کمشن بنائو جان چھڑائو

کمشن بنائو جان چھڑائو

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی قیام گاہ کا سراغ لگانے اور اس طرح امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ایبٹ آباد میں ان کے قتل میں بالواسطہ معاونت کا انکشاف کرکے پیپلز پارٹی کے سابقہ دورِ حکومت میں امریکہ میںسفیر حسین حقانی نے صدر ٹرمپ کے مخالفوں کا منہ بند کرنے میں ٹرمپ انتظامیہ کی معاونت کا ایک ثبوت فراہم کر دیا اور ساتھ ہی یہ ثابت کر دیا کہ وہ پاکستان میںاپنے سرپرستوں کی بجائے امریکہ کے وفادار ہیں۔ اس وفاداری کے صلے میں ان کے امریکہ میں مقیم رہنے کا جواز تو شاید حاصل ہو گیا اس کے علاوہ کچھ ملا تو وہ خود جانیں یا امریکی حکمران ۔اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے امریکیوں کو مشکوک ویزے ، حکومت ، فوج اور انٹیلی جنس اداروں سے بالا بالا جاری کیے۔ انہوں نے اپنے سرپرستوں سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے نام بھی لے لیے ہیں کہ یہ ویزے ان کی براہ راست منظوری سے جاری کیے گئے تھے۔ معاملہ سنگین ہے۔ حکومت پاکستان کے امریکہ میںنمائندہ، پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم نے اپنی ہی حکومت کو بے خبر رکھتے ہوئے بدنام زمانہ امریکی سی آئی اے کے سپیشل فورسز کے ارکان اور ایجنٹوں کے پاکستان آنے میں سہولت فراہم کی جس کے نتیجے میں پاکستان کی خود مختاری پامال ہوئی۔پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن سید خورشید شاہ یہاںتک ناراض ہوئے کہ انہوں نے حسین حقانی کو غدار کہا اور اس غداری کو اس قدر غیر اہم قرار دیا کہ اس کا ذکر بھی ایوان میںنہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ایک تو غداری کوئی ایسا جرم نہیںہے جس کے مرتکب کو غیر اہم قرار دیا جائے اور دوسری طرف حسین حقانی نے تو پیپلز پارٹی کے سابق صدر اور وزیر اعظم کے خلاف گواہی دی ہے کہ ان کے ایما پر ویزے جاری کیے گئے تھے۔ سید خورشید شاہ نے ان دونوں کے بارے میں کچھ نہیںکہا البتہ ان کے خلاف حسین حقانی کی گواہی کو نظر انداز کرنے پر زور دیا۔ لیکن اس پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ حسین حقانی نے سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا نام لے کر الزامات عائد کیے ہیں اس سے قومی سلامتی مجروح ہوئی ہے۔ اس لیے ایوان میڈیا کے سامنے اس معاملے کی تفتیش کرے۔ انہوںنے کہا کہ ایوان میں نمائندگی رکھنے والی سب پارٹیوںکے ارکان پر مشتمل کمیشن بنایا جائے جو اس معاملے کی تحقیقات کرے۔ حسین حقانی کو غدار اور غیر اہم قرار دینے سے معاملہ ختم نہیں ہوا تو انہوں نے خواجہ آصف کی تجویز کی حمایت کی اور کہاکہ مجوزہ کمیشن کا دائرہ کار بڑھا دیا جائے۔ انہوں نے یہ حمایت اس طرح کی جیسے جوابی الزامات عائد کر رہے ہوں۔انہوںنے کہا کہ کمیشن یہ بھی تحقیقات کرے کہ اسامہ بن لادن کس طرح پاکستان آیا اور بے نظیر شہید کی حکومت گرانے کے لیے کس نے کس کو فنڈنگ دی۔ (کہا جاتا ہے کہ اسامہ بن لادن نے فنڈز فراہم کیے تھے) اس جوابی وار کے ساتھ ساتھ انہوںنے یہ بھی کہا کہ حکومت فیڈریشن کو توڑنا چاہتی ہے۔ یعنی حکومت نے اگر سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کے خلاف تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا تو فیڈریشن ٹوٹ جائے گی اور حکومتی پارٹی اس کی ذمہ دار ہو گی۔
اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے حسین حقانی کو غدار اور غیر اہم قرار دے کر جان چھڑانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کے وزیردفاع نے کمیشن بنانے کی تجویز دے کر جان چھڑانے کی کوشش کی۔ جس پر اپوزیشن لیڈر نے اطمینان کا اظہار کیا ۔ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان میں تحقیقاتی کمیشن بنتے ہیں اور ان کی رپورٹیں شاذ ہی منظر عام پر آتی ہیں۔ لہٰذا کمیشن بنانے کی تجویز حکومت اور اپوزیشن لیڈر دونوں کے لیے عافیت کی تجویز قرار پائی۔ خورشید شاہ نے اسے مزید دیر طلب بنانے کے لیے کمیشن کے دائرہ کار میں توسیع کا مطالبہ کر دیا۔ اور حسین حقانی کی دیگر سرگرمیوں کے علاوہ اس میں اور بھی موضوع شامل کر دیے۔ حسین حقانی کو امریکہ میں سفیر تو پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں بنایا گیا تھا ۔ تاہم اس سے پہلے وہ آج کل حکمران مسلم لیگ ن کے بھی مشیر رہے تھے اور کہنے والے کہتے ہیںکہ وہ ن لیگ کے سربراہ وزیر اعظم نواز شریف کو پیپلز پارٹی کی محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ محترمہ نصرت بھٹو کی کردار کشی کے حوالے سے بھی معاونت اور مشورے دیتے رہے۔ لیکن خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اسامہ کے پاکستان میں قیام پذیر ہونے اور افغانستان میں حملہ آور ہونے کے لیے سابق صدر پرویز مشرف کے زمانے میں امریکہ کو ہوائی اڈے دینے اور ایسے ہی دیگر معاملات کی تحقیقات بھی کمیشن کے سپرد کی جائیں۔ یعنی کمیشن اگر بن بھی گیا تو کئی سال تک مصروف رہ سکتا ہے ۔سپیکر پر یہ ذمہ داری پڑتی نظر آئی کہ کمیشن بنا دیا جائے تو ڈپٹی سپیکر نے جو اس وقت ایوان کی صدارت کر رہے تھے جان چھڑانے کا ایک اور جواز پیش کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور اپوزیشن اس کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس یعنی دائرہ کار پر متفق ہو جائیں تو وہ کمیشن کی تشکیل کا اعلان کر دیں گے ۔ حسین حقانی کے انکشافات پر تحقیقاتی کمیشن کے دائرہ کار پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کا اس کے دائرہ کار پر متفق ہونا محال ہے۔ کیونکہ حسین حقانی جہاںآج پیپلز پارٹی کے سابق صدر آصف زرداری پر اپنے ساتھ قومی اداروں سے بالا بالا مشکوک ویزے جاری کرنے کی اجازت دینے کا انکشاف کر رہے ہیں وہاں ان پر حکمران مسلم لیگ کی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی کردار کشی میں مشاورت اور معاونت کا بھی الزام ہے۔ دونوں پارٹیاں حقائق افشاء کرنے پر راضی نہیں ہوسکتیں۔ اس لیے دونوں تحقیقاتی کمیشن بنانے پر رضامند ہیں۔ پاکستان میں کمیشن تو بنتے ہی رہتے ہیں ان کی رپورٹوں کا انتظار ہی رہتا ہے۔ لیکن کمیشن کے قیام پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت فیڈریشن توڑنا چاہتے ہے، یہ قابلِ غور ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں