کہانی کیا سنائوں اپنے گھر کی

کہانی کیا سنائوں اپنے گھر کی

ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ''کتابیں فکر کی غذا ہیں '' یہ علم کے ساتھ تعلق کو قائم رکھتی ہیں ،اور خیالات کی دنیا کو جو ہڑ نہیں بننے دیتیں ، کتابیں فکر و نظر کے بہتے دریا میں تازہ لہریں اٹھاتی رہتی ہیں۔خیالات میں بننے اور بگڑنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ کتابیں نہ پڑھنے کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ لوگ رائے کی تبدیلی کو عیب سمجھتے ہیں ''۔ یہ تجزیہ حقیقت کے انتہائی قریب ہے خاص طور پر خیالات کی دنیا کو جوہڑ بننے سے روکنے کی جو بات کی گئی ہے اس سے اختلاف کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے ، اور اس حوالے سے جب ہم اپنے ارد گرد کے ماحول اور معروضی حالات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ایک طویل عرصہ سے ہمارے سماجی ڈھانچے میں فکری انتہا پسندی کے جو منفی اثرات سرایت کر چکے ہیں اور ہم عدم برداشت کے جس عمیق گڑھے میں گرتے چلے جارہے ہیں اس کی وجہ یا تو عمومی طور پر کتابوں سے دوری ہے یا پھر ایسی کتابوں میں بعض لوگ پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں جوا ن کی فکری یک رخی کو مزید توانائی بخش رہی ہیں ۔مجھے یاد ہے کہ جب ہماری طالبعلمی کا دور تھا تو نہ صرف درسی کتابوں میں ایسے مضامین شامل ہو ا کرتے تھے جن سے روشن خیالی میں اضافہ ہوتا تھا ۔ کلاسیکی ادبی تحریر یں نہ صرف ماضی سے رشتہ قائم رکھنے میں ممد ہوا کرتی تھیں بلکہ عالمی ادبی ،سماجی اور ثقافتی ، فکر و نظر سے طالبعلم کو روشناس کرانے کی بنیاد فراہم کرنے میں بھی یہ کتابیں بنیادی کردار اد کر تی تھیں ہر طرف آنہ لائبریریاں لوگوں کے ذوق مطالعہ کو تسکین بہم پہنچانے کیلئے صبح سے رات گئے تک کھلی ہوتی تھیں،مگر اب تو بقول یار طرحدار پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم 

کہانی کیا سنائوں اپنے گھر کی
تمہارے سامنے میلہ پڑا ہے
یہ سب کچھ یوں یاد آگیا ہے کہ گزشتہ روز پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد عابد نے پشاور یونیورسٹی کے ٹیچر ز کمیونٹی سنٹرمیں ایک تین روزہ کتب میلہ کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ کتب بینی کے کلچر کو عام کرنے کی ضرورت ہے ، انٹر نیٹ کے عروج کے اس دور میں کتاب میلے جیسی مثبت سرگرمی کا اہتمام لائق تحسین ہے ، اس سے بھی ایک روز پہلے ایک مقامی اخبار میں کتب بینی سے دوری اور پبلک لائبر یر یوں کے بند ہونے پر ایک رپورٹ بھی شائع ہوئی تھی ، جس میں پشاور کی بعض اہم لائبریر یوں کا تذکرہ تھا ، خصوصاً میونسپل کارپوریشن کی لائبریری ، برٹش کونسل لائبریری ، امریکن کلچر سنٹر ، اور بعض ایسی دکانیں جہاں سے ہر اچھی کتاب دستیاب ہو جایا کرتی تھی مگر بعد میں دکانیں بھی ختم کر دی گئیں۔کتابوں سے دوری کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔ میونسپل کارپوریشن کی لائبریری تو ابھی کچھ مدت پہلے تک کسی نہ کسی طور قائم رہی یعنی جب تک اس کی باگ ڈور ہمارے ایک کر مضرما شین شوکت کے ہاتھ میں تھی ، مگر ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس نہایت ہی اہم لائبریری کا انتظام و انصرام بعض نائب قاصدوں کے حوالے کیا گیا ،اور ویسے ہی اہم ترین ، اور قدیم نسخوں کی حامل اس لائبریری کو ایک جگہ سے دوسری اور پھر کہیں اور بار بار منتقل کرنے سے اس کا بیڑہ غرق کیا جا چکا ہے ۔ اس اہم ادارے کو ہماری شہری سیاست پر چھائے ہوئے ''جہلا '' نے تباہ وبر باد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔ اب کا کیا حال ہے ، خداجانے ، اگرچہ میں نے اپنے کئی کالموں میں گزارش کی تھی کہ اگر ٹائون انتظامیہ اس کو نہیں چلا سکتی تو اسے کسی یونیورسٹی کے حوالے کر دے تاکہ اس قیمتی ذخیرے سے طلباء استفادہ کر سکیں ۔ وگر نہ ان کتابوں کو دیمک چاٹ جائے گی ۔ برٹش کونسل اور امریکن کلچر سنٹر پشاور صدر میں قائم تھے ، جہاں دوسری دلچسپیوں کے ساتھ ساتھ لائبریریاں بھی موجود تھیں، ان لائبریریوں میں پشاور یونیورسٹی کے میڈیکل ، انجینئر نگ ،جیالوجی ، آرکیا لوجی اور قانون کے طالبعلموں کے کورسز کی مہنگی کتابیں دستیاب ہوتی تھیں اور غریب طلباء تین تین مہینے کیلئے یہ کتابیں جاری کروا کر امتحانات کی تیاری کرتے مگر ہمارا قومی رویہ بہت عجیب ہے کہ جب بھی ملک میں کسی سیاسی مسئلے پر احتجاج کیا جاتا تو عوام اپنا سارا غصہ ان لائبریریوں کی عمارتوں پر پتھرائو (بلکہ بعض اوقات لوٹ مار کر کے ) نکالتے۔ کئی برس تک امریکی او ربرطانوی اداروں کے حکام یہ سب کچھ برداشت کرتے رہے مگر تا بکے ؟ ان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا اور پشاور میں یہ ادارے بند کر کے اسلام آباد منتقل کر دیئے گئے ۔ رہ گئیں وہ آنہ لائبر یریاں تو وی سی آر آنے کے بعد انڈین فلموں کی مانگ اس قدر بڑھ گئی کہ ان لائبر یریوں کی کتابوں کے شیلف رفتہ رفتہ کتابوں سے خالی اور بھارتی فلموں کی کیسٹوں سے بھرنے لگے اور پھر کتابیں بالکل ہی عدم پتہ ہوگئیں ۔ ایک اور بد قسمتی یہ ہوئی کہ کتابوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں ، ہمارے مقابلے میں انڈیا میں ادبی اور درسی کتب کیلئے سرکاری سطح پر انتہائی سستا کاغذ دستیاب ہونے کی وجہ سے کتابیں نہایت سستے داموں ملتی ہیں اور مصنفین کو ناشر وں کی جانب سے رائیلٹی بھی معقول انداز میں دی جاتی ہے۔ اس لئے وہاں کتاب ہر ہاتھ میں نظر آتی ہے جبکہ یہاں پہلے کتاب بمشکل پانچ سو یا ایک ہزار کی تعداد میں چھپتی ہے ، اور مہنگی ہونے کی وجہ سے دکانوں میں پڑے پڑے بالآ خر فٹ پاتھ یا کباڑی کی دکان پر آجاتی ہے تو کتب بینی کا شوق کہاں سے آئے ۔

متعلقہ خبریں