہیں ذمہ داری تو قبول کرنی پڑے گی یا پھر ان کو حسین حقانی کے دعوے کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔
ریگی ماڈل ٹائون پر بلند و بانگ دعوے
ریگی للمہ ٹائون شپ دو ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے باعث اگر واقعی صحراسے تبدیل ہو کر آباد اور گل وگلزار بن چکی ہے تو پلاٹ مالکان کو وہاں گھر بنا کر رہائش اختیار کرنے میں کیا امر مانع ہے۔ سب سے ضروری امر تو یہ ہے کہ آخر اس پورے دور حکومت میں بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح ریگی کے متنازعہ زونز کی اراضی کاتصفیہ کیوں نہ کیا جا سکا ۔ ریگی للمہ ٹائون شپ اس وقت ہی صحیح معنوں میں رہائشی سکیم متصور ہوگی جب اس کے متنازعہ زونز کی اراضی کا تنازعہ قبائلی بھائیوں سے طے کیا جائے گا اور نامکمل زونز کی تعمیر کا آغاز ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا حکومت خواہ کتنا بھی تحفظ کے اقدامات کرے اور باقی زونز میں جتنے بھی ترقیاتی کام کر وائے جائیں اس کے من حیث المجموع اثرات مرتب نہیں ہوں گے ۔ ریگی للمہ میں دوارب روپے کی لاگت سے کیا ترقیاتی کام ہوئے اس سے قطع نظر اب بھی ریگی للمہ میں گھر بنانے سے لوگوں کی ہچکچاہٹ کا خاتمہ نہیں ہوا۔ ریگی للمہ کے رہائیشیوں کوسب سے زیادہ ضروری سہولت گیس کی فراہمی کو ممکن نہیں بنایا جا سکا ہے ۔ صوبائی وزیر بلدیات اور متعلقہ حکام کو عوام کی حاجت اصلی کا ادراک ہوتا تو سب سے پہلے ان دو ارب روپے میں سے گیس کی فراہمی کیلئے رقوم کی ادائیگی کی جاتی مگر عالم یہ ہے کہ متعلقہ محکمے کو چھپن کروڑ روپے کی ادائیگی ہنوز باقی ہے ۔ سڑکوں کی کشادگی تعمیر و مرمت اور پھول پودے لگانے کی بھی مخالفت نہیں کی جا سکتی مگر ان کا شمار نہایت بنیادی لوازمات میں نہیں ہوتا اس کے باوجود اس نمائش کا تو تکلف گوارا کیا گیا مگر اشد ضروری مسئلے کا حل ہنوز باقی ہے۔ متعلقہ محکمے کو ادائیگی ہوگی تبھی وہ ادھورا کام آگے بڑھائے گا جس کی تکمیل میں مزید سال سے زائد کا عرصہ لگے گا۔ ریگی ماڈل ٹائون ریز یڈ نٹس سوسائیٹی کے حلف اٹھانے والے نو منتخب عہدیداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکام کے مزاج کی موافقت کی بجائے عوامی مسائل کے حل میں کاوشیں کریں اور نہایت بنیادی اور ضروری مسائل حل کروائیں تاکہ ریگی ماڈل ٹائون حقیقی معنوں میں پر سہولت رہائشی کالونی بنے جس کے بعد ہی اس کا حیات آباد سے تقابل کیا جائے تو اسے تسلیم کیا جائے گا ۔

متعلقہ خبریں