خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا نعرہ

خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا نعرہ

دنیا آج تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑی ہے ۔عالمی نظام کا عہد کہن اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے اور اس کی راکھ سے نئے عہد کا سورج طلوع ہورہا ہے ۔دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کی تقسیم کا عہد ختم ہوئے یوں تو ڈھائی عشرے گزر چکے ہیں ۔جب سوویت یونین کے خاتمے اور کئی ملکوں کی آزادی کے بعد دنیا کا منظر تبدیل ہو گیا تھا ۔سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان طاقت کا توازن ختم ہو گیا تھا اور امریکہ دنیا کی واحد سپر طاقت کے طور پر باقی رہ گیا تھا ۔ڈھائی عشرے بظاہر امریکہ کی تنہا عالمی طاقت کا زمانہ تھا مگر یہ عبوری دور ہی تھا کیونکہ کائنات کا نظام ہی توازن اور اعتدال پرقائم ہے اور توازن فطرت کا اصول ہے ۔ دنیا میں کوئی طاقت مطلق نہیں اور ہر طاقت کے اندر اس کی کمزوری کے جراثیم موجود رہتے ہیں۔اب دنیا میں طاقت کے کئی نئے پول اُبھر اور کئی نئے بلاک قائم ہو رہے ہیں ۔گویاکہ اب دنیا نہ تو یونی پولر رہے گی اور نہ ماضی کی طرح دوقطبی ہوجائے گی بلکہ دنیا کا نظام ملٹی پولر ہوگا یہ پول اقتصادی بھی ہوں گے اور دفاعی بھی ۔ پاکستان بھی اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے ۔ اس نے کس سمت ،کس رفتار اور کن دوستوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہے یہ سب کچھ طے ہونے کے لمحات آن پہنچے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر نے پاکستان کو بدترین حقارت کا احساس دلایا ۔طعنہ زنی ،کوسنے اور تنقید کے نشتروں نے پاکستان کے پالیسی سازوںکو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا ۔1971میں جب پاکستان دولخت ہوا تھا تو اس ذلت اور ضعف نے طاقت میں ڈھلنے کا فیصلہ کیا تھا تب پاکستان نے بطور ریاست ایٹمی طاقت بننے کا راستہ اختیار کیا تھا ۔ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر بھی پاکستان کے لئے اس سے کم تکلیف دہ لمحہ نہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ اسلام آباد میں پاکستانی سفیروں کی تین روزہ کانفرنس کے اختتام پر وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اعلان کیا کہ خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی جائے گی اور یہ کہ پاکستان اسی کے ساتھ آگے چلے گا جو ملک اس کی قربانیوں کا اعتراف کرے گا ۔پاکستانی قوم قربانی کا بکرا نہیں بنے گی جن ملکوں کے ساتھ تعلقات میں دراڑیں ہیں انہیں دور کریں گے ۔اس اعلان کے ساتھ ہی وہ امریکہ کی بجائے چین روانہ ہوگئے جہاں ان کا زبردست استقبال ہوا۔خواجہ آصف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر چینی حکام سے مشاورت کی ۔ اس کے بعد وہ دوسرے علاقائی ملکوں ایران اور ترکی بھی گئے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی شعلہ نوائی کی چھڑی لہرانے کے بعد امریکہ کی نائب وزیر خارجہ گاجر اور مرہم لئے پاکستان آنا چاہتی تھیں مگر پاکستان نے ان کی میزبانی سے معذرت کی کیونکہ جذبات کا آتش فشاں ابھی پوری طرح لاوہ اُگل رہا تھا ۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جا رہی تھی ۔ہم ابھی تک سردجنگ کے زمانے کی خارجہ پالیسی کو سینے سے لگائے پھر رہے تھے یہ جانے بوجھے بغیر کہ دنیا بدل گئی وقت اور حالات کے تقاضے تبدیل ہوگئے ۔ عالمی ضرورتیں اور سوچ کے زاویے تغیر پزیر ہیں۔اس سب کے باوجو دپاکستان کے پالیسی ساز ''زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد ''کے مصداق اپنے پرانے مقام سے ایک انچ سرکنے کو تیار نہ تھے ۔سرد جنگ ختم ہو نے کے بعد امریکہ نے جس طرح پاکستان سے نظریں پھیر لی تھیں اس نے پاکستان کو ایک عجیب مخمصے کا شکار بنا ڈالا تھا ۔امریکہ کو دوست سمجھے یا دشمن ،خنجر سمجھے یا مرہم ؟کچھ سمجھائی نہ دے رہا تھا ۔یہ حقیقت تھی کہ خطے میں امریکہ اور پاکستان کے مفادات کے گھوڑے متضاد اور مخالف سمتوں میں دوڑ رہے تھے ۔دونوں کے مفادات میں گہرا تضاد رونما ہو چکا تھا ۔اس کی بنیادی وجہ امریکہ کی بھارت اور افغانستان پالیسی تھی ۔چین پاکستان کا ہمہ موسمی دوست ضرور ہے مگر چین کو پاکستان کے مخمصوں کا انداز ہ تھا اس لئے وہ ایک حد سے زیادہ اس معاملے میں پاکستان پر اعتماد کرنے سے قاصر تھا ۔دنیا میں بھارت کا جھوٹ ہاتھوں ہاتھ بک رہا تھا اور پاکستان کا سچ مفت میں بھی سننے کو کوئی تیار نہیں تھا ۔یہ وہ مقام تھا جہاں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نئے حالات کے مطابق تبدیلی کی ضرورت کا احساس بڑھتا جا رہا تھا ۔دنیا بھر میں پھیلے پاکستان کے سفیر اور سفارتی عملہ صرف تنخواہیںاور مراعات وصول کرنے تک محدود تھا ۔سفیروں کا پاور ہائوس وزارت خارجہ ہوتی ہے ۔وزارت انہیں جو گائیڈ لائن دیتی ہے سفیر وہی پالیسی لے کر چلتے ہیں ۔جب وزارت خارجہ میں ہی ایڈہاک ازم ہو اورکسی مستقل پالیسی کی بجائے معاملات روزانہ کی بنیاد پر چلائے جاتے ہوں تو ایسے میں سفیر وں کو بھی دن گزارنے کی لت پڑ جا نا یقینی ہوتا ہے ۔اب وقت اور حالات نے ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی پر مجبور کیا تو تبدیلی کے اس عمل کو پر لگا کر اُڑانا چاہئے۔ہم دنیا کی معاشی ضرورتیں اور سیاسی مصلحتیں اور سوچ کے انداز نہیں بدل سکتے ۔ہم بھارت کی منڈی کا متبادل نہیں بن سکتے ،افغانستان کی طرح راہ کی گھاس نہیں بن سکتے ،ایران اور شمالی کوریا کی طرح سب کچھ بھسم کردینے کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتے مگر اپنی حیثیت اور جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کے مطابق دنیا میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔ایسا بھی نہیں کہ سارے جہان کی غلطیاں ہماری خارجہ پالیسی میں سمٹ آئی ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چند بااثر ملکوں کی عینک کا نمبر بھی بدل گیا ہے ۔

متعلقہ خبریں