اونٹ کس کر وٹ بیٹھے گا

اونٹ کس کر وٹ بیٹھے گا

معاہدات ہو ں ، مذاکرات ہو ں یا کوئی بھی عمل ہو اس کانیت کے اخلا ص سے ہی تعلق ہوتاہے۔طالبان کے ساتھ جتنے بھی مذا کر ا ت ہوئے اس میں نیت کا ہی عمل دخل رہا چنا نچہ یہ بات چیت کسی انجا م کو نہیں پہنچی کیو ں کہ اس میں جن مقاصد کو بنیا د بنا کر مذاکر ات کا ڈول ڈالا گیا تھا اس کے لیے اخلا ص تھاہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کو جھا نسا دینا ہی مقصود تھا ۔ بعض حلقے ا س وقت حیر ت زدہ ہو ئے تھے جب اشرف غنی کی حکو مت اور حزب اسلامی کے درمیا ن مذاکر ات کی کا میا بی کا اعلا ن کیا گیا تھا ، اور یہ نو ید سنا ئی گئی تھی کہ حکمت یا ر اس معاہد ے کے تحت جلد روپو شی کی زندگی ترک کر کے منظر عام پر آجائیں گے ، چنا نچہ افغانستان کے حالا ت پر نظر رکھنے والے تما م حلقے اس بات کے منتظر رہے کہ کب وہ منظر عام پر آئیں گے اور معاہد ے پر کب عمل شروع ہو گا۔ معاہدے میں دیگر با تو ں کے علاوہ یہ بھی شامل تھا کہ حکمت یا ر کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا ئے گا ، اور ان کی فراہم کر دہ فہر ست کے مطا بق حزب کے قیدیوں کو غیر مشروط رہا کر دیا جا ئے گا ،لیکن ابھی تک ان پر عمل درآمد لٹکا ہو ا ہے ۔ جہاں تک تحفظ کی بات ہے تو اشرف غنی حکومت کی طرف سے پیش کش ہے کہ حکمت یا ر کے تحفظ کے لیے فو ج اور پو لیس کے دستے تعینا ت کر دئیے جا ئیں گے جو حکمت یا ر کو قبول نہیں ہیں کیو ں کہ وہ خود کو اس طر ح غیر محفوظ جانتے ہیں ۔ اس بارے میں حزب اسلا می کے تحفظات ہیں۔ بات بھی درست ہے کہ اشرف غنی کی حکومت اور حزب اسلامی کے نظریا ت میں بہت بعد پا یا جا سکتا ہے چنانچہ کل کلا ں ان کے اور حکومت کے درمیا ن ما ضی جیسے اختلا ف پید ا ہو جائیں تو حکومتی فوج اور پو لیس دستو ں کے نر غے میں خود کو کیسے محفو ظ کر پا ئیں گے۔ علا وہ ازیں اس امر کا بھی امکا ن ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جن دستو ں کو متعین کیا جا ئے گا وہ حکمت یا ر کی سرگرمیوں پر حکومت کی ہد ایت کے مطابق نظر رکھیں گے۔ حکومت اور حز ب اسلا می کے درمیا ن معاہد ہ طے پائے چھ ما ہ ہوگئے ہیں ، اور ہنو ز کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی ہے ، حزب اسلا می کے ساتھ جو معاہد ہ ہو ا تھا اس کے مطا بق تحریراًیہ طے پایا تھا کہ حکمت یا ر کی حفاظت کی ذمہ داری حزب اسلا می کے کمانڈوز انجام دیں گے ، تاہم وہ حکومت کا لائسنس یا فتہ اسلحہ استعمال کر یں گے ، چنا نچہ جب حکومت سے لا ئسنس کے اجر ا کاکہا گیا تو حکومت نے خامو شی اختیا ر کر لی ہے ، اس سلسلے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ حفاظت کے لیے اپنے لو گو ں کو تربیت دے چنانچہ حزب کی جا نب سے اپنے ایسے افرا دکو تربیت دی جو حکومت کو کسی بھی جر م میں مطلو ب نہیں ہیں ۔ چنا نچہ حکومت کی جانب سے سرد مہری کی بنا ء پر حکمت یا ر نے کا بل میں جلو ہ افر وز ہو نے کا فیصلہ ملتو ی کر دیا ہے اور فوری طورپر کوئی ردعمل ظاہر کرنے کی بجائے حکومت کے جو اب کاا نتظار ہو رہا ہے ، اس کے علاوہ معاہد ے کی بعض شقو ں پر بھی عمل درآمد کے بارے میں حز ب کو شکا یا ت ہیں جس کی وجہ سے اندازہ ہو رہا ہے کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ پائے گی۔علا وہ ازیں معاہدے کی ایک اہم شق میں فریقین کے قیدیو ں کی رہائی کی شرط بھی شامل ہے۔ حز ب اسلا می نے اب تک اڑھا ئی ہزار افراد کی رہائی کی فہر ست حکومت کو دی ہے جبکہ یہ طے پایا تھا کہ ابتدائی طو رپر تقریبا ًساڑھے چار سو سیا سی قید یو ں کو رہا کر دیا جا ئے تاکہ حزب اسلامی کے امو ر چلا نے کا آغاز ہوسکے اور جوں ہی حزب اسلا می کے قیدی رہا کیے جا ئیں گے ساتھ ہی سرکا ری اہلکا ر و ں کو بھی رہا کر دیا جا ئے گا۔ جہاں تک حزب اسلا می کا تعلق ہے وہ اب بھی افغانستان کی ایک اہم سیا سی اور عسکر ی قوت ہے ،جب معاہد ہ طے پا یا تھا تو یہ ایک اہم قدم قر ارپایا تھا اور پا یا جا نا بھی چاہیے تھا ، کیو ں کہ طالبان کی طر ح حزب اسلا می کا بھی یہ سخت گیر موقف رہا ہے کہ افغانستان سے پہلے غیر ملکی فو جو ں کا انخلا ء ہو تووہ مذاکر ات کے لیے تیا رہو ں گے مگر اس مو قف کو پس پشت ڈال کر حکمت یا ر نے اشرف غنی انتظامیہ سے مذاکر ات کیے تو اس کو حزب کی جانب سے ایک بڑی لچک قر ار دیا گیا ۔

اگر معاہد ہ کا جا ئز ہ لیا جائے تو یہ افغانستان کے مفاد میں ایک بہترین معاہد ہ قرار پا تا ہے ، اگر یہ ٹو ٹ جا تا ہے تو یہ افغان حکو مت کی بد قسمتی ہو گی ، اس معاہد ے پر عمل درآمد نہ ہو نے کے بارے میںیہ ہی کہا جا رہا ہے کہ حکومتی حلقو ں میں ایسے عنا صر ہیں جو حزب کو قریب آنے میںروک لگا رہے ہیں ، اگر حزب اسلامی کے ساتھ معاہدہ کا میاب ہو جا تا ہے تو افغانستان پر سے غیر ملکی فوج کا تسلط بھی کمزور پڑے گا اور حکومت کی حیثیت بھی مضبو ط ہو سکے گی۔ علا وہ ازیں افغانستان میں ایک او ر شدید خطرہ منڈلا رہا ہے جو طالبان سے بھی زیا دہ مہلک ہے اور وہ داعش کا خطرہ ہے۔ جس کے بارے میں یہ تو یقینی ہے کہ ان کو افغانستان میں بیر ونی قوتو ں نے طالبان کا زور توڑنے کی غر ض سے درآمد کیا ، اب وہ کا فی حد تک افغانستان میں جڑ پکڑ چکے ہیں ، اور مزید پھیلتے جارہے ہیں ۔ ایسا محسو س کیا جا رہا ہے کہ داعش کو نہ صرف افغانستان میں طالبان کے خلا ف استعمال کرنے کی منصوبہ بندی ہے بلکہ افغانستان کے آس پڑوس میں بھی ا ن کا پھیلاؤ مقصود ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ علا قائی اقتصادی کو نسل ، اور دیگر سیا سی عوامل کی وجہ سے ون ورلڈ آرڈر کی مٹی پلید ہو تی نظر آرہی ہے ، مفاد کی اس جنگ میں افغانستان کو ما ضی کی طر ح قربانی کا بکر ا بنا یا جا رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں