احتساب…مگرسب کا

احتساب…مگرسب کا

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پاناما کیس فیصلے پر نظر ثانی سے متعلق تمام درخواستیں مسترد ہونے سے پہلے ہی قانونی ماہرین مختلف ٹی وی چینلز پر اسی صورتحال کی پیشگوئیاں پہلے ہی کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ نظر ثانی کی د رخواستوں کے حوالے سے ماضی میں بھی عدالت عظمیٰ عموماً اسی نوع کے فیصلے کرتی رہی ہے کیونکہ محولہ فیصلہ پہلے ہی تمام پانچ ججوں نے متفقہ طور پر دیا تھا اور اپنے فیصلوں سے رجوع کی مثالیں آٹے میں نمک کے برابر بھی نظر نہیں آتیں۔ اس لئے تاثر یہی تھا کہ اس فیصلے کا آخری نتیجہ بھی بمشکل ہی مختلف ہوگا۔ یوں فاضل عدالت نے فیصلے کے خلاف مدعیوں کے وکیلوں کے دلائل سننے کے بعد اپنے فیصلے کو برقرار رکھا ہے اور مختصر فیصلہ سناتے ہوئے اپیلیں مسترد کرکے سابق وزیر اعظم کی نا اہلی برقرار رکھی ہے جبکہ وجوہات بعد میں بتانے کا بھی عندیہ دیا ہے یعنی تفصیلی فیصلے میں وجوہات سامنے آجائیں گی۔ مسلم لیگ(ن) نے نظر ثانی کی اپیل مسترد ہونے پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نتائج کا اندازہ ہونے کے باوجود نظر ثانی اپیل میں گئے' لیگ(ن) کے رہنمائوں نے اپنے اپنے تاثرات میں کہا ہے کہ ملک میں انتشار اور مایوسی نہیں پھیلنے دیں گے۔ انصاف تک قربانیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو ہماری قیادت گاڈ فادر ہے نہ ہی ہمارا مافیا سے کوئی تعلق ہے اس لئے عدالتی ریمارکس اور ہرزہ سرائی جیسے الفاظ مسترد کرتے ہیں۔ اس قسم کے الفاظ آئیں گے تو مہذب انداز میں جواب دیا جائے گا۔ معزز جج صاحبان کا وقار اور احترام سر آنکھوں پر لیکن منتخب حکومتوں اور پارلیمنٹ کا وقار بھی سب پر لازم ہے۔ بغیر ثبوت اور دلیل کے اس طرح کے الفاظ استعمال کئے جائیں تو اس طرح کے غیر پارلیمانی الفاظ کو تسلیم کیا جائے گا نہ قبول۔ لیگ(ن) کے رہنمائوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اب فیصلہ عوام کی عدالت کرے گی۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ توقع تھی کہ پاناما کیس میں نواز شریف کی نظر ثانی کی اپیلیں مسترد ہی ہوں گی تاہم کچھ فیصلے تاریخ پر چھوڑنے چاہئیں جبکہ ایسے فیصلے دنیا میں نظیر کے طور پر استعمال نہیں ہوتے جبکہ ہماری دانست میں مولانا صاحب نے بالکل درست بات کی ہے کیونکہ پاکستان میں بعض اہم فیصلوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس قسم کے اکثر فیصلوں کو خود قانونی حلقوں نے بھی تسلیم کیا ہے نہ ہی انہیں عدل و انصاف کے عمومی معیار پر پورا اترتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے ہم ایسے فیصلوں کی فہرست شامل کرکے تضیع اوقات کے مرتکب ہونا نہیں چاہتے کہ پورا ملک تو کیا دنیا ان کے بارے میں جانتی ہے اور بعض فیصلوں کا اگر کسی کیس میں بطور ریفرنس تذکرہ کیاجائے تو خود فاضل عدالت ہی ایسے فیصلوں کا ذکر سننے کو تیار نہیں ہوتی۔ اس لئے بقول مولانا فضل الرحمن اب دیکھتے ہیں کہ آنے والے ادوار میں موجودہ عدالتی فیصلے کو عوامی سطح پر پذیرائی کی سند عطا ہوتی ہے یانہیں۔ اور شاید اس حوالے سے عوامی سطح پر اس فیصلے پر عرصے تک موافق اور مخالف تبصرے بھی ہوتے رہیں گے۔ البتہ لیگ (ن) کے رہنمائوں نے جو کہا ہے کہ وہ اب عوام کی عدالت میں جائیں گے تو اس کے لئے شاید مزید انتظار نہ کرنا پڑے کہ اس تحریر کے شائع ہونے کے روز ہی لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ہونے والے انتخابی عمل سے عوام کے رجحان کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہو ہی جائے گا اور محولہ حلقے میں منعقد ہونے والے انتخابی معرکے کے نتائج بتا سکیں گے کہ عوام کیا چاہتے ہیں۔ نظر بہ ظاہر تو بعض تجزیہ نگار اپنے تبصروں میں یہی بتا رہے ہیں کہ پلڑہ کس طرف کا بھاری ہوگا تاہم ایک بات پر توجہ دینا لازمی ہوگا کہ لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتی ہے پہلے سے کم مارجن سے اسے جیتنا نصیب ہوتا ہے یا پھر ہار اس کا مقدر ٹھہرتی ہے اور ان تینوں صورتوں میں آنے والے عام یعنی 2018ء کے انتخابات میں عوامی سوچ کی عکاسی ہوسکے گی جس پر فی الحال تبصرہ کرنے سے احتراز ہی بہتر ہے۔ بہر حال فاضل عدالت کے گزشتہ روز کے فیصلے کے بعد عوامی سطح پر ایک سوال ضرور ابھر کر سامنے آرہا ہے کہ پاناما لیکس میں صرف شریف فیملی ہی کا تذکرہ نہیں تھا بلکہ دیگر سینکڑوں افراد کا نام بھی شامل ہے۔ مگر اب تک احتساب صرف ایک شخص اور اس کے خاندان کا ہی ہوا ہے اور دیگر کے خلاف کسی بھی قسم کا اقدام نہ ہونے سے یہ تاثر اب پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ بقول لیگ (ن) کے حلقوں کے اس یکطرفہ احتساب کا مقصد صرف نواز شریف ہی کو اقتدار سے محروم کرنا تھا اور لیگی حلقے اسی لئے اسے سازش سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اب بھی زور و شور سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ باقی لوگوں کا بھی اسی طرح احتساب کیا جائے جو ہمارے خیال میں بالکل درست موقف ہے اوراگر پاناما لیکس میں شامل مزید افراد کے خلاف احتساب کا شکنجہ کسا نہیں جاتا تو یہ بھی عدل و انصاف کی نفی ہوگی۔

متعلقہ خبریں