پاکستان کو کیاخطرہ

پاکستان کو کیاخطرہ

بھارت نے روہنگیا مسلما نو ں کی واپسی کے لیے برما پر دبا ؤ ڈالا ہے کہ بنگلہ دیش روہنگیا مسلما نو ں کی ہجر ت کی بنا ء پر مشکلا ت کا شکا ر ہو رہا ہے اس لیے روہنگیا مسلما نو ں کی واپسی کا بندو بست ہوناچاہیے ۔ اس وقت تین ممالک ایسے ہیں جو بر ما پر روہنگیا مسلما نو ں کے لیے کر دار ادا کر نے کی صلا حیت رکھتے ہیں ان میں ایک بھارت ، دوسر ا چین اور تیسرا رو س ہے۔ یہ تینوں ملک برما کی سب سے زیا دہ مد د کر نے والے ممالک میں سے ہیں۔ ان کا اثر رسوخ بھی خاصا ہے اور تعلقات بھی تذیرواتی ہیں۔ جس وقت روہنگیا مسلمانو ں پر جبر و شدائد کے پہاڑ توڑے گئے اس لمحہ بھا رت کے وزیراعظم بر ما کے دور ے پر تھے اور انہوںنے بر ما حکو مت کے اقدام کی حما یت کی تھی۔ صرف عالمی سطح پر امریکا واحد ملک ہے جس نے روہنگیا مسلما نو ں کے حق میں آواز بلند کر تے ہو ئے سلامتی کو نسل میں قرا ر داد داخل کی مگر چین نے اس کی مخالفت کر دی کیو ںکہ اس کو سلامتی کو نسل میںویٹو کی مجال ہے ، مگر یہا ں امریکا کا کر دار کوئی مخلصانہ نہ تھا بلکہ لو مڑ ی چال تھی کیوںکہ وہ امریکا مسلما نو ں کا کوئی ہمد رد نہیں ہے بلکہ اس نے تو ساری دنیا کے مسلما نو ں کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے میں ا س کی جانب سے مسلمانو ں کے حق میں قرار د اد کاآنا اچنبھے کی بات ہے ۔ امریکی قرا ر داد کا مقصد مسلما ن کو بے وقوف بنانے کی حرکت تھی کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ چین اور روس بر ما حکومت کی تائید کر تے ہیں اور وہ سلامتی کونسل میں قر ار داد کی مخالفت کریں گے جس سے دنیا کے مسلما نو ں کے دلو ں میں ان کے بار ے میں منافرت پھیلے گی اور مسلما ن غلط فہمی کا شکا ر ہو جائیں گے ۔ چین برما کا اس لیے ساتھی ہے کہ جس طر ح پاکستان اس کے لیے ایک اہم ملک ہے اسی طر ح برما بھی اہمیت کا حامل ہے۔ برما کی سرحد چین سے ملتی ہے اور چین کے لیے بر ما جنو بی ہند کے سمند ر ی ساحل کا اہم ملک ہے چنانچہ چین کا پاکستان کے سی پیک منصوبے کی طر ح برما کے ساتھ ایک ایسی ہی شاہر اہ کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی برما کے ساحل تک چین سے ایک ریلو ے لا ئن ڈالنے کے پر اجیکٹ پر بھی سوچ وبچار ہو رہا ہے جبکہ اس شاہر اہ کے ساتھ گیس پائپ لائن بھی ڈالی جا ئے گی۔ یہ تما م منصوبے برما کے اس علا قے سے گزرتے ہیںجو رخائن صوبے کا حصہ ہے اور یہ صوبہ روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت کا علاقہ ہے ۔چنا نچہ چین چاہتا ہے کہ اس صوبے سے تمام خد شا ت کو نکا ل دیا جائے او ربرما کی چینی آبا دی کی اکثریت ان مسلما نو ں میںکر دی جا ئے چنانچہ انہی مفا دات کی غر ض سے بر ما کی انتہا پسند بد ھ مت تحر یک اور برمی حکومت کی حمایت کر رہا ہے ۔چین کو اگر برما کے ذریعے جنو بی بحرہند تک رسائی مل گئی تو وہ ایشیا کے سمندر کے درمیانی علا قے میں پہنچ کر عر ب دنیا اور آسڑیلیا ، فلپائن وغیر ہ کے قریب تر ہو جا ئے گا۔ علا وہ ازیں انڈونیشیا ، ملیشیا ، سنگا پور بھی پڑو س میں ہیں جبکہ بنگلہ دیش اور بھارت کے سمندروں تک رسائی کا فاصلہ بھی کم ہو کر رہ جائے گا ۔ بنگلہ دیش تک رسائی کے لیے وہ بھو ٹان سے بھی ایک ریلو ے لا ئن اور سڑک نکالنے کے منصوبے پر کا م کررہا ہے۔ اسی منصوبے کی وجہ سے چین کی فوجیں ڈوکلام کے علا قے میں داخل ہوئیں جو اباً بھارت نے بھی مقابلے میں فوجیں لاکھڑی کیں جس کی وجہ سے دونوں ملکو ں کے درمیان ہولنا ک جنگ کا سماں پید ا ہو گیا تھا کہ یکا یک بھارت دستبردار ہو کر ڈو کلا م سے انخلا ء کرگیا ۔ بھارت نے بلا وجہ یہ علا قہ خالی نہیں کیا ہے اس کے پیچھے کوئی تدبیر کا ر فرما ہے ۔ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار نے ایک ٹی وی انٹر ویو میں فرمایا ہے کہ پاکستان کو شدید خطرات کا سامنا ہے اور اس راز کو پاکستان میں پانچ افر اد ہی جانتے ہیں ایک وہ خو د ہیں' دوسرے سابق وزیر اعظم میا ں نو از شریف ہیں باقی تین مقتدرہ قوتو ں میں سے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ چو دھری نثار نے کیسے نوازشریف کا نا م لے دیا یہا ں تو سب ہی کچھ مقتدرہ قوتیں ہیں۔ نو از شریف کا ان سے کیا علا قہ ہا ں البتہ چودھر ی نثار اپنے بارے میں تو دعویٰ کر سکتے ہیںکیو ں کہ وہ سویلین مقتدرہ قوت ما نے جاتے ہیں۔ ان کی کاوشو ں سے نئی تقرریا ں ہو تی رہتی ہیں پر ویزمشرف بھی ان ہی کا تحفہ تھا ۔تاہم یہ حقیقت ہے جس ملک میں سیا سی استحکا م متزلز ل ہو جائے تو وہ ملک غیر استحکا م کا شکار ہوجا تا ہے ، پاکستان 1970ء میں سیاسی عدم استحکا م کا شکا ر ہی تو ہو ا تھا ۔ مسلمانوں کے تما م زوال کے اسبا ب ان کے سیا سی استحکا م ہی ہیں۔ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر 2013ء کے انتخابات کے فوری بعد سے سیا سی عدم استحکام کا شکا ر کر نے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ بھارت کو کسی طو ر سی پیک منصوبہ قابل قبول نہیں ہے اسی بناء پر بھارت اپنے گردے چھل رہا ہے اور امریکا کے گردے سر خ کر رہا ہے ۔ ڈوکلا م کا علا قہ خالی اسی حکمت عملی کی آڑمیں کیا گیا ہے۔ برما پر روہنگیا مسلمانوں کی واپسی کے دباؤ کا بھی یہ ہی راز ہے ، تاکہ چین کو سکون سے بر ما میں راستہ مل جائے ۔یہ بات بھی یا د رکھنے کی ہے کہ جس ملک میں عدم سیا سی استحکا م ہو وہا ں مقامی سرمایہ کا ر بھی سرمایہ نہیں کیا کرتے۔ بیر ونی سرمایہ کا ری کا تو سوال پیدا نہیںہوتا۔ اس کا عملی ثبوت دھرنا تحریک سے بھی مل چکا ہے اور جب قانون بھی عدم استحکا م کا شکا ر ہو جا ئے تو انارکی استحکام پکڑ لیتی ہے۔ ان حالا ت واقعات کے مشاہدات کی روشنی میں چودھری نثار کا فرمایا درست لگتا ہے ۔ نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد سے چین کا سرد رویہ محسو س کیا جاسکتا ہے کیو ں کہ محسو س یہ ہی کیا جا رہا ہے کہ ملک سیاسی افراتفری کی جانب رخ کر گیا ہے۔ خا ص طور پر جی ٹی روڈ کی اسٹریٹ پا ور میںجھلک رہی ہے۔ لا ہو ر کے ضمنی الیکشن سے سیا سی قوت کا مطلع شفاف ہو جائے گا کہ نو از شریف خاندان کو سیا ست سے پر ے نہیں دھکیلا جاسکتا ہے۔ جہا ں ن لیگ کی کامیا بی کھلی نظر آرہی ہے۔ پاکستان کو کیا خطر ہ ہے اس بارے میں بائیس کروڑ پاکستانیوں میں سے اصل تو چودھری نثار ہی جانتے ہیں۔ (بقیہ صفحہ 7)

متعلقہ خبریں