کیا قوم ہے ہماری بھی

کیا قوم ہے ہماری بھی

ہماری بھی کیا قوم ہے۔ ہم اپنی بستی کے ایک سکول کے سامنے کھڑے اپنی پوتی کا انتظار کر رہے تھے ساتھ ہی ایک گلی میں مردم شماری کے محکمے کا کارندہ ہلکے سبز مائل کپڑے کی جیکٹ پہنے ایک ایک گھر کی گھنٹی بجاتا نظر آیا لیکن… باقی باتیں زیر نظر تحریر کے آخر میں بتائیں گے تاکہ تجسس قائم رہے۔ ہمارے د وست پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان نے گزشتہ دنوں مردم شماری کے بارے میں کچھ تجاویز روانہ کی تھیں۔ انہوں نے لکھا تھا کہ قومی ترقی اور منصوبہ سازی کا انحصار درست اور اپ ڈیٹ مردم شماری کے نتائج پر ہوتا ہے۔ اس سے ملک کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے بڑی مدد ملتی ہے۔ شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ درست مردم شماری سکولوں' ہسپتالوں' مواصلات کے ذرائع' قومی خدمات (Services) اور تجارت کے انفراسٹرکچر کے لئے معاون ثابت ہوتی ہے۔ مردم شماری ہی کے ذریعے ملک کی آبادی کی شرح معلوم کی جاسکتی ہے اور اس طرح حکومت کو ان ضروریات کا اندازہ لگتا ہے جس سے وہ انتظامی شعبے میں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لئے تبدیلیاں لاسکے۔ ملک کے سماجی اور معاشی رجحانات بھی مردم شماری کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں۔ آج کل شہری آبادی میں اضافہ ایک بین الاقوامی رجحان بن چکا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں تو اس کی رفتار خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ چنانچہ شہروں کی جانب نقل مکانی کے بارے میں درست شماریات کی جمع آوری آج کے دور کی اہم ضرورت ہے۔ پروفیسر صاحب نے اپنے برقی مراسلے میں مردم شماری کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے جن بنیادی نکات کی نشاندہی کی ہے ہمیں خوشی ہے کہ سرکار نے اس اہمیت کے پیش نظر 15مارچ سے ملک میں قومی سطح پر چھٹی مردم شماری کا آغاز کردیا ہے جو 25مئی تک جاری رہے گی۔ ہماری طرح آپ کو بھی یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہمارے بحران زدہ وطن عزیز کے حکمرانوں کو 19 سال بعد یہ احساس ہوا کہ ایک ترقی پذیر ملک کو مردم شماری کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ خطہ جو پاکستان کا حصہ بنا وہاں کی پہلی مردم شماری 1881ء میں کی گئی تھی اور پھر کم و بیش ہر دس سال بعد تواتر کے ساتھ یہ عمل جاری رہا۔ 1948ء میں قائد اعظم کی رحلت کے بعد ملک میں مسلسل ایک غیر یقینی سیاسی فضا چھائی رہی۔ معیشت بھی مستحکم نہ تھی۔ اس کے باوجود پاکستان کے قیام کے صرف چار سال بعد 1951ء میں پہلی مردم شماری ہوئی جس کے مطابق پاکستان کی آبادی ساڑھے سات کروڑ بتائی گئی۔ مشرقی پاکستان کی آبادی اس وقت تین کروڑ تیس لاکھ اور مغربی پاکستان کی چار کروڑ 20لاکھ تھی۔ دوسری مردم شماری 1961ء میں ہوئی اور تیسری 1971ء کی بجائے 1972ء میں مکمل ہوئی۔ تاخیر کی وجہ 1971ء میں پاک بھارت جنگ بتائی گئی اور یہ کہ ملک کے سیاسی حالات مردم شماری کے لئے ساز گار نہ تھے۔ چوتھی مردم شماری کا انعقاد 1981ء میں ہوا۔ پانچویں جو ازراہ قانون 1991ء میں ہونا تھی وہ مارچ 1998ء میں ممکن ہوسکی۔ ظاہر ہے اس عرصے میں ملک مختلف مسائل میں الجھا ہوا تھا۔ حکومتیں غیر مستحکم تھیں' ملک پر فوجی آمریت کا قبضہ تھا اور ہم مہاجرین کی آباد کاری میں مصروف تھے۔ 2001ء اور پھر 2011ء میں چھٹی اور ساتویں مردم شماری کے عمل کی تکمیل لازمی تھی جو ملک کے حکمران بوجوہ ٹالتے رہے۔ پاکستان کا معاشی انفراسٹرکچر کم و بیش تباہی کے دھانے پرکھڑا ہے۔ ہر سال خسارے کا بجٹ ایک روایت بن چکا ہے۔ اس میں ٹیکسز کے حصول کے لئے جو اہداف مقرر کئے جاتے ہیں وہ کبھی پورے نہیں ہوئے۔ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی کاموں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے عجیب و غریب ناموں سے نئے نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں۔ سیلز ٹیکس کے نام کا ٹیکس قوم گزشتہ کئی سالوں سے برداشت کر رہی ہے جیسے کہ نام سے ظاہر ہے یہ ٹیکس تاجروں کے منافع پر لاگو ہونا چاہئے تھا جبکہ ایک عرصہ سے قوم کے کاندھوں پر لاد دیاگیا ہے۔ اب تو یہ ٹیکس ڈاکٹر صاحبان علی الاعلان مریضوں کو باقاعدہ رسید دے کر وصول کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ بجلی اور ٹیلی فون کے بلوں میں ویلیو ایڈیڈ کی مد میں صارفین کو ایک نئے ٹیکس کی کندچھری سے بھی ذبح کیا جاتا ہے۔ آپ بازار میں روز مرہ کی کوئی چیز بھی خریدیں آپ سے سیلز ٹیکس ضرور وصول کیا جاتا ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ سرکار کو اب تک فروخت ٹیکس کو خرید ٹیکس میں تبدیل کرنے کا خیال کیوں نہیں آیا۔ ہماری نشاندہی پر حکومت آئندہ بجٹ میں ضرور اس پر غور کرے گی۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس پر آئندہ کسی نشست میں تفصیل سے بات ہوگی۔ فی الوقت تو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ 15مارچ سے ملک میں جس چھٹی مردم شماری کا آغاز ہوا ہے قوم کو اس میں سرکاری عملے کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہئے۔ یہ ہمارے صوبے کے لئے اس لئے بھی اہم ہے کہ صوبے کی آبادی کے مطابق وفاق کے وسائل سے اپنا حصہ وصول کیا جاسکے۔ ہم نے تحریر کے آغاز میں شماریات کے محکمے کے کارندے کی جس پریشانی کاذکر کیا تھا ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کے بار بار کی گھنٹی بجانے پر بھی تین چار گھروں سے کوئی ذی روح برآمد نہیں ہوا اور ہمیں دل میں کہنا پڑا کیا قوم ہے ہماری بھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر عوام نے مردم شماری کے اس عمل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو مقررہ میعاد میں قومی مفاد کے اس اہم کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ممکن نہ ہوگا۔ بالیقین یہ ایک بہت بڑا قومی المیہ ثابت ہوسکتا ہے جبکہ ہم کو پہلے ہی سے بے شمار مصائب کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں