مشرقیات

مشرقیات

مولانا شمس الدین محمد رومی قریہ روج کے رہنے والے تھے ، جو ہرات سے 9فرلانگ پر واقع ہے ۔ مولانا کا شغری کے بڑے مریدوں میں ہیں اور مولانا جامی کی اولاد میں ہیں ۔ آپ نے فرمایا مجھے ہمیشہ یہ آرزو تھی کہ خواب میں آنحضر ت ۖ کو کی زیارت کروں۔ ایک دن اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ انہوں نے ایک کتاب میرے سامنے رکھ دی اور پڑھنے لگیں کہ جوشخص اس دعا کو شب جمعہ کو چند بار پڑھے پیغمبر ۖ کو خواب میں دیکھے گا ۔ حسن اتفاق سے آنے والی رات جمعرات تھی ۔ والدہ سے اجازت حاصل کر کے میں اپنے اعتکاف خانہ میں گیا اور شرائط کے ساتھ دعا پڑھنے میں مشغول ہوگیا اور میں نے سنا تھا کہ جو شب جمعہ کو تین ہزار مرتبہ درود شریف پڑھے گا تو رات کو آنحضرت ۖ کو خواب میں دیکھے گا ۔ یہ عمل بھی میں نے کیا اور سوگیا ۔ خواب میں دیکھا کہ میں گھر سے باہر ہوں اور والد ہ میرے انتظار میں کھڑی ہیں اور فرما رہی ہیں کہ میں تمہارے انتظار میں ہوں ، آپ ۖ کی سواری گھر میں آئی ہے ، آئو تم کو خدمت میں لے جائو ں ۔ میرا ہاتھ پکڑ کر آپ ۖ کی خدمت میں لے گئیں ۔ میں نے دیکھا کہ آپ کے چاروں طرف ایک مجمع بیٹھا ہوا ہے ۔ گویا آپ ۖ کچھ لکھوا رہے ہیں اور لوگ لکھ کر اطراف عالم میں بھیج رہے ہیں ۔ مولانا اشرف الدین عثمان زیار نگاہی جو علماء ربانی میں ہیں ، وہ لکھتے جاتے ہیں ۔ میری والدہ نے آنحضرت ۖ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ وہ لڑکا جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا کہ دراز عمر اور دولت مند ہوگا ، یہ وہی لڑکا ہے ۔ آنحضرت ۖ نے میری طرف دیکھا ، مسکرائے اور فرمایا وہی لڑکا ہے ۔
جب ایک مرتبہ میری والد ہ کا ایک خوبصورت لڑکا فوت ہوگیا تھا اور اس کی وجہ سے بہت مغموم تھیں ۔ رات کو انحضرت ۖ کو خواب میں دیکھا ، آپ نے فرمایا : رنجید ہ نہ ہو ، خداتعالیٰ تجھ کو دراز عمر اور دولت مند لڑکا عطا فرمائے گا ۔ چنانچہ آنحضرت ۖ کے فرمان کے بمو جب میں پیدا ہوا ۔ آنحضرت ۖ نے مولانا عثمان سے فرمایا کہ ایک مکتوب اس لڑکے کے لیے لکھو۔ مولانا نے ایک کاغذ لکھا ، جس پر تین سطریں تھیں ۔ ان سطور کے نیچے تمسک کی طرح سے گواہی کی جگہ جدا جدا کچھ تحریر کیا اور لپیٹ کر مجھے عنایت فرما دیا ۔ میں واپس آگیا اور دل میں سوچتا تھا کہ اس مکتوب میں جو کچھ مضمون ہے اس کا مجھے علم نہیں ہے ۔ واپس آیا اور آپ ۖ سے دریافت کیا کہ اس کاغذ میں کیا تحریر ہے ۔ آپ ۖ نے میرے ہاتھ سے کاغذ لے کر پڑھ کر سنادیا ۔مجھے وہ سطور یاد ہوگئیں ، پھر لپیٹ کر مجھے دے دیا ۔ میںنے کچھ دریافت کرنے کا ارادہ کیا ۔ ناگاہ آواز سنی ، خواب سے بیدار ہوگیا ،دیکھا کہ والدہ آرہی ہیں ۔ ہاتھ میں شمع ہے ۔ میں کھڑا ہوگیا ۔ مجھ سے دریافت کیا کہ اے محمد تم نے خواب میں کچھ دیکھا ؟ میں نے تمام واقعہ سنا دیا ، جو کچھ میں نے دیکھا تھا ۔ والدہ نے بھی مجھے اپنا خواب سنا دیا ۔
(بحوالہ :امت کے عظیم اولیا)

متعلقہ خبریں