این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے؟

این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے؟

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کے سلسلے میں دیگر صوبوں کو دی جانے والی دعوت پر19ستمبر کو اسلام آباد میں اجلاس کے انعقاد پر اتفاق رائے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ نے کہا کہ مرکز سے اپنا حق حاصل کرنے کے لئے تمام صوبوں کو اتفاق رائے پیدا کرنے پر آمادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت مرکز اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ 80فیصد جبکہ مرکز کا حصہ 20فیصد رکھے اور قبائلی علاقوں کے لئے مرکز اپنے ہی حصے سے تین فیصد ادا کرے جبکہ 9 ویں قومی مالیاتی ایوارڈ کی تشکیل کو یقینی بنانے کے لئے جلد از جلد اجلاس بلایا جائے اور اس سلسلے میں مزید لیت و لعل کی پالیسی اختیار کرکے آئین شکنی سے احتراز کرے۔ جہاں تک صوبائی حکومت کے موقف کا تعلق ہے اس کی جانب سے وفاقی حکومت پر اس ضمن میں لیت و لعل کی پالیسی اختیار کرنے اور تاخیری حربوں کے استعمال کے الزامات بالکل درست ہیں۔ جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے وہ این ایف سی ایواڈ کے حوالے سے اجلاس بلانے میں تاخیری حربے استعمال کرتی آرہی ہے۔ پہلے اس ضمن میں مردم شماری کے نہ ہونے کی بات کی جاتی تھی جبکہ اب دقت تمام (سپریم کورٹ کے سخت احکامات کے بعد) ملک میں مردم شماری کا عمل بہ امر مجبوری پایہ تکمیل تک پہنچا دیاگیا ہے۔ اگرچہ نتائج پر بعض سیاسی جماعتوں کے تحفظات بھی سامنے آچکے ہیں اور جس کے نتیجے میں صوبوں کی آبادی میں رد و بدل بھی ہوچکا ہے۔ اس لئے اب این ایف سی ایوارڈ کے اجلا س بلانے میں مزید تاخیر سے چھوٹے صوبوں میں تحفظات کا ابھرنا قدرتی بات ہے اور خاص طور پر جبکہ ملک میں عام انتخابات کے لئے تمام جماعتیں سرگرم ہوچکی ہیں۔ ایسے میں صوبوں کو قابل تقسیم پول سے ان کے حصے کے محاصل کی ادائیگی لازمی ہے۔ مگر وفاق اس حوالے سے تادم تحریر ٹس سے مس نہیں ہو رہا ہے۔ اس لئے صوبہ خیبر پختونخوا نے دیگر صوبوں کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے جس اجلاس کی بناء رکھی ہے اور باقی صوبوں نے اس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردی ہے تو امید ہے کہ مجوزہ اجلاس میں اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنے میں آسانی ہوگی۔ تاہم اصل مسئلہ وفاق کو این ایف سی ایوارڈ کے لئے اجلاس بلانے پر آمادہ کرنا ہے جس کی امید کم کم ہی دکھائی دے رہی ہے۔
کرکٹ کی جیت
آزادی کپ کے فائنل ٹی 20 میچ میں پاکستان نے اگرچہ دنیا کی سات بڑی ٹیموں کے کھلاڑیوں پر مشتمل ورلڈ الیون کو 33رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز جیت لی ہے تاہم اسے عوامی سطح پر صرف اور صرف کرکٹ کی جیت سے تعبیر کرنے کی سوچ کو انتہائی مثبت قرار دیا جاسکتاہے کہ کھیل میں جیت یا ہار کے کوئی معنی نہیں ہوتے اور بطور خاص پاکستان میں ایک طویل عرصے بعد عالمی سطح کے نامور اور بڑے کھلاڑیوں نے سیریز میں شرکت کرکے جہاں پاکستان خصوصاً پاکستانی سیکورٹی اداروں پر اعتماد اور ان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرکے دنیا کو ایک مثبت پیغام دیا ہے وہاں اس تین میچوں کی سیریز سے پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے کھولنے میں اہم کردار بھی ادا کیا ہے۔ اسی لئے اس سیریز میں ہار یا جیت کو کسی ٹیم کے سر باندھنے سے زیادہ اسے کرکٹ کی جیت سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ پاکستان اور کرکٹ کا رشتہ بہت گہراہے۔ اس سیریز کے انعقاد سے عالمی سطح پر جہاں دنیا بھر میں ایک مثبت پیغام گیا ہے وہاں پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے اور دہشت گردی کراکے پاکستان پر کرکٹ کے دروازے بندکرنے والوں کو بھی پاکستانی سیکورٹی اداروں کی جانب سے ایک مسکت پیغام دے دیاگیا ہے۔ اتنی کامیاب سیریز کے انعقاد پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کی مساعی یقینا قابل صد ستائش ہے جن کی مسلسل کوششوں سے ملک کے میدان ایک بار پھر کرکٹ کے کھیل اور تماشائیوں کی پذیرائی بھرے جذبات سے سج گئے ہیں اور جس کے نتیجے میں اب دنیا کی مزید نامور ٹیموں نے پاکستان آنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ اب آنے والے دنوں میں میچوں کا انعقاد صرف قذافی سٹیڈیم لاہور تک ہی محدود نہ رکھا جائے بلکہ کراچی' کو ئٹہ' ملتان' فیصل آباد' راولپنڈی اور پشاور کو بھی میچوں میں شامل کیا جائے اور ان شہروں میں جو گرائونڈز موجود ہیں ان کی تزئین و آرائش پر بھرپور توجہ دے کر یہاں سیکورٹی کے اعلیٰ انتظامات کے ذریعے پہلے قدم کے طور پر کم از کم پاکستان سپر لیگ کے میچوں سے ابتداء کی جائے تاکہ غیر ملکی ٹیموں کو بھی ان شہروں میں آنے پر کوئی اعتراض نہ رہے اور ان شہروں کے باشندوں کو بھی عالمی کرکٹ سے استفادہ کے مواقع ملیں۔

متعلقہ خبریں