مردم شماری پر تحفظا ت کیوں؟

مردم شماری پر تحفظا ت کیوں؟

پاکستان میں مردم شماری کا آغاز 1951 ء میں ہوا۔ 1951 ء میں پاکستان کی کل آبادی بشمول مشرقی پاکستان 75ملین تھی۔مغربی پاکستان کی آبادی 33.7ملین جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 42ملین تھی۔1961 ء کی مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 93ملین تھی۔بنگلہ دیش کے قیام کے بعد 1972 ء میں پاکستان کی آبادی فقط 65ملین تھی۔1961 ء میں 93ملین جبکہ 1998 ء میںکل آبادی 130ملین تک پہنچ چکی تھی۔19سال کے وقفے کے بعد 2017 ء میں ملک میں مردم شماری کرائی گئی۔ اس سے پہلے پانچویں اور آخری مرتبہ مردم شماری 1998 ء میں کی گئی تھی۔1998 ء میں ملک کی کل آبادی 130 ملین تھی۔ جو بڑھ کر 2017 ء میں تقریباً 20کروڑ 77لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔جس میں مردوں کی تعداد 10کروڑ 64لاکھ اور خواتین کی تعداد 10کروڑ 13لاکھ ظاہر کی گئی ہے۔19سالوں میں اضافہ سالانہ اوسط کے اعتبارسے 2.40فیصد رہا۔ملک کے سارے صوبوں میں آبادی میں اضافے کی شرح مختلف رہی۔ صوبہ خیبر پختونخوامیں 2.09فی صد ،قبائلی علاقوں میں2.91فی صد ،پنجاب میں 2.03فی صد،سندھ میں 2.41فی صد ،بلوچستان میں 3.37فی صد اور اسلام آباد میں اضافہ 4.91فی صد رہی۔2017 ء کی مردم شماری کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کی کل آبادی 3کروڑ52 لاکھ ہے۔2017 ء کی مردم شماری کے عبوری نتائج کے مطابق آبادی کے لحاظ سے 1 کروڑ 14 لاکھ آبادی والے شہر کراچی کو سب سے بڑا شہر قرار دیا گیا ۔اُس کے بعد لاہور 1کروڑ 11لاکھ کے ساتھ دوسرا،32لاکھ کی آبادی کے شہر فیصل آباد کو تیسرا،20لاکھ آبادی والے شہر راولپنڈی کو چوتھا جبکہ پشاور 19لاکھ 70ہزار کی آبادی کے ساتھ چھٹاشہررہا۔ اسلام آباد کی کل آبادی 10لاکھ 14ہزار اور کوئٹہ کی آبادی 10لاکھ بتائی گئی ہے۔آبادی میں کمی یا بیشی سے نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔نیشنل فنانس کمیشن میں صوبوں کو ملنے والی شیئرز میں کمی یا بیشی ہو سکتی ہے ۔نیشنل فنانس کمیشن پر ویسے بھی تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے ۔اُس کی میٹنگ نہیں بلائی جارہی ہے اور طے شدہ حصوں کی بنیاد پر صوبوں کے شیئر ز پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جارہا ہے۔آبادی میں کمی یا بڑھوتری سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔امسال ہونے والی مردم شماری کے عبوری نتائج کے مطابق 1998 ء میں ہونے والی مردم شماری کی نسبت کل آبادی کے حصوں میں تبدیلی دیکھنے میںآئی ہے۔2017 ء میںبلوچستان کا حصہ 4.96فی صد کی بجائے 5.94فی صد ہوگیا ہے۔خیبر پختونخوا کا حصہ 13.41فی صد سے بڑھ کر 14.67فی صد ہوگیا ۔اس بڑھوتری سے سارے صوبوں کے شیئرز میں کمی یا زیادتی ناگزیر ہوتی ہے۔کیونکہ وفاق میں صوبوں کے حصے میں اسی مناسبت سے تبدیلی کی وجہ سے سارے وفاقی محاصل میں تبدیلی ضروری ہوجاتی ہے۔وفاقی محکموں میں صوبوں کے شیئرز میں تبدیلی آتی ہے۔جس کا صوبوں کی معیشت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ایک عجیب بات ہے کہ پنجاب کا حصہ 55.95سے کم ہو کر 52.95رہ جائے گا۔لیکن پنجاب کی طرف سے مردم شماری پر کوئی اعتراضات نہیں اُٹھائے جارہے ہیں۔جبکہ سندھ کی جانب سے مردم شماری پر اُنگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں۔خاص طو ر پر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی والوں کی جانب سے واویلا کیا جارہا ہے کہ اُن کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے ۔ لیکن اُنہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے۔ کہ گزشتہ 20سالوں میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی حالت کی وجہ سے کئی لوگوں نے کراچی کو خیرباد کہہ دیا ہے۔کراچی روزگار کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ وہاںامن وامان تھا تو ملک کے اکثر حصوں سے لوگ کراچی کا رخ کرتے تھے۔لیکن جب امن وامان کی صورتحال بگڑ گئی تو دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے صوبوں کو واپسی شروع کی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق لاکھوں لوگ ایک صوبے سے دوسرے صوبے منتقل ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے کراچی کی آبادی پر اثر پڑا ہے۔ایک گاؤں کے سروے کے مطابق وہاںسے کراچی میں 100لوگ تھے ۔اور اب تقریباً 25افراد واپس آچکے ہیں۔اس سروے کے حساب سے ملک کے تمام بڑے شہروں سے لاکھوں کی تعداد میںا فراد اپنے اپنے علاقوں کو واپس آئے ہیں۔جس سے لامحالہ کراچی کی آبادی پر اثر پڑا ہے۔ مردم شماری کی شفافیت پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اعتراض کرنا درست نہیں ہے۔مردم شماری ایک نہایت ہی منظم انداز میں فوج کی نگرانی میں پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔مقامی اساتذہ اور مقامی عملے نے مردم شماری کو مکمل کیا ہے۔مردم شماری کو شک کی نگاہ سے دیکھنا حکومت پر اعتماد کی کمی کا نتیجہ ہے اور اعتماد میں کمی کئی سیاسی مسائل کو جنم دیتی ہے۔جو ملک کی سا لمیت کیلئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ہمیں اس بد اعتمادی کی فضا کو دور کرنا ہوگا۔تاکہ یہ بد اعتمادی کے بادل چھٹ جائیں اور وفاق کی رٹ قائم ہو۔صوبوں کے درمیان اعتماد اور مفاہمت ملک میں محاصل کی برابر تقسیم اور اُس پر اعتماد کیلئے ضروری ہے کہ حکومت کے ہر قدم کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے اُس کو قبول کیا جائے جس سے مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ جب تک صوبوں کا مرکز پر اور مرکزکا صوبوں پر اعتماد قائم نہیں ہوتا۔ اس قسم کے مسائل جنم لیتے رہیں گے ۔ہم آہنگی اور باہمی اتفاق و اتحاد سے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں