یونیفارم میں ملبوس بچے

یونیفارم میں ملبوس بچے

ایک بار ہمارے ایک کولیگ پروفیسر تنویر جو تھانہ کامرس کالج سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں، سے ہم نے پوچھا تھا کہ وہ حسن کی کیا تعریف کرتے ہیں ۔ان کا جواب اتنا عجیب تھا کہ اب تک یاد رہ گیا ہے ۔ کہنے لگے کہ میرے نزدیک حسن یہ ہے کہ جب کوئی بچہ یونیفارم پہن کر سکول کی جانب گامزن ہو۔اس سے حسین نظارہ دوسرا کوئی اور نہیں ہوسکتا ۔ پروفیسر صاحب کی حسن کی اس تعریف کے بعدمیرازاویہ نگاہ بھی یکسر تبدیل ہوا ہے ۔ یونیفارم ، سکول ، کالج ، یونیورسٹی وغیرہ وہ حوالے ہیں کہ جو انسان کو انسانیت کی معراج تک لے جانے میں مددگار ہوتے ہیں ۔ یونیفارم وہ پہلازینہ ہے کہ جس میں انسان ایک ڈسپلن کے ساتھ علم کی وادی میں قدم رکھتا ہے اور اس وادی کے تمام نظارے انسان کی آنکھ پر وا ہوجاتے ہیں ۔حقائق کاایک لامتناہی سلسلہ انسانی شعور پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے ۔ علم انسان کو اس کے تما م تر تعصبات سے اوپر لے جاتا ہے اور انسان ایک شاہد کی طرح کائنات کو دیکھتا ہے ، پرکھتا ہے ، تدبر کرتا ہے اور حقیقت کی جانب سفر کرتا ہے ۔ اور حقیقت کو جانناہی تو اصل حیات ہے ۔ حقیقت سچائی ہے اور انسان علم کے بل بوتے پر اسی سچائی کی جستجو کرتا ہے ۔ اس کائنات کی سب سے بڑی سچائی اسی خالق کی ذات ہے کہ جس کے حرف کن سے فیکون کی حیات کا سلسلہ جاری وساری ہے ۔ میں جب اپنے سماج میں پھیلے ہوئے تعفن کو دیکھتا ہوں تو دکھ ہوتا کہ ہم نے اپنے تہذیبی ورثے کو کہیں کھو دیا ہے ۔ شاندار روایات کو ہم نے بھلا دیا ہے ۔ امن اور بھائی چارے میں دراڑ سی پڑگئی ہے ۔ دوسری قومیں ہم سے ترقی میں بہت آگے چلی گئی ہیں اور ہم ابھی تک روزے اور عید کے لیے ایک چاند تلاش نہیں کرپائے ۔ ہم ابھی تک فرقوں اور طبقوںمیں بٹ کر ایک ساتھ جینے کا ہنر سیکھ نہیں پائے ۔ ابھی تک ہمارے پاس بدعنوانی کو ختم کرنے کا کوئی وسیلہ ہاتھ نہیں آیا ۔ ابھی تک ہم غربت کی لکیر سے اوپر سانس لے نہیں پائے ۔یہ سب ہمارے ساتھ کیوںہوا۔ اس کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے کہ ہم تعلیم کے ناگزیر شعبے سے دور رہے ہیں ۔ تعلیم کا افضل فریضہ شعور ہے ۔ شعور ایک ایسی چیز ہے کہ جو انسان کو حقیقی معنوں میں اس قابل کرتا ہے کہ وہ چیزوں کو ان کی اصل حیثیت کے ساتھ دیکھ پائیں ۔ تیمر گرہ لوئر دیر کا علاقہ ہے ۔اپنے شہر پشاور سے رزق اٹھاکر تیمر گرہ لے گیاہے ۔ اب آنا جانا تو لگارہتا ہے ۔یہاں آکر سب سے بڑی خوشی جو ملتی ہے وہ یہاں کے تعلیمی ادارے ہیں ۔ خود گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج تیمرگرہ بجائے خود ستر کی دہائی سے تعلیم کی شمع روشن کیے ہوئے ہے ۔یہاں بہت سے پروفیسر ایسے ہیں جو اسی کالج سے ماسٹر تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہیں تعینات ہیں ۔ امسال یہاں درجن بھر فیکلٹیز میں بی ایس چار سالہ ڈگری پروگرام شروع کیا جارہاہے اور پبلک رسپانس ایسا ہے کہ حیرت ہوتی ہے ۔میرٹ بہت اونچا ۔کالج کیمپس کا ماحول ایسا کہ برقعہ اور ابایا میں ملبوس باپردہ بچیا ں بلاخوف و جھجک کیمپس میں دکھائی دیتی ہیں ۔اس کا کریڈٹ بہرحال پرنسپل ڈاکٹر نثار خان کو تو جاتا ہی ہے لیکن والدین بھی سلام کے مستحق ہیں کہ بیٹیوں کی اعلیٰ تعلیم میں سنجیدہ ہیں ۔ اسی قسم کا نظارہ صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید کے حلقہ نیابت تالاش کے کامرس کالج میں دیکھا کہ جہاںدیرینہ دوست پروفیسر محمد رفیق پرنسپل ہیں ۔ تعلیم کی تلاش میں آئی ہوئی ہماری بیٹیا ں یہاں بھی دکھائی دیتی ہیں ۔ حیرانی اس وقت ہوئی جب معلوم ہوا کہ یہاں چار ماہ کا چینی زبان سیکھنے کا کورس بھی کروایا جاتاہے ۔ رفیق کے پاس تو ہم بظاہر چائے کے لیے رکے تھے لیکن دراصل مقصد ان سے ملاقات تھا ۔تیمرگرہ کالج کے دو پروفیسر سلطان زیب باچا اور منہاج خان بھی ہمراہ تھے ۔شاید وہ ہمارا ساتھ اس لیے دے رہے تھے کہ ہم نے خوراک محل ریسٹورنٹ میں ان کی دعوت پر کچھ زیادہ ہی بدپرہیزی کرڈالی سو وہ حفظ ماتقدم کے طور پر ساتھ تھے کہیں زود خوراکی کا کوئی فوری اثر نہ ہوجائے ۔آپ پشاور سے تیمرگرہ کا سفرکرتے ہیں اور اگر وقت سکول جانے یا آنے کا ہے تو آپ کوہر موڑ پر بچے سکول کالج جاتے اور آتے دکھائی دیں گے ۔ یونیفارم والے بچے ، معصوم اور سادہ بچے ۔ جو میر ااور آپ کا مستقبل ہیں ۔ اب میں اسے حسن کیوں نہ کہوں کہ انہی طفلان مکتب نے میرا چمن آباد کرنا ہے ۔ پہاڑوں سے اتر کر ، پگڈنڈیوں پر چل کر، خُوَڑ کو عبور کرکے ، وین میں بیٹھ کر سکول پہنچنے والے یہ وطن کے بیٹے اور بیٹیاں ہمارے محسن ہیں کہ انہی کے دم سے ہمارا آنے والا کل وابستہ ہے ۔ ہمارا منطقہ جس کرب سے گزرکر یہاں تک پہنچا ہے وہ مثالی ہے کہ کوئی اور ہوتا تو ہار مان چکا ہوتا لیکن ہم جینے کی تمنا لیے ہوئے تھے اور ہم نے کل پر نظر مرکوز رکھی ۔آج جیسا تیسا گزر ہی جاتا ہے ۔کل بہرحال ہمارا روشن ہے کہ ہمارے بچے ہرروز صبح سویرے سکول کی جانب گامزن ہوتے ہیں۔سو یہ کہنے میںمجھے کوئی تامل نہیں کہ ہم جئیں گے اور سر اٹھاکر جئیں گے ۔بے شک ہمارے وسائل کم ہیں لیکن ہم بدلنا چاہتے ہیں جب بدلنے کی سوچ پیدا ہوجائے تو تبدیلی خودبخود آجاتی ہے ۔اور تبدیلی تو اب ناگزیر ہے ۔بقاء اور ارتقاء جو لازم ہوچکے ہیں ۔

متعلقہ خبریں