میاں صاحب کے الفاظ کیا کہہ رہے ہیں ؟؟

میاں صاحب کے الفاظ کیا کہہ رہے ہیں ؟؟

میاں صاحب کے حالیہ بیان نے لوگوں میں ایک عجب فکر کو جنم دیا ہے ۔ مسلسل اسی حوالے سے بات چیت ہورہی ہے کہ جو الفاظ میاں صاحب نے استعمال کیے ان کی وجوہات کیا تھیں ؟یہ کونسے لوگ ہیں ، کونسی پالیسی ہے جس کی جانب میاں صاحب اشارہ کر رہے ہیں ۔ حکومت وقت دراصل کیا چاہتی ہے ۔ میاں صاحب جو باتیں کر رہے ہیں یہ ان سے کون کہلوا رہا ہے اور دراصل یہ الفاظ کس جانب اشارہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہ سارا ہنگامہ دراصل ان لفظوں کا بھی ہے ۔ ان لفظوں سے میرا مطلب ان لفظوں کے چنائوسے ہے ۔اگر میاں صاحب کسی جانب اشارہ کررہے ہیں کسی کو پیغام دے رہے ہیں تو لفظوں کا چنائو بہترین ہے لیکن ان سے چونکہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ سیاست کی ایسی باریکیوں کو ایسی نزاکت سے استعمال کرنے کا طر ہ بھی رکھ سکتے ہیں تو لوگ پریشان ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بھلا وہ کونسے ایسے لوگ ہیں جو میاں صاحب سے ان الفاظ کے پس پردہ کچھ کہلوانا چاہتے ہیں کیونکہ ایک بار ان لوگوں کی نشاندہی ہو جائے ۔ مقاصد کا تعین اپنے آپ ہو جائے گا ۔ ہم وہ کمال قوم ہیں جو بظاہر IT میں اتنی کامیاب دکھائی نہیں دیتی جتنی کامیابی سے ہم ITکا اطلاق اپنی زندگیوں پر کیے بیٹھے ہیں ۔ اپنے دوستوں اور دشمنوں کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے ،ان کی سوچ کے دھا روں کے بارے میں ، ان کی نیتوں کی تشریحات کے لیے بھی ہم نے ایک قوم ہوتے ہوئے ، کچھ Templatcs، کچھ سانچے ، کچھ خیال کے ڈھانچے بنا رکھے ہیں ، جیسے ہی کسی دوست ، یا کسی دشمن کی کوئی بات ہمیں مل جائے ، ہم اس سانچے میں فٹ کر کے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ در اصل اس بات کا اصل مقصد کیا ہے ؟ کچھ لوگ بھی ، کچھ لیڈر بھی اپنے خیالات ، اپنی شخصیت کے اعتبار سے ہم پر اتنے ہی واضح ہیں ۔ پریشانی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پہلے سے طے کردہ رویوں یا لفظوںاور نیتوں کے سانچوں سے ہٹ کر باتیں ہونے لگتی ہیں ۔ اپنے ملک کے وزیر اعظم کے حوالے سے بھی ہم سب کا کچھ ایسا ہی حال ہے ۔ ایک صاحب ایک دن ایک واقعہ سنا رہے تھے ، کہنے لگے کہ ہمارے لوگوں کے رویوں کو ، انکے ذہنوں کی روش کو اور انکے خیال کی پرواز کو جانچنے کا ایک بڑا آسان فارمولا ہے ۔ ایک شخص سے میں کچھ پھل خریدرہا تھا اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہا تھا ۔ اچانک ہی میرے ذہن میںایک سوال آیا اور میں نے اس سے پوچھا ۔ آپ کے خیال میں اس ملک کے سیاست دانوں میںسب سے زیادہ کرپٹ ، سب سے زیادہ بد عنوان کون ہے ، وہ صاحب کچھ دیر میرے سوال پر غور کرتے رہے پھر بولے کہ ''نام تو میاں نواز شریف کا ہی سن رہے ہیں '' میںنے پھر ایک اور سوال پوچھا کہ پھر آپ اگلے انتخابات میں ووٹ کس کو دینگے ، اس نے بلا تو قف ، فوراً جواب دیا ، ووٹ تو میں میاں نواز شریف کو ہی دونگا ''۔ اس شخص کی اس بات نے ہماری مجلس کو تو کشت زعفران بنا دیا لیکن مجھے سوچنے پر مجبور کردیا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بحیثیت قوم ہم نے سوچنا سمجھنا ترک کر رکھا ہے ۔ ہم میاں صاحب کے لفظوں کے چنائو پر آج اُلجھ رہے ہیں ۔ اسکی بڑی سادہ سی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ سب سے بڑی اورا ہم وجہ یہ ہو سکتی کہ ہمیں لفظوں میں اُلجھا یا جارہا ہے تاکہ ہم کسی اہم بات کی طرف متوجہ ہی نہ ہو سکیں اور پھر خیال آتا ہے کہ یہ بات بھی شاید صورتحال کو بہت ہی سادگی سے سمجھنے کی کوشش ہے یاپھر ہمارے اس نقطہ نظر، خیال کے اس دھارے کی جانب اشارہ ہے جو ہر ایک بات میں ایک بین الاقوامی سازش کے تانے بانے بنتا ہے ۔ اسکی وجوہات کے حوالے سے بھی لوگوں کی جیبوں میں بڑے دلائل ہیں ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قوم چونکہ بالکل اوائل عمر میں ، بچپنے میں ہی یتیم ہوگئی تھی ۔ اسکے بعد اسے استعمال کرنے والے لیڈر تو ملے ، کوئی محبت کرنے والا ، شفقت سے اس کا ہاتھ پکڑ کر سیدھے راستے پر لے کر جانے والا ، کوئی اسکے غم میں گھلنے والا نہیں ملا تو یہ قوم ایک نفسیاتی خوف میں مبتلا ہوگئی ۔ وہ نفسیاتی خوف جو اسے اب مسلسل اس کیفیت میں قید رکھتا ہے کہ لوگ دوسری قومیں دراصل اس کی دشمن ہیں اور اس کے خلاف کوئی ایسی سازش کررہی ہیں جو اس کوسمجھ نہیں آرہی یا دکھائی نہیں دے رہی ۔ بات میاں صاحب کے الفاظ سے شروع ہوئی تھی اور کہاں سے کہاں نکل گئی ہے ۔ دراصل میاں صاحب کے الفاظ ہی اتنے حیران کن ہیں کہ ان کی بات کی صحت کی طرف دھیان لے کر جانا ممکن ہی نہیں ہو رہا ۔ الفاظ کا چنائو بھی اتنا ہی معنی خیز ہے کہ ذہن اُلجھتا جاتا ہے لیکن پھر خیال آتا ہے کہ میاں صاحب بھلا کہاں اتنا غور کیا کرتے ہونگے ۔ ان کی کیفیت تو یہ ہے کہ ان کی ترجیحات میں کسی بیرون ملک دورے پر بھی ان کا اپنا خانساماں اور پسند کے کھانے ہوتے ہیں۔ ان سے الفاظ کے چنائو میں کسی بھید کی توقعات کہاں کی جاسکتی ہیں ۔ میاں صاحب جو بات کر رہے ہیں اس کے حوالے سے بھی اک لمبی بحث ہے ، بظاہر بات دوست ہے ۔ اس میں کوئی دلیل کی غلطی نہیں ، ہماری سوچ سے بھی مطابقت رکھتی ہے لیکن پریشانی وہی ہے کہ ان سے یہ امید نہیں تھی اور الفاظ ان کے اپنے نہیں لگتے ۔ ایک صاحب کی بہت خوبصورت بات اس حوالے سے ذہن میں آرہی ہے کہ لفظ درست ہوتے ہیں ، اچھے دوست، اور دوستوں کی محفل سے آپ کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے ۔ بات تب بگڑتی ہے جب اچانک ہی دوست بدلے ہوئے دکھائی دیں ۔ دوستوں کا یکدم بدلنا ایک لمبی بحث ہے ۔ اس حوالے سے پھر بات رہے گی ۔

متعلقہ خبریں